کیا ہم بھی اورویل کے 1984 میں جی رہے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ عرصہ ہوا کہ جارج اورویل کا ناول پڑھنا شروع کیا۔ میری عادت رہی ہے کہ کتاب اٹھانے سے پہلے ادیب سے شناسائی پیدا کرتا ہوں۔ کبھی تھوڑی سوانح پڑھ کر تو کبھی اس کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو کھنگال کر۔ اور جارج اورویل سے شناسائی بھی کچھ مدت پہلے تب ہوئی جب ہمارے پروفیسر نے طنزیہ سیاسی ادب کے دائرے کو وسیع کرنے والے اورویل کے ناول ”اینیمل فارم“ سے روشناس کروایا۔ جو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف لڑ کر مارکس و لینن کے نظریات پر ابھر کر پھر زوال کی طرف سفر کرتے سویت یونین سے روس بنتے ملک کی داستان ہے۔

جانوروں کو انسانی خواص دے کر بنے اس ناول میں جارج اورویل نے سویت یونین کے زوال کے اسباب تلاش کیے ہیں۔ ابھی ناول ختم بھی نہ کیا تھا کے ایک استاد کا یہ جملہ کہ ”جس نے اورویل کا 1984 نہ پڑھا، مانو کہ اس نے سیاسی ادب ہی نہ پڑھا“ دل و دماغ پر حاوی ہو گیا۔ بس پھر کیا تھا، میں تھا اور 1984 کا اور میرا دن رات کا ساتھ۔ یہ ناول ایک ایسے معاشرے کا آئینہ ہے جو ایک مطلق العنان حکومت کے زیر انتظام ہے۔ جو غذائی قلت کا شکار اور ایک ایسا عسکری کلچر لیے ہوئے ہے جہاں مقتدرین کے خلاف لکھنا جرم ہے۔

یہ ناول میرے لیے ایک نئے جہاں کا پتہ معلوم ہوا۔ اور پھر رخت سفر باندھ کر اورویل کی تخلیق کردہ ڈائیسٹوپین دنیا میں پڑاؤ ڈالنے چل پڑا۔ جہاں مجھے بہت سے تجربات ہوئے بلکہ کچھ راستے تو اپنے اپنے سے معلوم ہوئے، کئی جگہ تو مجھے اورویل کی تخلیق کردہ افسانوی دنیا کی سیاسی شورش سے گزرتے یوں محسوس ہوا: ”یہ تو وہ جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے“

اس وقت کے متحدہ ہندستان کی ریاست برما میں پیدا ہونے والے ایریک بلئیر جسے ہم جارج اورویل کے قلمی نام سے جانتے ہیں کو پڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی ٹھہری کہ اورویل کی بیشتر عمر فوج میں ہسپانوی جنگ و جنگ عظیم کے تجربات لیتے اور اس دور کی سیاسی کڑیوں کو جوڑتے گزری۔ جوں جوں ناول پڑھتا گیا میرے دماغ میں اورویل کی ڈائیسٹوپین دنیا اور پاکستان کا ایک خود کار تقابلی جائزہ مرتب ہوتا گیا۔ یہ ناول کسی بھی ریاست کے نظام کو سمجھنے کے لیے کسوٹی مہیا کرتا ہے کہ آیا ایک ریاست اس نظام پر عمل پیرا ہے جس کا وہ پرچار کرتی ہے یا ایک ایسا طرز حکمرانی اپنائے ہوئے ہے جس میں سارے اختیارات فرد واحد کے ہاتھ میں ہیں۔

اورویل کا 1984 ایک ایسی دنیا کی داستان ہے جس کی ظاہری قیادت کی ڈوریں ایک بگ برادر کے ہاتھ میں ہیں۔ جہاں ذیلی قیادت تو بدلتی رہتی ہے لیکن بگ برادر اپنی جگہ سے ہلتے معلوم نہیں ہوتے۔ 1984 ایک ایسی دنیا کا سفر تھا جہاں بہت سی چیزیں ہمارے آج کے حالات سے مشابہت رکھتی ہیں۔ جہاں کم و بیش ویسا ہی خودساختہ چاکلیٹ کا بحران ہے جس کا

ہم چینی اور آٹے کے بحران کی شکل میں تجربہ کر چکے ہیں۔ جہاں ہر کوئی اس اندیشے میں کہ کل ہوں نہ ہوں، جی رہا ہے۔ جہاں ہر کوئی نقصان پہنچائے جانے کے خوف میں مبتلا ہے۔ جسے میں اپنی ایک خود تخلیق کردہ اصطلاح میں herd۔ vulnerability کہتا ہوں۔ جس کے آج کل ہم سب شکار ہیں۔ اچنبھے کی بات یہ ہے کہ میں نے اورویل کے ناول میں آئی جی سندھ سے مشابہت رکھتے کردار پائے۔ کئی ایک جگہ تو مجھے یوں معلوم ہوا کے شاید یہاں بھی وہ قانون ہے کہ جس کے تحت کبھی بھی، کوئی بھی بغیر وجہ کے اٹھایا جاسکتا ہے۔ کسی کا بھی کبھی بھی پیچھا کیا جاسکتا ہے۔

یہ تو ہمیں معلوم تھا کے مطلق العنانیت فرد واحد کی حکمرانی کا نام ہے جو اپنی متشدد شکل میں فاشسٹ نظریات کو آمرانہ لباس پہنائے بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن اورویل نے مطلق العنانیت کی ایسی تصویر کھینچی ہے جس میں ایک ان دیکھے فرد واحد کی حکومت ہے۔ جو بغیر دکھے اپنی منشا کے مطابق حکومتی کارواں کو رواں دواں رکھے ہوئے ہے۔ ماحصل یہ ہے کے مطلق العنانیت کسی بھی طرز حکمرانی میں پروان چڑھ سکتی ہے۔ وہ جمہوری پردوں کے پیچھے بیٹھ کر بھی فعال رہ سکتی ہے، اپنے گریبان میں جھانکنے کے بعد اگر پڑوس کا جائزہ لیں تو وہ ہندوتوا کا نظریہ لیے بی جے پی کی شکل میں بھی آ نظر سکتی ہے۔

اورویل کے 1984 کو پڑھ جہاں بہت سے سوالات حل ہوئے تو کئی سوالات نے جنم بھی لیا۔ جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کہیں ہم بھی 1984 میں تو نہیں رہ رہے؟ کہیں ہمارے بھی اس سوال کا جواب کہ کیا ہم اورویل کے ڈائیسٹوپیا میں جی رہے ہیں، ہاں میں تو نہیں؟ خیر مجھے اس سوال کا تو جواب نہیں ملا اگر ملا بھی ہے تو اس لیے بتانا مناسب نہیں سمجھتا کے داغ کہہ گئے :

دل میں رکھنے کی ہے بات غم عشق
اس کو ہر گز نہ برملا کہئے
یہ بات الگ ہے کہ یہاں بات غم دنیا کی ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
علی رضا جٹ کی دیگر تحریریں