دی گولڈن بک آف انڈیا: برطانوی راج کے خطابات اور جانشین خاندان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نوآبادیاتی عہد کی ہندستانی تاریخ کے نقوش آج بھی انمٹ ہیں، انگریز راج محض ایک تاریخ نہیں بلکہ سماج کے اندر سرایت کر جانے والی ایسی حقیقت ہے جس کی جڑیں سیاسی ڈھانچہ میں پیوست ہیں۔ 1858 میں بذریعہ اعلامیہ ملکہ برطانیہ نے ہندستان پر براہ راست اپنی حکومت قائم کی تو اپنے لیے 1878 میں ایمپریس آف انڈیا کے لقب کا چناؤ کیا۔ ایسی ملکہ جس نے ہندستان کی زمین پر کبھی قدم نہیں رکھا البتہ لاہور کے مال روڈ پر ملکہ کا دیوہیکل مجسمہ ضرور نصب کیا گیا جو آج بھی لاہور میوزیم میں محفوظ ہے۔ نوآبادیاتی عہد کے سماج میں، بالاتر طبقات کی حمایت حاصل کرنے اور نئے طبقات کو جنم دینے کے لیے القابات اور خطابات کا سہارا لیا گیا۔

محکمہ خارجہ کے ریکارڈ میں ایسے خطابات کی تعداد 196 ہے جو ہندستانیوں کو نوازے گئے۔ یہ خطابات مسلمانوں اور ہندوؤں کی مذہبی و لسانی شناخت کے ساتھ جوڑے گئے۔ انگریز سرکار کی جانب سے موروثیت کی بنیاد پر دیے جانے والے خطابات کی فہرست علیحدہ ہے۔ موروثی یا خاندان پر مبنی جن خاندانوں کی سرپرستی انگریز راج کے تحت ہوئی انھیں مہاراجہ، راجہ اور نواب کے خطابات سے نوازا گیا۔ اس ضمن میں نائٹ کمانڈر آف انڈین ایمپائر کا خطاب پانے والے سر روپر لیتھبرج نے 1893 میں دی گولڈن بک آف انڈیا کے عنوان سے کتاب مرتب کی۔ یہ کتاب درحقیقت اس دھرتی کے غداروں اور انگریز راج کے وفاداروں کی لوح محفوظ ہے جس میں شامل ناموں کو آج تک نہیں مٹایا جاسکے۔ مذکورہ خطابات جن ہندستانیوں یا پاکستان میں موجود خاندانوں کو نوازے گئے ان کے نام اس کتاب میں سنہری حروف میں درج ہیں۔

اس کتاب میں کچھ توصیفی خطابات ہیں، جو عقیدے سے جڑے ہیں جس میں شمشیر جنگ، فتح جنگ کا خطاب شامل ہے۔ یہ خطابات سلطنت برطانیہ کی عظمت کو قائم رکھنے کے لیے سرکار نے بجنور کے مہاراجہ اور نظام آف دکن کو نوازے۔ ہندو اشرافیہ اور چیف کو راجہ، رانی، راؤ، راول، رائے سے نوازا جاتا، ہندستانیوں کو دیے جانے والے متعدد خطابات کے ساتھ عمومی طور پر بہادر کا بھی اضافہ کیا جاتا تھا، جیسے رائے بہادر یا خان بہادر یا خان صاحب۔ اسی طرح دیوان اور سردار کا لقب بھی ہندوؤں اور مسلمانوں کو عطا کیا جاتا۔ مسلمان اشرافیہ کو انگریز وفاداری پر زیادہ تر نواب کا خطاب دیا جاتا۔ اس کے علاوہ ولی، سلطان، امیر، میر، مرزا، میاں، خان کا لقب بھی مسلمان امرا کو دیا جاتا تھا۔ سندھ اور بلوچستان میں جام کا لقب مشہور تھا۔ اگر کسی نواب یا چیف کو موروثی خطاب کے علاوہ کوئی لقب دیا جاتا تو اسے آرڈرز آف دی سٹار آف انڈیا یا انڈین ایمپائر کے زمرے میں شامل میں کیا جاتا تھا۔

فرزند خاص دولت انگلشیہ، فرزند سعادت نشان حضرت قیصر ہند، فرزند دلپذیر دولت انگلشیہ، خان زادہ، حافظ الملک (بہاولپور) ، مخلص الدولہ، راجہ، راجہ صاحب، راجہ بہادر، رستم جنگ کے خطابات بھی گولڈن بک میں شامل ہیں اور ہر خطاب کے ساتھ تفصیل بھی درج ہے۔ برطانوی سرکار کی جانب سے ہندستانیوں کو خطاب سے نوازنے کی منظوری ملکہ برطانیہ اور وائسرائے کی منظوری سے مشروط تھی۔ موروثیت پر مبنی خطاب میں ہندوؤں کے لیے راجہ اور مسلمانوں کے لیے نواب سے کم درجے کا لقب نہیں دیا جاتا تھا تاہم اس سے اونچے درجہ کے لیے راجہ بہادر اور نواب بہادر کے خطاب سے نوازا جاتا۔ ملکہ برطانیہ کی گولڈن جوبلی کے موقع پر ہندوؤں کے لیے مہامفو پھاڈیا اور مسلمانوں کے لیے شمس العلما کا خطاب جاری کیا گیا۔

یہاں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ موروثیت کو نئی نسل میں منتقل کرنے کے لیے برطانوی سرکار سند جاری کرتی، اس سند پر ملکہ برطانیہ کے دیے گئے اختیار کے تحت وائسرائے ہند کے دستخط اور ایمپائر کی مہر ثبت کی جاتی تھی۔ جانشینی کی تقریب کے وقت برطانوی سرکار جانشین کو خلعت عطا کرتی اور اس کے عوض نذرانہ وصول کیا جاتا تھا۔ بسا اوقات خلعت میں قیمتی لباس، اسلحہ، جواہرات، گھوڑا یا ہاتھی شامل ہوتا تھا، اس کے عوض نذرانہ بھی خلعت کے برابر عطا کیا جاتا۔ عمومی طور پر گورنر، لیفٹیننٹ گورنر کے دربار میں منعقدہ تقریب میں خلعت اور سند وصولی کی جاتی اور اس دربار میں سول اور ملٹری افسر مدعو بھی مدعو ہوتے او دربار میں برطانوی سرکار کی جانب سے عطا کردہ خطابات کے مطابق کرسی یا نشست مقرر ہوتی۔

سلطنت برطانیہ نے خطابات، اعزازات اور القابات کے ذریعے سے ہندستانی سماج میں مقامی اشرافیہ کو جنم دیا، بالخصوص ہندستان کی ریاستوں میں کٹھ پتلی حکمرانوں کو نوازنے کے لیے خطابات کا استعمال کیا گیا جس کے عوض ان مقامی حکمران طبقات کی حکومتوں کو تحفظ فراہم کرنے کی برطانوی ضمانت میسر آجاتی تھی۔ انیسویں صدی میں مڈل کلاس کے چنیدہ افراد کو اشرافیہ کے طبقات میں شامل کرنے کے لیے ان خطابات کا سہارا لیا گیا کیونکہ انگریزی خطاب ملنے کے لیے دربار میں مخصوص حیثیت کا تعین ہوتا تھا۔

برطانیہ نے نوآبادیاتی مقاصد کی تکمیل کے لیے مقامی ریاستوں کے حکمرانوں کو اپنا ماتحت بنایا اس کے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی کا تشکیل کردہ ریذیڈنٹ سسٹم کا استعمال کیا گیا اور اس سسٹم کے تحت حکمران طبقات کی تائید حاصل کرنے کے لیے خطابات تقسیم کیے گئے۔

یہ خطابات تقسیم کرنے کی تین بنیادی وجوہات تھیں : اول، ہندستان کے حکمران طبقات میں یہ خطابات تقسیم کرنا نئے آقاؤں (برطانوی سرکار) کے نزدیک تزویراتی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ناگزیر تھا۔ دوم، برطانوی سرکار نے مغل سلطنت کے جائز جانشین کی حیثیت سے مقامی قبولیت حاصل کرنے کی غرض سے خطابات کا آغاز کیا۔ سوم، خطابات کے ذریعے ممتاز ہندستانیوں، بالخصوص ریاستوں کے حکمرانوں کو خطابات دینے سے برطانوی راج کو تحفظ بخشنے والا وفادار طبقہ تیار ہو سکے گا۔ ان خطابات کے ذریعے برطانوی سرکار نے ہندستان میں مقامی سطح پر سیاسی اتحادی پیدا کیے۔

جنگ آزادی کے فوری بعد ، برطانوی سرکار نے مغل سلطنت کے اعزازات کو نوآبادیاتی ضروریات کے مطابق تبدیل کر دیا گیا۔ ہندستان میں آرڈرز آف شیولری یعنی تمغہ بہادری مشہور ہوا، جسے اکثر نائٹ ہڈ کہا جاتا تھا۔ نائٹ ہڈ کا خطاب دراصل قرون وسطیٰ کے انگلینڈ میں رائج تھا، یہ اس بات کی علامت تھی کہ اشرافیہ طبقے کا ایک نوجوان مکمل طور پر جنگجو بننے کے لیے تیار ہے۔ نوآبادیاتی عہد میں برطانوی سرکار نے خطابات کو معاشرتی سر بلندی اور طاقت ور افراد کو ساتھ ملانے کے لیے بہ طور ہتھیار استعمال کیا۔ وائسرائے لارڈ کیننگ نے 1861 میں آرڈر آف سٹار آف انڈین متعارف کرایا جو ممتاز ہندستانیوں کو برطانوی سرکار کی خدمات کے عوض دیا جاتا تھا۔

خطابات کی سرکاری سطح پر درجہ بندی کی گئی تھی جس میں اسٹار آف انڈیا کا سب سے اونچا مقام اور برٹش ایمپائر کو نچلے درجے پر رکھا گیا تھا۔ مزید یہ کہ کراؤن آف انڈیا کے علاوہ ہر خطاب کی تین یا اس سے زیادہ زمرہ بندیاں کی گئی تھیں۔ برطانوی سرکار کے دربار کی رسمی تقریبات میں ہندستانیوں کی فوقیت کا تعین خطاب کے نام اور زمرے کے لحاظ سے کیا جاتا تھا۔ تاہم، حکمرانوں کا معاملہ ایسا نہیں تھا، کیونکہ ان کی فوقیت پہلے ہی دوسرے معیارات کے مطابق طے تھیں، ریاستی حکمران کی اہمیت توپ خانے کی سلامی سے طے ہوتی تھی اور یہ سلامی ہر حکمران کے منصب، طاقت اور عوامی اثر و رسوخ کی بنیاد پر ہوتی۔

شاہی ریاستوں کے حکمرانوں کو انگریزی خطابات کی تقسیم کا تاریخی جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ خطابات کے وقت ایک اور عنصر نے بھی مرکزی کردار ادا کیا، اس عنصر کا سرکاری خط و کتابت میں جان بوجھ کر ذکر نہیں کیا گیا تاکہ دستاویزات کا حصہ نہ بن سکے۔ انگریز راج میں بالخصوص 1925 تا 1947 تک ہندستانی ریاستوں کے تمام حکمرانوں، ان کی بیگمات، ماؤں کو خطاب دینے کی ایک فہرست ہے جس میں مجموعی طور پر 142 اعزازات ہیں جنھیں مختلف 45 فہرستوں کے ذریعے سے اعزاز دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ ایسے حکمران موجود تھے جنہوں نے انگریزوں کے لیے مفید خدمات انجام دیں اور اس کے عوض انھیں نائٹ ہڈ دیا گیا اور ایک وقت میں خطاب دینے کی رفتار بھی بڑھ گئی۔

معاہدہ اٹلانٹک کے تحت برٹش ایمپائر پر امریکی دباؤ میں اضافہ ہوا اور اسی معاہدہ کے تحت سر ونسٹن چرچل پر نوآبادیات کے خاتمہ کے لیے امریکی دباؤ میں اضافہ ہوا۔ ہندستان کی قومی آزادی کی تحریک اور معاہدہ اٹلانٹک نے برطانوی سرکار کو ہندستان چھوڑنے پر مجبور کیا۔ اگرچہ تقسیم ہند کے بعد برطانوی راج کا باب بند ہوا تاہم اس راج کے دوران جن ہندستانی باشندوں کو وفاداریوں کے عوض خطابات سے نوازا گیا، ان خاندانوں کا شجرہ نصب گولڈن بک آف انڈیا اور چیفس آف پنجاب میں درج ہے۔ پاکستان کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ان دونوں کتابوں کا مطالعہ کر کے ملک پر قابض وزیروں کے روپ میں انگریز سرکار کے وفاداروں کو جانیں تاکہ ان کے تسلط سے نجات ملنے کی راہ ہموار ہو سکے۔
سورس: فیس بک

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •