کوچہ جاناں والے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

واصف علی واصف صاحب نے محبوب کی جو تعریف بیان کی ہے وہ کچھ ایسی ہے کہ ہر کسی کے محبوب پہ فٹ آ جاتی ہے اور آنی بھی چاہیے کیونکہ محبوب تو محبوب ہوتا ہے۔ اس کی کج ادائی ’خامی یا کمی کسی طور بھی محسوس نہیں ہوتی یا کم از کم ناگوار نہیں گزرتی۔ جیسے بابا نور سائیں کے الفاظ کو باباجی اشفاق صاحب نے یوں کہا کہ‘ محبوب کا ناپسند بھی پسند ہوتا ہے ’۔ محبوب پہ جب زیادہ پیار آ رہا ہو تو اس کو مختلف ناموں سے پکارا جا سکتا ہے‘ جیسے دلبر ’دلربا‘ معشوق ’جاناں وغیرہ وغیرہ۔ محبت بھی کیسا عنصر ہے اس فانی دنیا میں‘ محبت کے نام پہ کئی نام رکھے جا سکتے ہیں ’محبت کے نام پہ گمنام ہوا جا سکتا ہے اور محبت کے نام پہ جان کا نذرانہ بھی دیا جا سکتا ہے۔

محبت کی حدود و قیود کا تعین کیسے کیا جا سکتا ہے؟ کیا یہ محض محبت کرنے والے کی وارفتگی پہ منحصر ہے یا اس کا کچھ دار و مدار محبوب پہ بھی ہے؟ کیا محبت کے کھیل میں آنکھیں بند کر کے چلا جا سکتا ہے یا صرف محبوب کی آواز پہ لبیک ہی کافی ہے؟ کیا محبت میں کامیابی کا معیار وصل ہی ہے یا محبوب کے ہجر میں بھی کوئی منزل پنہاں ہے؟ کیا محبت کو پانے کے لئے سب ناجائز بھی جائز بن جاتا ہے یا محبوب کے ٹھکرانے پہ بن باس لینے چلا جانا چاہیے؟ محبت کے نام پہ در در بھیک مانگنی چاہیے یا محض محبوب کا اک نظر دیکھ لینا ہی نہال کرنے کو کافی ہوتا ہے؟

محبوب ’محبوب کا بھی فرق ہوتا۔ کسی کو دید کی لذت تو کسی کو محض گلیوں کی خاک چھاننے پہ ہی معمور کیا ہوتا ہے۔ محبوب کی گلیوں میں دیوانہ وار جانے والے کوچہ جاناں والے ہی تو کہلائے جاتے ہیں۔

کوچہ جاناں کی سیر کو جانے والوں کا حال وہ خود ہی جانتے ہیں۔ کیونکہ یہ ایسی سیرگاہ ہے کہ جس میں جانے والوں کو خود کی بھی خبر نہیں رہتی ’با الفاظ دیگر کہ اس کی خبر نہ آئی جس کو خبر ہوئی۔ کوچہ جاناں کی زیارت کی سعادت پا لینا بھی کسی مقام و مرتبے سے کم نہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کوئی بھی حج بیت اللہ کر کے آنے والا ”چیچا“ اپنے نام کے ساتھ حاجی صاحب نہ لکھواتا۔ اسی کو مثال بنا لیں تو پتا مل جائے گا کہ یہ سعادت کن احباب کو‘ کن حالات میں ’کس تناظر میں اور کیسے کیسے پاپڑ بیلنے کے بعد نصیب ہوتی ہے۔ اور وہ کیسے خوش قسمت ہوں گے جو اس سفر میں محبوب کی محبت پا لیتے ہیں۔ یقیناً خوش قسمتی بھی ان کی قسمت پہ نازاں ہو گی۔

دنیا میں کوئی بھی امرشدہ عمل کسی بھی حکمت سے خالی نہیں۔ اس امر کو پورا کرنا ضروری ہے چاہے حکمت کی سمجھ آئے یا نہ آئے۔ اگر حکمت سمجھا دی جائے تو عمل پیرا ہونا آسان ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی جذبہ محبت بھی ہے ’محبوب کا ناپسند بھی اسی لئے تو پسند ہو جاتا ہے کہ دل میں محبت گھر کر جاتی ہے۔ اسی جذبے کے تحت تو کوچہ جاناں کی خاک کو بھی ہم ”خاک شفاء“ گردانتے ہیں۔

کوچہ جاناں میں رقص بسمل میں تڑپتے عشاق کا درد کیونکر کوئی جانے۔ محبوب حال سے واقف بھی ہو تو بھی زبان حال سے درد بیان کرنے کی خواہش رہتی ہے۔ ہجر میں بھٹکتے پھٹے ہوئے جسم وصل کی تاب نہ لاتے ہوئے وہیں ڈھ کے خاک راہ ہو جاتے ہیں کہ یوں ہم تربت ’دیدہ محبوب میں پائیں گے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •