مذہبی فکر پر سائنس اور فلسفہ کے اثرات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر زمانہ اپنا علم  لے کر آتا ہے۔ علم حاصل کرنے کے جتنے بھی بنیادی ذرائع ہیں ان سب میں انسانی حواس کا کسی نہ کسی درجے میں عمل دخل ہوتا ہے۔ اہل علم ان ذرائع کو استعمال میں لا کر کائنات کے رازوں پر سے پردہ اٹھاتے رہے ہیں۔ تاریخ میں ایسے لوگ بہت کم ہوئے ہیں، جو مختلف ذرائع علم کے بیک وقت ماہر رہے ہوں اور انہوں نے اپنی تحقیقات میں ایک سے زیادہ حصول علم کے ذرائع کو استعمال میں بھی لایا ہو۔

لیکن ہر دور اور ہر مذہب میں ایسے ماہرین پیدا ہوتے رہے ہیں جو اپنے مذہب کو زمانے کی موجودہ سائنس اور فلسفہ کی روشنی میں بیان کرتے رہے ہیں۔ کسی بھی زمانے کی سائنسی اور فلسفیانہ فکر کو معیار عقل مان کر کسی بھی مذہب کے بنیادی عقائد اور تعلیمات کو اس زمانے کی سائنس اور فلسفہ کے مطابق اگر بیان کیا جائے تو اسے اس ”مذہب کی سائنسی یا فلسفیانہ تشکیل جدید“ کہا جاتا ہے۔

معلوم تاریخ میں ایک یہودی عالم، فلو جوڈیس پہلا شخص تھا جس نے افلاطون کے فلسفیانہ فکر کو معیار عقل مانتے ہوئے یہودیت کو اس کے ساتھ ہم آہنگ ثابت کرنے کی باقاعدہ کوشش کی۔ فلو یہودیت کو صداقت کا الہامی اور افلاطونی فلسفے کو صداقت کا عقلی ورژن سمجھتا تھا۔ فلو کی اس کاوش کو ہم ’مذہبی فکر کی فلسفیانہ تشکیل‘ کہہ سکتے ہیں۔ اس طرح فلو تاریخ فلسفہ میں مذہب کی عقلی تشکیل کے رجحان کا بانی قرار پاتا ہے۔ بعد میں جب مذہب کی عقلی تشکیل کا مسئلہ عیسائی علماء کو درپیش آیا تو انہوں نے بھی فلو کا ہی انداز اپنایا اور اس طرح تثلیث کا نظریہ وجود میں آیا۔

ٹالمی (بطلیموس 100۔ 168 ء) کا فلکیاتی ماڈل، ابن سینا ( 980۔ 1037 ء) کے زمانے کی سائنس تھی۔ بطلیموس کا تصور کائنات، جو نو آسمانوں پر مشتمل تھا اور جس کے مرکز میں زمین واقع تھی، کم و بیش 1400 سال تک سائنسی نظریہ کائنات کی حیثیت سے رائج رہا۔ ابن سینا قرآن کو صداقت کا الہامی اور فلسفہ ارسطو اور بطلیموس کے سائنسی فلکیاتی ماڈل کو صداقت کا عقلی ورشن سمجھتا تھا۔ اس طرح الفارابی اور ابن سینا نے اپنے زمانے کی سائنس اور افلاطون اور ارسطو کے فلسفیانہ نظاموں کو معیار عقل کے طور پر قبول کر کے اسلام کے مذہبی فکر کی تشکیل جدید کی تاکہ اسلام اور فلسفہ و سائنس میں مطابقت ثابت کر کے اسلام کو عقلی مذہب ثابت کیا جا سکے۔

گیلیلیو، کوپر نیکس اور کپلر کی تحقیقات سے استفادہ کرتے ہوئے نیوٹن نے 1687 ء میں اپنا تصور کائنات پیش کیا۔ نیوٹن کے تصور کائنات نے، کائنات کو ایک مشین کی طرح تصور کیا جس میں تمام واقعات قوانین فطرت کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ کائنات میں مافوق الفطرت واقعہ ممکن نہیں تھا۔ اس کے زیر اثر نیچرل ازم کے فلسفے کو فروغ حاصل ہوا۔ نیوٹن کے تصور کائنات میں خدا کا کوئی رول نہیں تھا اور نہ عبادت، دعا، التجا، مناجات، معجزات اور الوہی ایڈمنسٹریشن کی کوئی گنجائش تھی۔

جب نیوٹن کی سائنس کے وارثوں  نے ہندوستان فتح کیا اور محکوموں کے عقائد کو چیلنج کیا تو ان حالات میں سر سید احمد خان ( 1898۔ 1817 ء) زمانے کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلمانوں کی مدد اور رہنمائی کے لئے آگے بڑھے۔ نیوٹن کا میکانکی نظریہ کائنات سر سید احمد خان کے زمانے کی سائنس اور اس کے ساتھ ابھرنے والا نیچرل ازم ان کے زمانے کا فلسفہ تھا۔ سر سید احمد خان نے مسلمانوں کے عقائد کی عقلی تعبیر کر کے انہیں اپنے زمانے کے معیار عقل (فلسفہ و سائنس) کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے ”صنعت الہی“ اور ”کلام الہی“ کی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے قرآن پاک کی ایسی تعبیر کی جو نیچرل ازم سے ہم آہنگ تھی۔

وقت گزرا تو آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت نے نیوٹن کے مشینی تصور کائنات اور اس کی معیت میں پیدا ہونے والے نیچرل ازم کی جگہ لے لی۔ نیوٹن کے مطابق مکان اور زمان میں کوئی تعلق نہیں تھا جب کہ آئن سٹائن نے کہا کہ زمان، الگ حقیقت نہیں بلکہ مکان ہی کی ایک ڈائمنشن ہے۔ زمان، مطلق نہیں، بلکہ تجربہ کنندہ کے اعتبار سے اضافی ہے۔ نیوٹن کی مشینی کائنات میں بنیادی اکائیاں چیزیں تھیں جبکہ آئن سٹائن کی مکانی زمانی کائنات کی بنیادی اکائیاں واقعات تھیں۔

نیوٹن کے نزدیک کائنات ازلی جبکہ آئن سٹائن کے نزدیک حادث تھی۔ نیوٹن کے نزدیک کائنات کلوزڈ جبکہ آئن سٹائن کے نزدیک مسلسل پھیلتی ہوئی تھی۔ ایک مسلسل پھیلتی ہوئی کائنات میں کچھ بھی مستقل نہیں رہتا۔ شے ایک واقعہ بن جاتی ہے۔ مسلسل تبدیل ہوتی ہوئی حقیقت میں واقعے کو زمان کے بغیر متصور نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ سہ ابعادی کائنات کی جگہ چہار ابعادی کائنات کو تصور پیدا ہوا۔ تمام مقداریں اضافی قرار پائیں۔

نظریہ اضافیت کے بعد ایک نئے سکالر کی ضرورت تھی۔ یہاں، علام اقبال، اپنے خطبات کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ اور قرآن پاک کی نئی تعبیر کے ذریعے جدید عقلی علوم کی طرز پر ”مذہبی علم کی سائنسی تشکیل“ کا تصور پیش کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس مضمون کا مقصد ان صاحبان علم و دانش کی مساعی کی تنقیص ہرگز نہیں جنہوں نے اپنے شب وروز ”الہامی علم“ اور کسی بھی زمانے کے سائنسی اور فلسفیانہ علوم کے مابین رشتہ و تعلق کے بنیادی اصول وضع کرنے میں صرف کر دیے۔ صرف یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ جب بھی مذہب کی تشکیل جدید کے کسی نظریہ کی بنیاد اگر سائنسی اور فلسفیانہ بنیاد پر استوار کی جائے گی تو وہ صرف اس وقت تک ہی قائم رہ سکے گا جب تک یہ سائنسی اور فلسفیانہ نظریات قصہ ماضی نہیں بن جاتے۔

نوٹ: یہ مضمون ڈاکٹر عبدالحفیظ فاضلی کی کتاب ”مسلم فکر کی قرآنی جہات“ سے ماخوذ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •