تقلیدی مذہب کے مسائل کیا ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ولیم جیمز کی کتاب Varieties of Religious Experience کا اردو ترجمہ کالم کا موضوع ہے۔ ترجمہ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم مرحوم نے کیا تھا جس کی طباعت اول 1958ء میں ہوئی تھی اور سوئم کا اہتمام بھی حال ہی میں مجلس ترقی ادب نے کیا ہے۔ ولیم جیمز ایک ماہر نفسیات اور فلسفی تھا۔ لیکن شہرت اسے نتائجیت pragmatism  کے بانی کی حیثیت سے حاصل ہوئی اور امریکی فلسفے کی شناخت بنا۔ ولیم جیمز سے میرا تعارف آج سے تقریباً پچیس سال قبل اس وقت ہوا جب ڈاکٹر غلام جیانی برق کی کتاب ”من کی دنیا“ پڑھی جو روحانیت اور نفسیات کے حوالے سے خاصے کی چیز ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے من کی دنیا میں متعدد مقامات پر ولیم جمیز کی مذکورہ کتاب کے حوالے دیے ہیں۔

من کی دنیا میں وجد و کیف کے باب میں ڈاکٹر صاحب ولیم جمیز کا ایک اقتباس نقل کرتے ہیں کہ ”میں یوں محسوس کرتا ہوں کہ اس دنیا سے پرے بھی ایک دنیا ہے۔ جس کی سرحدیں اس مادی دنیا سے ملی ہوئی ہیں۔ ہمارے بلند مقاصد، تحریکات وہیں سے آتی ہیں۔ ہماری زندگی اسی سے متاثر ہوتی ہے اور یہ تاثر ہمارے اعمال و افکار میں عظیم انقلاب پیدا کر دیتا ہے۔ مذاہب اس فوق الفطرت سرچشمہ قوت کو خدا کہتے ہیں۔ خدا ایک ایسی ہستی ہے جو ہمارے اعمال پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر آسمانوں پر کوئی ایسا خدا بھی موجود ہے جو ہمارے شخصی معاملات سے بے نیاز ہے تو وہ بے کار محض ہے اور ہمیں اس کی قطعاً ضرورت نہیں ہے“ ۔

اس اقتباس کی تشریح میں ڈاکٹر برق لکھتے ہیں کہ خدا سے رابطہ کرنے اور اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دینے کے بعد دل میں آسمانی سکون پیدا ہو جاتا ہے۔

علامہ اقبال نے بھی اپنے خطبات میں ولیم جیمز کی نتائجیت اور نفسیات کے مطالعے پر نقد کی بجائے مشاہدہ باطن اور مذہبی واردات کے حوالے سے پذیرائی دی ہے۔ ولیم جیمز کو روحانی نفسیات کا امام بھی کہا جاتا ہے۔ ولیم جیمز صوفی تھے نہ عقائد کے اعتبار سے وہ کسی مذہب سے متعلق تھے۔ انہوں نے خالی الذہن ہو کر روحانیت کا مطالعہ کیا اور کچھ ایسے غیر معمولی انکشافات اور نتائج اخذ کیے جن کا مجموعہ یہ کتاب ہے۔ ولیم کی یہ کتاب روحانی شعور کی تحقیق کے حوالے سے ایک شاندار تصنیف ہے۔

جو افراد روحانیت سے شغف رکھتے ہیں وہ اب بات سے بہ خوبی آگاہ ہیں کہ روحانی تجربات، کشف اور کرامات کا کسی ایک مذہب سے تعلق نہیں ہے۔ ہندوؤں اورعیسائیوں میں اس حوالے سے وسیع ذخیرہ موجود ہے اور ہمارے مسلمانوں کے ہاں بھی اولیاء کے تذکروں میں اس حوالے سے بے شمار واقعات موجود ہوتے ہیں۔ تذکرہ غوثیہ اس کی صرف ایک مثال ہے۔ اس حوالے اسے ایک مکتب فکر ایسا بھی پیدا ہوا جس نے ان روحانی واقعات کو نفسیاتی مرض قرار دے دیا اور کشف و کرامات کو جنون کی وہ قسم قرار دیا جو جگر، معدہ یا دل و دماغ میں کسی خللل سے وجود پاتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقیت ہے کہ اکابر صوفیا اس کا بخوبی ادراک رکھتے تھے کہ کون سا کشف عطیہ خداوندی ہے اور کون سا خیال فتنہ شیطانی ہے۔

ولیم  نے دو بنیادی سوالات اٹھائے،  ایک یہ کہ مذہبی میلانات کیا ہیں؟ اور دوسرا یہ کہ ان کی فلسفیانہ اہمیت کیا ہے؟ ان سوالات کے جوابات کی انہوں نے منطقی اور مذہبی لحاظ سے درجہ بندی کی ہے لیکن اس باب میں ولیم کا زیادہ مطالعہ اور تحقیق عیسائیت اور امریکہ و یورپ کے فلسفیوں سے متعلق رہی ہے۔ ولیم بتاتے ہیں کہ جو لوگ یکسو ہو کر مذہبی زندگی بسر کرتے ہیں اور انہماک کے ساتھ مذہبی شعائر و رسومات کو ادا کرتے ہیں، وہ مذہب کو روایات سے اخذ کرتے ہیں اور ایسوں کے نزدیک ایک پکی پکائی روٹی ہے جو تیار کھانے کو مل جاتی ہے۔

یہ تقلیدی مذہب ان کی زندگیوں میں کوئی طوفان برپا نہیں کرتا لیکن وہ لوگ جو مذہبی وجدان کے سرچشموں کی تلاش میں رہتے ہیں وہ روحانی اضطراب اور جستجو میں رہتے ہیں۔ یعنی بعض لوگ تسلیم و رضا میں زندگی بسر کرتے ہیں اور بعض ناممکنات کو معرض وجود میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جیسا کہ عرض کیا ہے ولیم نے اس کتاب میں عیسائیت اور مغرب کو سامنے رکھا ہے تو تقلیدی مذہب پر نقد کرتے ہوئے وہ جارج فوکس کی مثال دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس نے جس مذہب کی بنیاد ڈالی وہ اس سچائی اور باطنی روحانیت کا پیغام تھا اور اس عیسوی مذہب کی ابتدائی جانب پیش قدمی تھی جس کی مثال اس سے پہلے انگلستان میں نہیں ملتی تھی۔

فوکس نے اگرچہ ایک وسیع حلقے کو متاثر کیا لیکن اس کے ساتھ ہی نفسیاتی اور اعصابی امراض میں بھی مبتلا نظر آتا ہے جس کا اندازہ اس کے روزنامچوں کے مندرجات سے ہوتا ہے۔ خود ولیم نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ جو نتائج فکر اس نے بیان کیے ہیں وہ تقاضا کرتے ہیں کہ انھیں مزید شرح و بسط کے ساتھ بیان کیا جانا چاہیے۔

یہ تو تھی ایک ایسے ماہر نفسیات کی فکر جس کے سامنے مغرب کا اکثریتی مذہب اور مغرب کی سماجی تاریخ و حالت۔ اسلامی معاشرہ جن اقدار کا تقاضا کرتا ہے وہ اعلیٰ اخلاقی اقدار ہیں، جن کی نمو اسی صورت میں ممکن ہے کہ انسان شعوری طور پر نفس کی منفی خواہشات سے نجات پاکر تزکیہ پائے۔ اسلام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے سامنے خاتم النبین ﷺ کی سیرت مبارکہ کی صورت میں ایک ایسا عملی نمونہ موجود ہے جس کا ثانی تاقیامت ممکن نہیں ہے۔

سید سلیمان ندوی خطبات مدراس میں ایک خطبے میں بتاتے ہیں کہ ہم اوائل فروری 1924 ء میں حجاز و مصر سے واپس آرہے تھے، اتفاق سے مشہور شاعر ڈاکٹر ٹیگور بھی اسی جہاز میں امریکہ کے سفر سے واپس ہو رہے تھے۔ ایک رفیق نے ان سے سوال کیا کہ برہمو سماج کی ناکامی کا سبب کیا ہے؟ حالانکہ اس کے اصول بہت منصفانہ صلح کل کے تھے۔ اس کی تعلیم تھی کہ سارے مذہب سچے اور کل مذہبوں کے بانی اچھے اور نیک لوگ تھے۔ اس میں عقل اور منطق کے خلاف کوئی چیز نہ تھی۔وہ موجودہ تمدن، موجودہ فلسفے اور موجودہ حالات کو دیکھ کر بنایا گیا تھا، تاہم اس نے کامیابی حاصل نہ کی۔ فلسفی شاعر نے جواب دیا کہ یہ اس لیے ناکام ہوا کہ اس کے پیچھے کوئی شخصی زندگی اور عملی صورت نہ تھی جو ہماری توجہ کا مرکز بنتی۔

سید بتاتے ہیں کہ مذہب نبی کی سیرت اور عملی زندگی کے بغیر ناکام ہے۔ یہ آپ ﷺ کی سیرت کا ہی فیض ہے کہ مسلمانوں اور رومیوں میں جنگ ہے، صحابہ کرام فوج کے سپاہی ہیں۔ سپہ سالار ان مسلمان سپاہیوں کی حالت دیکھنے کے لیے اسلامی کیمپ میں چند جاسوس بھیجتا ہے۔ وہ یہاں آ کر اور مسلمانوں کی حالت دیکھ کر واپس جاتے ہیں تو سر تا پا اثر میں ڈوبے ہوتے ہیں۔ وہ جا کر رومی سپہ سالار کو بتاتے ہیں کہ ”وہ راتوں کے راہب ہیں اور دن کے شہسوار“ یہی اسلام کی اصل زندگی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •