اشعار اُن کے تبصرے ہمارے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


1۔ الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
میر تقی میر

تدبیریں الٹی ہو جائیں یا الٹی ہو جائے دونوں واقعات سے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ الٹی سے بیمار بندہ شفا پاتا ہے لیکن عموماً ایسا نہیں ہوتا۔ الٹی تدبیریں ہوں تو دوا کام نہیں آتی البتہ الٹی کا علاج دوا سے ضرور ہوتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ دوائی اصلی ہو۔ میر بھی فرما رہے ہیں کہ کچھ نہ دوا نے کام کیا۔ گویا یہ اس طرف اشارہ ہے کہ آج ہی کی طرح میر کے دور میں بھی دوائی نقلی ہوا کرتی تھی۔ گویا نقلی اور جعلی دواؤں کا کاروبار نیا نہیں بہت پرانا ہے۔

یہ نقلی دوا کا ہی اثر ہے کہ بیمار دل ٹھیک نہیں ہوا اور کام تمام ہوا۔ ورنہ اگر دوائی اصلی بنی ہوتی تو یقیناً اثر کرتی، دل کا درد ٹھیک ہوتا اور کام تمام نہ ہوتا۔ ویسے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بیمار دل شخص ڈھنگ سے کوئی کام کر ہی نہیں سکتا۔ کوئی بھی کام ٹھیک ڈھنگ سے انجام دینے کے لیے تازہ اور مضبوط دل کے ساتھ ساتھ طاقت ور جسم بھی چاہیے۔ بیمار جسم اور بیمار دل سے کام نہیں بلکہ کام تمام ہی ہوتا ہے۔

2.
عہد جوانی رو رو کاٹا پیری میں لیں آنکھیں موند
یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا
میر تقی میر

افسوس ہے ایسی جوانی پر جو رو رو کاٹنی پڑے۔ خدائی سخن نے تو زندگی کے حسین و جمیل اور سنہرے دور یعنی بچپن کو سرے سے ہی حذف کر دیا اور سیدھے جوانی میں رونے لگ گئے۔ بچپن کے وہ حسین لمحات پالنے میں جھولنے سے  لے کر توتلی زبان میں بات کرنے تک، معصومیت سے بھرے کھیل کھیلنا، غموں اور فکروں سے آزاد زندگی، کسی چیز کے لیے مچل جانا، کلکاریوں سے لے کر کسی ضد کے پیچھے رونا دھونا، ان سب لمحات اور معاملات کو نظر انداز تو نہیں کرنا چاہیے تھا۔

خیر جوانی بھی دیوانی ہوتی ہے ، اس میں بھی ایسی کیا افتاد پڑی کہ رونا پڑ گیا۔ ایسا بھی بھری جوانی میں کیا خطرناک روگ لگانے پڑے کہ ہونٹوں سے ہنسی ہی غائب ہو جائے۔ کچھ نہ کچھ سنگین ہی ہو گا ورنہ عہد جوانی کون رو رو کاٹتا ہے۔ ترتیب یہ ہے کہ انسان پیدا ہوتا ہے اس کا بچپن آتا ہے، لڑکپن کی دہلیز پار کرتا ہے، جوان ہوتا ہے، ظالم بڑھاپا آتا ہے اور آنکھیں موند کر اس دنیا کو خیرباد کہتا ہے۔ قاعدہ یہ نہیں کہ کوئی بوڑھا انسان جوان ہوا پھر اس کا لڑکپن آیا اور پھر بچپن، گویا یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ بڑھاپے میں ہی آنکھیں بند کرنے کا وقت آتا ہے۔ کوئی کوئی بد نصیب ہوتا ہے جو بچپن میں فوت ہوتا ہے یا جوان مرگ ہوتا ہے۔

رات کو دیر سے سونے والے یا نہ سونے والے دن کو بھی نہ سوئیں تو بیمار ہو جائیں گے۔ پہلے تو رات کو نہیں جاگنا چاہیے، رات آرام کے لیے بنی ہے۔ آرام کرنا چاہیے، فضول میں الو کی طرح جاگنا کس لیے۔ یہ حقیقت ہے کہ جو رات کو دیر تک جاگتے ہیں وہ صبح دیر سے اٹھتے ہیں۔ زندگی میں یہ اصول اپنانا چاہیے کہ رات کو جلدی سونا اور صبح جلدی اٹھنا چاہیے تاکہ صبح دیگر کام انجام دیے جا سکیں۔

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
احمد فراز

پہلی بات تو یہ ہے کہ سنی سنائی باتوں میں یقین اور بھروسا کم ہی کرنا چاہیے۔ کیا پتا جو بات سنی ہے وہ سچ ہے یا محض افواہ۔ سنا ہی تو ہے دیکھا تو نہیں۔ یہاں بعض آنکھوں دیکھی چیزیں بھی جھوٹ نکل آتی ہے۔ کچھ حرکات محض نظر کو فریب دینے اور دوسروں کا دھیان اپنی اور کھینچنے کے لیے بھی کی جاتی ہیں۔ لوگ آنکھ بھر کر ہی دیکھتے ہیں اس میں حیران ہونی کی کیا ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے اس کے جسم میں کوئی نقص ہو جب ہی لوگ اس کی طرف بڑی توجہ سے دیکھتے ہیں۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کو اکثر لوگ آنکھ بھر کر ہی دیکھتے ہیں جو کسی لحاظ سے شکستہ ہوں۔ ہو سکتا ہے اس میں بھی کوئی کمی ہو جب ہی تو لوگ آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں۔ امکان یہ بھی ہے کہ لوگ ہمدردی کا اظہار کر رہے ہوں اور ہمدردی کی نگاہ سے ہی اسے دیکھتے ہوں۔ رہی بات اس کے شہر میں ٹھہرنے کی یا قیام کرنے کی۔ حضور یہ سب کے علم میں ہے کہ بنا کام کے کوئی کسی شہر میں نہیں جاتا۔ انجانی جگہ پر ٹھہرنا خطرے سے خالی نہیں۔ ویسے بھی شہروں میں چور و چکاری، لوٹ مار اور قتل و غارت گری ہوتی رہتی ہے۔ دانائی اسی میں ہے کہ انجان شہر میں ٹھہرنا نہیں چاہیے ہاں اگر کوئی جان پہچان والا شہر میں موجود ہو تب کوئی مضائقہ نہیں۔

سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں
احمد فراز

ہر انسان کو کسی نہ کسی کام سے شغف ہوتا ہے۔ شعر و شاعری سے بھی ہو سکتا ہے۔ کسی کو مطالعے کا شوق ہوتا ہے تو کوئی سیر و تفریح سے حظ اٹھاتا ہے۔ کوئی تنہا اور گوشہ نشیں ہو کر سکون سے رہتا ہے تو کسی کو بزم طرب پسند ہے۔ اپنے اپنے شوق اور اپنی اپنی پسند ہے۔ ایک کی پسند دوسرے کی ناپسندیدگی ہو سکتی ہے۔ جس طرح پسند الگ الگ ہے اسی طرح ہنر بھی الگ قسم کے ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ ہنر  کے معجزے دیکھنے آیا ہو۔ اس کو ہنر کے معجزوں کو دیکھنے کے سوا اور کام بھی ہو سکتے ہیں۔

آخر انسان اپنے مشغلوں میں مصروف بھی تو ہو سکتا ہے۔ البتہ اگر اپنے ہنر کے معجزے خود ہی بند کمرے میں دیکھنے ہوں تو کوئی بڑا مسئلہ نہیں، دوسرے مصروف ہو سکتے ہیں اور ہمیں کسی کی مصروفیت اور تخلیہ کو خراب کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ اپنے ہنر کو خود پرکھے اور دیکھے۔ جب اطمینان ہو جائے کہ ہمارا ہنر اب پختہ ہو گیا ہے اور اس لائق ہے کہ ہم یہ دوسروں کو دکھا سکیں تو پھر دوسروں کے سامنے اپنے ہنر کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

5.
سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں
احمد فراز

جھوٹ کی عمر لمبی نہیں ہوتی۔ یہ سراسر بہتان ہے کہ کسی کو خراب حالوں سے ربط ہو سکتا ہے، خراب حالوں سے ہمدردی ہو سکتی ہے۔ ان کی حالت غیر کو دیکھ کر ترس آ سکتا ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ امیر کی ہم آہنگی امیر سے اور بدحال کے مراسم بدحال سے ہوتے ہیں۔ ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا ہے کہ امیر اور غریب میں دوستی ہو اور وہ قائم بھی رہے۔ کوئی دیوانہ اور جنونی خود کو برباد کرنا چاہیے تو کرے لیکن یہ ہرگز جائز نہیں کہ وہ یہ حماقت کرنے کے بعد کسی اور کے سر یہ الزام لگائے کہ میں اس کے لیے برباد ہوا کیونکہ اس کو برباد لوگ اچھے لگتے ہیں۔

تباہ و برباد لوگوں کو دیکھ کر ہمدردی اور ان سے عبرت لی جا سکتی ہے،  ان کی بربادی اور تباہ حالی کی وجہ جان کر۔ خود کو برباد کرنے کے بہت سارے طریقے ہیں، کوئی نشے کی لت میں پڑ کر برباد ہوتا ہے تو کسی کو شرط بازی لے ڈوبتی ہے۔ پتا نہیں شاعر کے ذہن میں خود کو برباد کرنے کا کون سا طریقہ گھوم رہا ہے۔ بہرحال یہ فراز کا شعر ہے تو یقیناً باد و جام کا طریقہ ہی اپنانے کا سوچا ہوگا۔ مے میں ڈوب کر بڑے بڑے سورما تباہ اور خراب حال ہوئے ہیں۔

6.
ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
غالبؔ

کمال ہے کوئی شخص مرنے کے بعد کیسے یہ دیکھ اور جان سکتا ہے کہ وہ رسوا ہوا ہے۔ جاں بر شخص رسوا ہو جائے اور وہ اپنے ہوش و حواس میں ہو تو اس کو علم ہوتا ہے کہ وہ رسوا ہو رہا ہے۔ جان بحق شخص کے جسم پر مرنے کے بعد کیا کچھ بیتی ہے ، اس کا علم اسے نہیں ہوتا۔ لوگ تو پناہ مانگتے ہیں ایسے مرنے سے جس میں گھر والوں کو لاش نہیں ملتی۔ جس کو کفنانے کے بعد وہ دفنا نہ سکیں، یہاں غرق دریا ہونے کی خواہش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اپنے عزیز کی قبر پسماندگان کے لیے تحفہ ہے۔ جب عزیز و اقارب جنازے میں شامل ہوتے ہیں تو نہ صرف مرنے والے کے لیے ایصال ثواب کی دعا کرتے ہیں بلکہ خود ان کا غم بھی جنازہ پڑھ کر ہلکا اور کم ہو جاتا ہے۔ اب جب جنازہ اور مزار ہی نہ ہو تو نہ ہی مرنے والے کے لیے یہ کوئی اچھا ہے اور نہ لواحقین کے لیے کوئی خوش کن۔ مرنا تو ہر ایک کو ہے اس کا مرنا افضل ہے جس کو مرنے کے بعد غسل دیا جائے، جنازہ پڑھا جائے اور گھر والوں اور عزیز و اقارب کی موجودگی میں دفنایا جائے۔

گویا مزار ہونا کسی رحمت سے کم نہیں۔ پتا نہیں مزرا کو ایسا کون سا صدمہ پہنچا کہ وہ یہ خواہش کر رہے ہیں کہ جنازہ اور مزار نہیں ہونا چاہیے۔ ایسا لگتا ہے مرزا جب یہ خواہش کر رہے تھے اس وقت شاید وہ اور ہی سوچوں میں گم اور مگن رہے ہوں گے ورنہ مرزا جیسا عاقل اور دانا شخص ہرگز ایسی خواہش کا اظہار نہ کر سکتا۔

تمہارے پیامی نے سب راز کھولا

خطا اس میں بندے کی سرکار کیا تھی
علامہ اقبال

مشہور ہے کہ گھر کا بھیدی ہی لنکا ڈھاتا ہے۔ راز داں ہی راز افشا کرتا ہے ، بے چارہ انجان شخص راز و نیاز کے بارے میں کیا جانے اور اس کو ان باتوں کا کیا علم۔ وہ تو ہر راز سے بے خبر ہوتا ہے۔ جان پہچان والا ہی ہر راز سے واقف ہوتا ہے۔ وہ مشورے دیتا ہے، آگے کا لائحہ عمل بتاتا ہے۔ کبھی کبھار پیامی بن کر پیغام پہنچاتا ہے۔ کچھ تو من و عن وہی پیغام آگے دیتے ہیں جو ان سے کہا جائے لیکن کچھ سندیس میں نون مرچ کا تڑکا لگا کر آگے بیان کرتے ہیں۔

پیامی بھروسا مند ہوتا ہے اور اس کو بھروسا مند ہی رہنا چاہیے۔ جو بھی راز اس کے علم میں ہو اس کو اپنے سینے میں دفن کرنا چاہیے۔ پیامی کو چاہیے کہ ایک کے راز دوسروں کو نہ بتاتا پھرے۔ راز بتا کر نہ صرف اپنا وقار کھو دیتا ہے بلکہ اس شخص کے بھروسے کو بھی توڑ دیتا ہے جو اس پر اعتماد کرتا ہے۔ خطا وار کوئی بھی ہو سکتا ہے لیکن نہ بندے کی خطا ہے نہ فرد کی۔ خطا سرکار کی ہی ہے۔ عوام تو بھولی بھالی ہے۔ جو کچھ کرتی ہے سرکار ہی کرتی ہے۔ سب کچھ کر کے اور سارا کچھ کھا کے سرکار ڈکار تک نہیں لیتی۔ پہلے زمانے میں سرکار گاؤں کو بے وقوف بناتا تھا اور خود ٹھاٹ سے رہتا تھا اب تو سرکار ملک کو بے وقوف بنا کر ٹھاٹ سے رہتے اور موج کرتے ہیں۔

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
غالب

خلد سے آدم کا نکلنا ہم اور آپ سنتے آئے ہیں۔ آدم کو کیوں نکالا گیا یہ قصہ آپ بھی جانتے ہیں اور میں نے بھی سن رکھا ہے لیکن غالب کو بے آبرو کر کے کوچے سے کیوں نکالا گیا۔ کسی کوچے سے، علاقے سے، شہر سے، ملک سے کسی کو کیوں نکالا جاتا ہے۔ جب تک اس شخص مذکور  نے کوئی ایسی خطا، غلطی نہ کی ہوگی تب تک بھلا کیوں کسی کو کوچے سے بے آبرو ہو کر نکالا جائے۔ مرزا غالب کو بے آبرو کر  کے کوچے سے اس لیے نکالا گیا ہوگا کیونکہ اس نے چوری کی ہو گی۔

چور کو ہی بے عزت کر کے نکالا جاتا ہے۔ یہ بھی امکان ہے کہ اس گلی کے باسیوں کی بہو بیٹیوں کو نگاہ بد سے دیکھا ہو گا۔ ان کے ساتھ بدتمیزی کی ہوگی۔ ان کے ساتھ بد اخلاقی اور غیر مہذب طریقے سے پیش آیا ہو گا۔ ان کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کیے ہوں گے۔ جب ہی تو اس گلی سے بے آبرو ہو کر نکالا گیا۔ آج تک کسی بھی مہذب انسان کو کسی گلی، علاقے، شہر سے بے آبرو ہو کر نہیں نکالا گیا۔ مجرم، گناہ گار، بد کردار، خطاوار کو ہی بے آبرو کر کے نکالا جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •