ریاست مدینہ میں عام شہری کا تحفظ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریاست مدینہ کے دارالحکومت اسلام آباد میں سری نگر ہائی وے پر رات کے دو بجے اسلام آباد پولیس نے 22 سالہ معصوم لڑکے پر 22 گولیاں چلا کر قتل کر دیا۔ کیا یہی ہے وہ ریاست مدینہ ہے جس کا دعویٰ وزیراعظم عمران خان صاحب اپنی تقریروں میں کرتے ہیں؟ کیا ریاست مدینہ میں عام شہری کو یوں رات کے وقت قتل کیا جاتا تھا؟

پولیس کے بیان کے مطابق پہلے گاڑی میں سے فائرنگ کی گئی جس کے جواب میں پولیس نے 22 گولیاں چلائیں جبکہ اس معصوم کی گاڑی سے کوئی اسلحہ بھی برآمد نہ ہو سکا۔ آب عوام کی جان کے محافظ بھی اس ڈھٹائی سے جھوٹ بولنے لگے۔ پولیس کا اس بہیمانہ ظلم اور اس پر ڈھٹائی سے جھوٹ بولنا اس بات کی گواہی ہے کہ پولیس خود اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتی ہے۔ ایسی صورتحال میں کئی سوالات ذہن میں اٹھتے ہیں۔ کیا پولیس قانون سے بالاتر ہے؟ کیا احتساب صرف سیاستدان کا ہی ہونا چاہیے؟ کیا عام شہری کی جان کی کوئی قیمت نہیں؟ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ذمہ دار خود دہشت گردی کرنے لگیں تو عام آدمی کہاں جائے گا۔

‏اسلام آباد میں ہونے والا واقعے پر شفاف انکوائری ہو گی۔ حقائق عوام کے سامنے رکھیں گے۔ اور قانون کے مطابق جو بھی ذمہ دار ہوا اس پر کارروائی کی جائے گی۔ قاتل کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔ ایسے واقعات پورے معاشرے کے لئے تکلیف دہ ہیں۔ اب کچھ اس طرح کے بیانات حکومت کی جانب سے سامنے آئیں گے۔ ایسے ہی بیانات 7 سال پہلے سانحہ ماڈل ٹاؤن لاہور اور 2 سال پہلے سانحہ ساہیوال میں بے دردانہ قتل کے واقعہ کے بعد سننے کو ملے تھے مگر آج سانحہ ماڈل ٹاؤن کو 7 برس اور سانحہ ساہیوال کو 2 برس ہو گئے مگر ان ظالموں کو ان کے کیفرکردار تک نہ پہنچایا جا سکا۔ قاتل آج بھی کھلی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ ایک مشہور قول ہے ”انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہے“ ۔

ریاست مدینہ میں تو انصاف وقت پر فراہم کیا جاتا تھا۔ کیا اسی ریاست مدینہ کے نام پر اس نئے پاکستان کی بنیاد نہیں رکھی گئی تھی؟

جب بچوں کی ماں کے ساتھ معصوم بچوں کے سامنے بے دردی سے اجتماعی زیادتی کرنے والے ظالموں کو عبرت ناک سزا دینے کا کہا گیا تو کہا جاتا تھا کہ کے زیادتی کرنے والے کو سرعام لٹکانا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ کیا معصوم بچوں سے ان کے ماں باپ کا سایہ شفقت چھین لینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں؟ کیا کسی معصوم کو بغیر کسی جرم کے 22 گولیاں مار کر بے دردی سے قتل کر دینا انسانی حقوق کے خلاف نہیں؟

اگر سانحہ ماڈل ٹاؤن لاہور اور سانحہ ساہیوال کے مجرموں کو قرارواقعی سزا ملتی تو یہ سانحہ رونما نہ ہوتا۔ امید ہے کہ ریاست مدینہ کی دعویدار حکومت سانحہ ماڈل ٹاؤن اور ساہیوال کی طرح اس بار خاموش نہیں رہے گی اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ان ظالموں کو کیفرکردار تک پہنچائے گی اور ریاست مدینہ کے دعووں کا پاس رکھ لے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •