اگلے ریاستی قتل تک خُداحافِظ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

‎پاکستان میں ہر کچھ عرصے بعد ایسا کوئی نہ کوئی سانحہ ہوتا ہے جس میں ریاست اپنے ہی بچوں کو مار دیتی ہے۔ اس میں سے کچھ سانحات میڈیا کی زینت بنتے ہیں اور بہت سے ایسے واقعات ہیں جو کہ میڈیا پر آتے ہی نہیں اور کچھ بے گناہ تاریک راہوں میں مارے جاتے ہیں، ان کی لاش کسی ویران، سنسان، سڑک پر یا کسی کھائی میں پڑی ملتی ہے۔ جو واقعات میڈیا کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ان پر چند دن سوشل اور الیکڑانک میڈیا پر شور مچتا ہے، کچھ اہلکار معطل ہوتے ہیں ان کے خلاف مقدمے درج ہوتے ہیں اور پھر کچھ عرصہ بعد جب معاملہ ٹھنڈا پڑ جاتا ہے میڈیا اور عوام کسی اور نئے سانحے کے پیچھے لگ جاتے ہیں تو یہ مجرم عدم ثبوت، کمزور شہادتوں اور جان بوجھ کر کمزور بنائے گئے کیس کی وجہ سے آرام سے چھوٹ کر کسی اور ماں کا لخت جگر چھیننے کے لئے اپنی ڈیوٹی پر واپس آ جاتے ہیں۔

‎اب تو یہ بات نوشتہ دیوار بن چکی ہے کہ یہ ملک صرف اشرافیہ کا ہے، یہ ملک شاید بنایا ہی وڈیروں، جرنیلوں اور اشرافیہ کے لئے گیا تھا، اس ملک میں جینے کا حق صرف امرا کو ہے، اگر آپ کا تعلق ایلیٹ کلاس سے ہے تو سڑک پر کھڑی ریاست کو کچل دیجئیے اور وکٹری کے نشان بناتے زندہ باد کے نعروں کے شور میں گھر جائیے، اور اگر بادل ناخواستہ میڈیا یا عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے کچھ دن آپ کو جیل میں رہنا بھی پڑے تو اس کو بھی آپ کے لئے فائیو اسٹار ہوٹل میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ لیکن کہیں بدقسمتی سے اگر آپ کا تعلق غریب عوام سے ہے، آپ مڈل کلاسیے، قانون پسند شہری ہیں، حلال کا رزق کمانے پر یقین رکھتے ہیں، محنت اور پڑھ لکھ کر اپنی تقدیر بدلنے پر اعتقاد رکھتے ہیں تو خاطر جمع رکھیے یہ ریاست آپ کو کچل دے گی۔

یقین نہیں آتا تو ماڈل ٹاؤن کی حاملہ عورتوں کی لاشوں سے شروع کیجئیے، سڑک پر رینجرز کے ہاتھوں سرفراز شاہ کی تڑپتی لاش کا مشاہدہ کیجئیے، چھوٹے چھوٹے بچوں کے سامنے ساہیوال کی سڑک پر ماں باپ کی لاوارث پڑی لاشوں کو بغور دیکھیے، جواں سال اسامہ کی خون میں لت پت پڑے جسد خاکی کا مشاہدہ کیجئیے، آپ کو یقین آ جائے گا کہ یہ ملک صرف اور صرف امرا کا ہے۔

‎کوئی بھی اس طرح کا واقعہ ہو اس میں ہمیشہ ایک چیز مشترک ملے گی کہ گولی ہمیشہ مڈل کلاس یا غریب پر ہی چلے گی، کبھی آپ نے سنا کہ کسی بڑی گاڑی والے پر، کسی لینڈ کروزر پر، نہ رکنے پر پولیس نے فائر کھول دیا ہو، کیونکہ پولیس کو پتہ ہے کہ بڑی گاڑی ایلیٹ کلاس چلاتی ہے جو اس ملک کے حکمران ہیں، جن کے لئے یہ ملک معرض وجود میں آیا تھا، اگر ان پر گولی چلائی تو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں، اسی وقت انصاف ہوگا، پورا سسٹم متحرک ہوگا اور ہم کسی کال کوٹھری میں پڑے ہوں گے اور اس کوٹھری میں سسک سسک کر مر جائیں گے۔

لیکن یہ چھوٹی گاڑیوں میں مڈل کلاسیے ہوتے ہیں جو کہ بینک سے قرض لے کر یا مشکلوں سے چند لاکھ جمع کر کے گاڑی خریدتے ہیں، یہ کیڑے مکوڑے ہوتے ہیں ان کو کہیں بھی کسی بھی بہانے کچلا اور مسلا جا سکتا ہے، کچھ دن شور مچے گا، پھر سب کچھ نارمل ہو جائے گا۔

‎اب تو یوں لگتا ہے کہ شاید ریاستی ادارے جان بوجھ کر تھوڑے تھوڑے وقفے بعد ایسا کرتے ہیں، تاکہ ان کیڑے مکوڑوں پر ان کا رعب و دبدبہ قائم رہے، اور یہ ہم ایلیٹ کلاس کے خلاف کبھی آواز نہ اٹھا سکیں۔ دہشت اور خوف کے سائے میں ہماری خدمت کرتے ہوئے زندگی بسر کریں، ہمیں اپنا خون جگر دے کر پالتے رہیں۔

‎پاکستان صرف سیاستدانوں، جرنیلوں، وڈیروں، اور اشرافیہ کا ہے اگر آپ کا ان میں سے کسی جماعت سے تعلق نہیں ہے تو پھر اگر آپ ہجرت کر سکتے ہیں تو پہلی فرصت میں ہجرت کر جائیے اگر نہیں کر سکتے تو زندہ رہنے کے لئے ان کے غلام یا مرید بن کر رہیے نہیں تو سرفراز شاہ، محمد خلیل، حیات بلوچ اور اسامہ ستی کی طرح آپ کی لاش بھی کسی ویران سڑک پر پڑی انصاف کی دہائی دے رہی ہوگی۔

‎چلیے کچھ دن شور مچاتے ہیں، سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگاتے ہیں، اخبارات میں کالم لکھتے ہیں اور پھر خاموش ہو کر کسی اگلے ریاستی قتل کا انتظار کرتے ہیں۔ اس وقت تک خدا حافظ۔ اللہ آپ کا نگہبان۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •