پنجاب پبلک سروس کمیشن کا اسکینڈل اور ہمارا اجتماعی زوال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چینی کہاوت ہے کہ مچھلی ہمیشہ سر سے گلنا (خراب ) شروع ہوتی ہے اور دم تک گلتی چلی جاتی ہے۔ بعینہ یہ کہاوت معاشروں پر بھی صادق آ تی ہے۔ معاشروں میں زوال پذیری کا عمل بالائی سطح سے یعنی صاحبان اقتدار سے شروع ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ نچلی سطح یعنی عوام تک پہنچتا ہے۔ بدقسمتی سے مملکت خداداد پاکستان میں یہ زوال نچلی سطح تک پہنچ چکا ہے۔ زوال کی ان گنت وجوہات میں سے لاقانونیت، نا انصافی اور کرپشن بنیادی وجہ قرار پاتی ہے۔

کوئی دن نہیں گزرتا ہے جب پاکستانی عوام لاقانونیت، نا انصافی اور کرپشن کی عجب اور غضب کہانی سے روشناس نہیں ہوتے۔ اگرچہ ایسی کہانیاں سن سن کر اور دیکھ دیکھ کر سماعتیں بہری اور بصارتیں اندھی ہو چکی ہیں لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ بھرم قائم اور اعتماد باقی تھا۔ اس کے باوجود ایسی کہانیاں منظر عام پر آتی ہیں جو سماعتوں اور بصارتوں پر بجلی بن کر گرتی ہیں اور دل کی دنیا کو اتھل پتھل کر کے رکھ دیتی ہیں اور دل بے قرار ہو کر پکار اٹھتا ہے۔

ایسے ٹوٹا ہے تمناؤں کا پندار کہ بس!
دل نے جھیلے ہیں محبت میں وہ آزار کہ بس!

ایک جھونکے میں زمانے میرے ہاتھوں سے گئے
اس قدر تیز تھی وقت کی رفتار کہ بس!
(محسن نقوی)

جی ہاں! ایسی ہی اک کہانی 2 جنوری 2021 کی صبح منظر عام پہ آئی جب میڈیا پر محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب کی کارروائی کی خبر چلی کہ اینٹی کرپشن  نے پی پی ایس سی (PPSC) کے ریکروٹمنٹ ٹیسٹ کے عملہ کی ملی بھگت سے چوری کر کے سوالیہ پیپرز بیچنے والا گروہ پکڑ لیا۔ یہ خبر سن کر بے اختیار شوق بہرائچی کا شعر زبان پہ جاری ہو گیا:

برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا

پنجاب پبلک سروس کمیشن جس کے ذریعے گزیٹڈ پوسٹوں پر اہل افراد کو ایک قابل اعتماد اور رازدارانہ عمل سے گزار کر ریکروٹ کیا جاتا ہے ۔ اس ادارے کا قیام 1937 میں برطانوی دور حکومت عمل میں آیا ، موجودہ شکل میں یہ پنجاب پبلک سروس کمیشن آرڈیننس 1978 اور پنجاب پبلک سروس کمیشن (فنکشنز) رولز 1979 کے تحت کام کرتا ہے۔ اس کا مشن میرٹ پر مبنی، شفاف اور تیز رفتار عمل کے ذریعے موزوں امیدواروں کا انتخاب کر کے ان کی بھرتی کی متعلقہ محکمہ کو سفارش کرنا ہے تاکہ پنجاب پبلک سروس میں عمدگی، پیشہ وارانہ لیاقت اور مہارت کو فروغ دیا جا سکے۔ اس ادارے کے مقاصد درج ذیل ہیں :

1۔ ماہر، لائق، پیشہ ور اور متحرک پبلک سروس قائم کرنا تاکہ اکیسویں صدی کے چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔

2۔ کسی خوف یا رعایت کے بغیر کام کرتے ہوئے عمل کی آ زادی، سیاسی غیر جانبداری، جواب دہی اور ایمان داری کو یقینی بنانا۔

3۔ معیارات، پالیسیز، رہنما اصولوں اور قوانین کو بھرتی عمل کے دوران برقرار رکھنا۔

4۔ قوانین پر مبنی انتخابی جانچ اور طریق عمل کو ترتیب دینا اور نافذ کرنا تاکہ تمام امیدواروں کو یکساں اور شفاف مواقع کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

5۔ گورنمنٹ کے ساتھ پالیسیز، بھرتی کے طریقہ کار، انتخابی جانچ اور طریق عمل پر مشاورت کرنا تاکہ مفید بھرتی کا عمل یقینی بنایا جا سکے اور مختلف عہدوں کے لیے ممکنہ بہترین افرادی قوت کو متوجہ کیا جا سکے۔

پنجاب پبلک سروس کمیشن تحریری امتحان اور انٹرویو کے ذریعے مختلف سرکاری و نیم سرکاری محکموں میں نئی بھرتی کا عمل مکمل کر کے اہل امیدواروں کی بھرتی کی سفارش کرتا ہے۔

پنجاب پبلک سروس کمیشن کے قیام، مشن اور مقاصد کی جانچ کاری سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ ادارہ انتہائی اہم اور حساس کام کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ اس کا کام حکومتی امور کی انجام دہی کے لیے اہل ترین، باصلاحیت اور ایماندار افراد کا چناؤ کرنا، برق رفتار ترقی کے دور میں قومی ناؤ کو ناخداؤں کے سپرد کرنے سے پہلے ان کی جانچ پرکھ کرنا، قومی سلامتی کے امور کی نگہبانی کے لیے رکھوالوں کی نامزدگی کرنا، اکیسیویں صدی کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے اہل افراد کا چناؤ  اور عوامی خدمت کے لیے خدمت گاروں کی بھرتی کرنا ہے، اب تو اس ادارے کی اپنی ساکھ داؤ پر لگ چکی ہے۔ یہاں تو منظر ہی کچھ اور ہے۔

وہ تو رہزن کے بھی رہزن نکلے
ہم تو سمجھے تھے کہ رہبر آئے
(انجنا سندھیر)

اس سکینڈل میں جو دن بہ دن پیش رفت ہو رہی ہے ، اس سے ہوش ربا انکشافات کا سلسلہ جاری ہے۔ چار رکنی گروہ بڑھ کر گیارہ رکنی ہو چکا ہے۔ یہ صورتحال دیکھتے ہوئے مجھے غلام ہمدانی مصحفی یاد آ رہے ہیں:

مصحفی ہم تو سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم
تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

اس سکینڈل کے منظر عام پر آ نے پہلے ہی بہت واویلا مچا ہوا تھا۔ امیدواران سراپا احتجاج تھے۔ چند دن قبل ہی چیئرمین پی پی ایس سی لیفٹیننٹ جنرل (ر) مقصود احمد نے بہت اعتماد کے ساتھ اپنے ادارے میں چیک اینڈ بیلنس اور فول پروف انتظامات کا دعویٰ کیا تھا جس کی قلعی چند دن بعد ہی کھل گئی اور قوم  نے جان لیا کہ اس ادارے کا ایک معمولی اہلکار تحریری ٹیسٹ کو فلیش میں لے جا کر لاکھوں میں بیچ رہا ہے اور کسی کو خبر تک نہیں۔ نہ پاس ورڈ نہ سیکورٹی الارم۔ یہ ہے چیک (بنک کا چیک) اور بیلنس (بینک بیلنس) ۔ یہ ہیں فول پروف انتظامات۔ اینٹی کرپشن کے انسپکٹر کی بھرتی کا پیپر بھی بک رہا ہے۔ جنھوں نے کرپشن روکنا تھی وہی نوکریاں خرید کر  لے رہے ہیں۔

اس سکینڈل کے بعد تو دل خون کے آ نسو رو رہا ہے۔ دل سے یہی صدا نکل رہی ہے۔ اے اللہ ہم بحیثیت قوم اندھی کھائی میں گرتے چلے جا رہے ہیں بلکہ اتھاہ گہرائیوں میں گر چکے ہیں۔

زوال عصر ہے کوفے میں اور گداگر ہیں
کھلا نہیں کوئی در، باب التجا کے سوا
منیر نیازی

ایسے میں یہ بات کہنی تو نہیں چاہیے کیونکہ ہمارا ماضی انکوائری کمیشنوں، جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیموں (جے آئے ٹی) کی تشکیل سے بھرا ہوا ہے مگر نتیجہ صفر۔ لیاقت علی خان قتل کیس سے  لے کر موجودہ جے آئی ٹی کی تشکیل تک ہزاروں کیس ہیں جو فائلوں میں دب گئے۔ انکوائری رپورٹیں ڈسٹ بنوں کی نذر ہو گئیں لیکن پھر بھی ”حق بات ہی کہیں گے سر دار دیکھنا“ کے مصداق کہے دیتا ہوں کہ خدارا اس معاملے کی انکوائری کو داخل دفتر نہ کیا جائے۔سرخ فیتے کی نذر نہ کیا جائے اور نہ ہی قربانی کے بکروں کو بلی چڑھایا جائے کیونکہ اس واقعہ سے میرے صوبے کے کروڑوں نوجوانوں کا مستقبل وابستہ ہے۔ ان کا بھی جنھوں نے اس ادارے کے ذریعے اہم ملکی و صوبائی عہدوں پر براجمان ہونا ہے اور ان کا بھی جو اس ادارے کے بھرتی عمل سے گزر چکے ہیں کیونکہ جہاں آ نے والوں کا اعتماد مجروح ہوا ہے وہیں گزرنے والوں کی ساکھ بھی داؤ پر لگ گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •