سانحہ مچھ ، لہو پکارتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لگ رہا ہے کہ یزید وقت پھر سر اٹھا اٹھا رہے ہیں۔ معمول کے مطابق بڑی بزدلی کے ساتھ اپنی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جو ظلم کر رہا ہے وہ تو ظالم ہے ہی پر وہ بھی ظلم میں برابر کے شریک ہیں جو چپ سادھ کر بیٹھے ہیں۔ جس جگہ جہاں ظلم ہو چاہے وہ مسلم پر ہو یا غیر مسلم پر آواز اٹھانا ہمارا فرض ہے مگر افسوس کہ آج ہمارے ملک میں بیٹھا مسلمان بھارت میں موجود سکھوں پر ظلم و ستم پر آواز اٹھاتا ہے لیکن وہ اپنے ملک میں بہائے جانے والے خون پر خاموش رہتا ہے۔

ایک کمیونٹی کے ساتھ دہائیوں سے ظلم و ستم ہو رہا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ہمارا معاشرہ اس وقت مردہ دل ہونے کا ثبوت فراہم کر رہا ہے۔ ہر شخص خود کو مسلمان و مرد مومن سمجھتا ہے مگر ان تمام صفات سے کوسوں دور ہے جو ایک مسلمان کا خاصہ ہونی چاہییں۔ آج ہر دوسرے بندے کو کافر کہا جا رہا ہے۔ ہر شخص کہتا ہے کہ میرا دین، میرا عقیدہ سب سے بلند و اعلیٰ ہے۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ جو بھی دین اس کے پاس ہے اس پر عمل نہیں ہے۔

جن لوگوں نے معصوم گھروں سے دور ان مزدوروں کا خون بہایا ، انہیں آخر کیوں اپنی جنت دوسرے لوگوں کے خون میں نظر آتی ہے۔ جہاں جس دین میں ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہو۔ اسی دین کے نقطۂ نظر پر بنائے جانے والے ملک میں 11 گلے کٹ جائیں پر حکمرانوں اور میڈیا کو سانپ سونگھ جائے،یہ ان کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔

آج عوام کی اس چیز سے واقفیت ہونا بے حد ضروری ہے کہ یہ ظالم لوگ کسی کے نہیں۔ ان کا مقصد ملک میں فرقہ واریت پھیلانا ہے۔ اگر آج یہ ظلم ایک کمیونٹی کے ساتھ ہوا تو کل یہ ہمارے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ان لوگوں کا مقصد ارض خدا پر فساد مچانا ہے۔ خدارا جاگیے اب ذات، رنگ، نسل اور زبان سے باہر آئیے۔ آج کے دور میں بے گناہ بہائے جانے والے خون کو اپنا خون جانیے اور آواز اٹھائیے۔جو اس ظلم پر آواز نہیں اٹھاتا تو اس کا ضمیر اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ وہ مر چکا ہے۔ مسلمان ہی وہ ہے جو ناحق بہائے جانے والے خون پر آواز اٹھائے اور جہاں تک ہو سکے معاشرے میں بھلائی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

پچھلے تمام واقعات کی طرح ان کا حل زبانی نہیں بلکہ عملی ہونا ضروری ہے۔ ہر شخص کو حکومت وقت سے یہ اپیل کرنی چاہیے کہ ان بے گناہ لوگوں کے خون کو نہ بھلایا جائے اور جو لوگ اس میں ملوث ہیں انہیں سخت سے سخت سزا دینی چاہیے۔ پاکستانی افواج کو بھی ایک بار پھر وزیرستان کی طرح بلوچستان میں بھی آپریشن کرنا چاہیے اور وہاں موجود داعش اور RAW کے ایجنٹوں کو ختم کرنا چاہیے۔ انشاء اللہ ہم امید کرتے ہیں ایسا ہی ہو گا ان تمام مظلوموں کے گھر والے اور تمام محب وطن پاکستانی ان کے ایک ایک خون کے قطرے کا حساب چاہتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ارباز رضا بھٹہ کی دیگر تحریریں