ملت ٹائمز: ایک کام یاب میڈیا ہاؤس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ملت ٹائمز نیوز پورٹل کا پانچواں سال مکمل ہونے جا رہا ہے۔ جنوری 2016 میں، حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب، امیر شریعت سادس: امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ کی شخصیت پر، عروس البلاد ممبئی میں، ادارہ دعوۃ السنۃ اور جامعۃ القاسم دار العلوم الاسلامیہ کے اشتراک سے ہونے والے سمینار میں، معروف عالم دین حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی (دامت برکاتہم) ، صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ وناظم ندوة العلماء، لکھنؤ کے ہاتھوں ”ملت ٹائمز“ کا افتتاح عمل میں آیا۔

ملت ٹائمز کے بانی وچیف ایڈیٹر مولانا شمس تبریز قاسمی کی شب و روز کی محنت، سعی وکوشش اور جدو جہد نے پھر کبھی ان کو پیچھے مڑ کر دیکھنے نہیں دیا۔ دو چار مہینے کے بعد ، ملت ٹائمز کو اردو کے ساتھ انگریزی میں بھی شروع کیا گیا۔ پھر سن 2018 ء میں، ملت ٹائمز کا ہندی ورژن بھی شروع کیا گیا۔ اس طرح یہ آن لائن سہ لسانی اخبار کی حیثیت سے اپنی خدمات پیش کر رہا ہے۔ قارئین تک ملت ٹائمز کی رسائی آسان کرنے کے لیے مولانا شمس تبریز  نے ملت ٹائمز کی پہلی سال گرہ کے موقع سے ملت ٹائمز کا موبائل ایپ، دہلی کے سینئر صحافیوں کے ہاتھوں لانچ کیا۔

ملت ٹائمز  کے بانی مولانا شمس تبریز صاحب کا دماغ بڑی تیزی سے سفر کرتا رہا۔ انھوں نے یو ٹیوب کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، جولائی 2017 میں، ملت ٹائمز  کے نام سے یوٹیوب پر ایک چینل بنایا۔ اس چینل کا افتتاح لوک سبھا ایم پی جناب بیرسٹر اسد الدین صاحب کے انٹرویو سے کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ چینل اتنا مقبول ہوا کہ اس کی دسیوں ویڈیوز  کے ناظرین کی تعداد ایک ملین سے زیادہ ہے۔ اس قلیل مدت میں اس چینل کے آٹھ لاکھ سے زیادہ سبسکرائبرز ہیں۔

اللہ پاک نے ملت ٹائمز کے چیف ایڈیٹر مولانا شمس تبریز قاسمی کو انتظامی صلاحیت سے خوب نوازا ہے۔ ملت ٹائمز کو چلانے کے لیے انھوں نے درجنوں نوجوان، باصلاحیت، حوصلہ مند، مخلص اور قومی وملی خدمات کے جذبہ سے سرشار صحافیوں کی ایک ٹیم بنا رکھی ہے۔ دہلی کے علاوہ، ممبئی، پٹنہ، کولکتہ، چینئی، لکھنو سمیت کئی شہروں اور صوبوں میں ملت ٹائمز  کے بیورو چیف موجود ہیں۔ علاوہ ازیں بہار، مہاراشٹرا، بنگال، اتر پردیش اور دہلی میں ملت ٹائمز کے علاقائی اور ضلعی نمائندے بھی ہیں۔ ملت ٹائمز کو مختلف چیلنجز کا بھی سامنا رہا مگر ملت ٹائمز کا سفر رکا نہیں بلکہ دن بہ دن تیز رفتاری اور ثابت قدمی کے ساتھ جاری رہا اور ہے۔ ”ملت نیوز نیٹ ورک پرائیویٹ لمٹیڈ“ کے نام رجسٹرڈ کمپنی کے تحت، ملت ٹائمز کی ساری سرگرمیاں ہندوستان کی راجدھانی دہلی سے چل رہی ہیں۔

”ملت ٹائمز“ کی نشریات واشاعت اور یوٹیوب چینل پر سیاسی، سماجی، ہندوستانی اقلیت، عالمی حالات اور مسلم ممالک کے مسائل پر نیوز، مضامین، انٹرویوز، گراؤنڈ رپورٹس اور فیچرز شائع کیے جاتے ہیں۔ ملت ٹائمز ان موضوعات پر زیادہ توجہ دیتا ہے جنہیں عام طور پر ”مین اسٹریم میڈیا“ نظر انداز کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملت ٹائمز کی مقبولیت دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ اس کا اردو ورژن بھارت میں سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے ۔ کئی مرتبہ ملت ٹائمز کے قارئین کی یومیہ تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تک پہنچ جاتی ہے۔

سال 2020 میں صرف پانچ دنوں میں ملت ٹائمز کے قارئین کی تعداد چھ ملین تک پہنچ گئی تھی۔ ملت ٹائمز کے یوٹیوب چینل پر دسیوں ویڈیوز کے ناظرین کی تعداد ایک ملین سے زیادہ ہے۔ فیس بک پر پانچ لاکھ سے زیادہ فالورز ہیں اور لاکھوں میں یہاں ملت ٹائمز کو دیکھا جاتا ہے ۔ فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا سائٹس پر بھی لاکھوں افراد ملت ٹائمز سے جڑے ہوئے ہیں۔

ملت ٹائمز کو بھارت کے علاوہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، برطانیہ اور امریکہ میں بھی بہت دلچسپی سے پڑھا جاتا ہے ۔ ملت ٹائمز نے کئی ایسی اسٹوریز کی ہے جو ہندوستانی حکومت، انتظامیہ، سماج، ملی تنظیموں، اہم شخصیات اور مین اسٹریم میڈیا پر اثر انداز ہوئی ہے۔ بیرون ممالک سے شائع ہونے والے اردو ویب پورٹل اور اخبارات اپنے بین الاقوامی صفحات کے لیے ہندوستان کی خبریں ملت ٹائمز کے حوالے سے شائع کرتے ہیں۔

صحافتی فرائض انجام دینے کے لیے ایک صحافی کا ایمان دار، انصاف پسند، ہر طرح کے دباؤ سے آزاد اور بے باک و نڈر ہونا نہایت ہی ضروری ہے۔ یہ اوصاف جہاں شمس تبریز صاحب میں بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں، وہیں یہ خوبیاں ملت ٹائمز سے جڑے سب نوجوان صحافیوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ بغیر کسی دباؤ اور ڈر و خوف کے ملت ٹائمز ان بنیادی مسائل کو اٹھاتا ہے جنہیں مین اسٹریم میڈیا اور ٹی وی چینلز کے ذریعہ نہیں دکھایا جاتا۔

کولکتہ کی عشرت جہاں کا تین طلاق والا وہ سچ جسے مین اسٹریم میڈیا نے یک طرفہ اور جانب دارنہ رپورٹنگ کر کے اسلام کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا اور عشرت جہاں کو ایک مظلوم خاتون کے طور پر پیش کیا لیکن ملت ٹائمز  نے اس سچ کو سب کے سامنے رکھا۔ اصل واقعہ یہ تھا کہ عشرت جہاں کو اس کے شوہر مرتضٰی انصاری نے کوئی طلاق ہی نہیں دی تھی۔ عشرت جہاں نے یہ ڈرامہ کسی اور مقصد کے حصول کے لیے اسٹیج کیا تھا۔ عشرت جہاں کا یہ کیس سپریم کورٹ میں لڑا گیا۔ پھر بھارتی پارلیمنٹ نے تین طلاق کے عدم وقوع کے حوالے سے قانون سازی بھی کی۔

سن 2018 میں سیتامڑھی میں ہوئے فرقہ وارانہ فساد میں، شر پسندوں نے 80 سالہ زین الانصاری کو قتل کر کے آگ کے حوالے کر دیا۔ اس خبر پر کسی میڈیا ہاؤس نے توجہ نہیں دی۔ سب سے پہلے یہ رپورٹ ملت ٹائمز  نے تمام ثبوتوں کے ساتھ اپنے یوٹیوب چینل اور ملت ٹائمز ہندی پورٹل پر شائع کی۔ ملت ٹائمز کی رپورٹ آنے کے بعد ، سیتامڑھی کے ایس پی نے واقعہ کا اعتراف کیا کہ 80 / سالہ زین الانصاری کو شرپسندوں نے قتل کر کے جلایا ہے۔ اس کے بعد مختلف اخبارات نے ملت ٹائمز کی اس رپورٹ کو درست مانا۔ پھر مشہور انگریزی روزنامہ ”دی انڈین ایکسپریس“ نے بھی اپنے صفحۂ اول پر یہ خبر شائع کی۔ بعد میں این ڈی ٹی وی کے صحافی جناب رویش کمار  نے بھی اپنے پرائم ٹائم میں اس حادثے کو پیش کیا۔

13 /دسمبر 2019 کو ”سی اے اے“ مخالف احتجاج کے دوران، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے طلبہ پر پولس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے۔ پھر 15 /دسمبر 2019 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے طلبہ پر دہلی پولس نے لاٹھی چارج کیا اور جامعہ کی لائبریری میں داخل ہو کر مطالعہ میں مشغول طلبہ پر حملہ کیا۔ ان واقعات کے رونما ہوتے وقت ملت ٹائمز کے صحافی نے گراؤنڈ زیرو سے براہ راست لائیو رپوٹنگ کی۔ ملت ٹائمز کے رپورٹر کو رپوٹنگ کے دوران کئی مرتبہ پولس نے روکنے اور نشانہ بنانے کی کوشش کی مگر انہوں نے صحافتی دیانتداری کے ساتھ پورے واقعات کو کور کیا۔

سی اے اے کے خلاف شاہین باغ میں ہو رہے احتجاج کو مین اسٹریم میڈیا تک پہنچانے اور اسے عام کرنے میں بھی ملت ٹائمز کا خصوصی کردار رہا۔ ملت ٹائمز نے روز اول سے ہی اس احتجاج کو کور کیا۔ ملت ٹائمز کے کیمرہ پر بولنے کے بعد کئی خواتین کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ پھر دیگر چینلز اور یوٹیوبرز  نے بھی ان تک رسائی حاصل کی۔ آج وہ خواتین سوشل ایکٹویسٹس کے طور پر سرگرم عمل ہیں۔

فروری 2020 میں دہلی کے نارتھ ایسٹ علاقے میں فرقہ وارانہ فساد ہوا۔ اس فساد کی رپورٹنگ میں بھی ملت ٹائمز  نے اہم کردار ادا کیا۔ 24، 25 اور 26 فروری کو ملت ٹائمز کے متعدد صحافیوں نے گراؤنڈ زیرو سے جا کر رپورٹنگ کی تھی۔ رپورٹنگ کے دوران ملت ٹائمز کے کیمرہ مین سے کیمرہ چھینا گیا، ملت ٹائمز کے صحافی اور کیمرہ مین پر شرپسندوں نے حملہ کیا اور ان کو تشدد کا نشانہ بنایا مگر ملت ٹائمز نے فساد کی رپورٹنگ ترک نہیں کی۔ 24 / فروری کو نیشنل میڈیا اور ٹی وی چینلز کی توجہ ”نمستے ٹرمپ“ پروگرام پر تھی اور دہلی کا نارتھ ایسٹ حصہ جل رہا۔ اس کی رپورٹنگ صرف ملت ٹائمز پر نشر ہو رہی تھی۔ پھر گھنٹوں بعد ، 25 /فروری کی صبح سے نیشنل میڈیا نے فساد کی رپورٹنگ شروع کی۔ پھر ملت ٹائمز نے ان مساجد کی بھی رپورٹ کور کی، جنہیں فساد کے دوران شر پسندوں نے نقصان پہنچایا یا منہدم کیا تھا۔

بہار کے چمپارن میں واقع ایک چھوٹے سے گاؤں کا واقعہ ہے کہ وہاں کے مسلمانوں نے مسجد کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ شرپسندوں نے مسجد کی تعمیر روک دی۔ یہ خبر ملت ٹائمز میں شائع ہوئی۔ پھر انتظامیہ حرکت میں آئی، پولیس وہاں پہنچی اور اپنی نگرانی میں مسجد کی تعمیر کا کام شروع کروایا۔

ملت ٹائمز  نے اس مختصر دورانیے میں میڈیا ہاؤس کی حیثیت سے جس طرح اپنی کارکردگی پیش کی کہ وہ آج ہماری ایک اہم ضرورت بن چکا ہے کیوں کہ آج کی تاریخ میں میڈیا کی طاقت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آج دنیا میں جس طرح حالات بدل رہے ہیں، اس میں میڈیا کا اہم کردار ہے۔ یہ مسلمانوں کی بدقسمتی ہے کہ نہ صرف ہندوستان میں  بلکہ عالمی سطح پر ان کے پاس اپنا کوئی ایسا میڈیا ہاؤس نہیں ہے جو موثر کردار ادا کرسکے، کسی اہم ایشو پر مثبت انداز میں ہمارے نظریات کو پیش کرسکے اور ہماری بھر پور ترجمانی کر سکے۔ ماضی میں کچھ لوگوں نے اجتماعی و انفرادی سطح پر ایسے میڈیا ہاؤس کی کوشش کی، جو صد فی صد آزاد اور خودمختار ہو مگر یہ کوشش بار آور نہ ہو سکی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک میڈیا ہاؤس چلانے میں جو خطیر رقم درکارہے، اسے جمع کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے ہمارا اپنا کوئی ایسا الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا نہیں ہے جس کے ذریعے ہم اپنے پیغامات کو ہر کسی تک آسانی سے پہنچا سکیں اور منفی پروپیگنڈا کا جواب دے سکیں۔

بہرحال، آج حالات بہت تیزی سے بدل رہے ہیں۔ جن کی رسائی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تک نہیں ہے، ان کے لیے سوشل میڈیا ایک بہتر متبادل ہے۔ آج اکثر لوگوں کے ہاتھوں میں اسمارٹ فون ہے۔ اس فون سے لوگ کسی نہ کسی سوشل سائٹ سے جڑے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے آج ہر کوئی اپنا پیغام آسانی سے معمولی خرچ پر لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ آپ کے پیغامات کو موثر انداز میں پیش کرنے کے لیے آپ کے پاس اچھے افراد ہوں۔ سوشل میڈیا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، بہت سے افراد اور متعدد تنظیموں نے اپنے نظریات اور افکار کو لوگوں تک آسانی سے پہنچانا شروع کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ان پر کوئی اپنی پالیسی تھوپنے والا نہیں ہے اور کوئی انھیں مجبور کرنے والا نہیں ہے۔ وہ بے باکی کے ساتھ، اپنے پیغامات عوام و خواص تک پہنچانے میں کام یاب ہیں۔

میڈیا ہاؤس کی جب بات ہو رہی ہو تو میڈیا ہاؤس کی آزادی اور اس کی پالیسی کی بات بھی ہوتی ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ آج کی تاریخ میں میڈیا اپنی طاقت کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ وہ اپنے میڈیا ہاؤس کو منفی پروپیگنڈے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ میڈیا ہاؤس یا تو کسی کارپوریٹ گھرانے کا ہے یا ان سے فروخت ہو چکا ہے۔ اب میڈیا ہاؤسز انہی موضوعات پر بات کریں گے، انہی واقعات کی رپورٹنگ کریں گے، انہی مضامین کی اشاعت کریں گے اور انہی خبروں کو چھاپیں گے جو ان کی پالیسی کے مطابق ہو، جن میں ان کا مفاد، جو ان کے آقا کے حق میں ہو۔ اگر کچھ خبریں، واقعات وغیرہ ان کی پالیسی کے مطابق نہ ہوں تو ان کو اپنے چینلز اور اخباروں میں جگہ نہیں دے سکتے۔ آج کل جن میڈیا ہاؤسز کو ہم ”گودی میڈیا“ کہہ رہے ہیں، وہ سب اپنے مفاد کو پیش نظر رکھ کر، جانبدارانہ رپورٹنگ اور منفی پروپیگنڈے میں پیش پیش ہیں۔

آمدم بر سر مطلب، ہم بات ملت ٹائمز کی کر رہے تھے۔ ملت ٹائمز نے اپنے قیام کے روز اول سے اپنے اہداف اور مقاصد کو جس ذمہ داری کے ساتھ انجام دیا ہے، وہ قابل مبارک باد ہے۔ ملت ٹائمز نے اس قلیل ترین مدت میں جو بے باکانہ صحافت کی ہے، وہ نہایت ہی قابل تعریف ہے۔ کوئی ضروری نہیں کہ ہر کوئی اس بات سے اتفاق کرے بلکہ ممکن ہے کہ کچھ لوگوں کو ملت ٹائمز کی کچھ خبروں کی اشاعت، کچھ واقعات کی رپورٹنگ، کچھ خبروں کی خبر نگاری، ہیڈنگ اور شہ سرخیوں سے اختلاف ہو۔ مگر مجموعی طور ملت ٹائمز کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ ملت ٹائمز نے کچھ ایسی خبروں اور واقعات کی رپورٹنگ اور اشاعت پر پوری توجہ دی ہے، جن کے اہم ہونے کے باوجود بھی، مین اسٹریم میڈیا نے انہیں اپنے یہاں قابل اشاعت نہیں سمجھا۔ وجہ بالکل ظاہر ہے کہ یہ ان کی پالیسی کے خلاف تھا۔

یہ ملت ٹائمز کی بڑی کامیابی ہے کہ اس مختصر سی مدت میں اس نے  بہت سے لوگوں کی توجہ حاصل کی۔ ملت ٹائمز اب ایک متبادل میڈیا ہاؤس کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ سب سے اہم اور خوش کن بات یہ ہے کہ ملت ٹائمز کو کوئی کارپوریٹ گروپ اپنے ذاتی اغراض و مقاصد کے لیے استعمال نہیں کر سکتا ہے۔ یہ ایک آزاد اور خود مختار میڈیا ہاؤس ہے، جس کی پالیسی قوم وملت کے مفاد سے متصادم نہیں ہے ؛ چنانچہ ملت ٹائمز آج ہماری ضرورت بن چکا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •