صدر ٹرمپ کے حامیوں کا کانگریس کی عمارت پر دھاوا، واشنگٹن ڈی سی میں کرفیو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


صدر ٹرمپ کے حامیوں نے کانگریس کی عمارت میں گھس کر توڑ پھوڑ کی جس کے باعث ایوان کی کارروائی کئی گھنٹے تک تعطل کا شکار رہی۔

ویب ڈیسک — امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہزاروں حامیوں کی جانب سے بدھ کو کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل میں ہنگامہ آرائی کے بعد دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔مظاہرین نے بدھ کو کیپٹل ہل پر اُس وقت چڑھائی کی جب نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے نتائج کی توثیق کے لیے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس جاری تھا۔ مظاہرین کیپٹل ہل کی حفاظت پر تعینات اہلکاروں کو دھکیلتے ہوئے عمارت کے اس حصے میں داخل ہو گئے جہاں سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے اجلاس جاری تھے۔

مظاہرین نے کئی ارکان کے دفاتر میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ بھی کی۔ پرتشدد احتجاج کے باعث نو منتخب صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کاملا ہیرس کی فتح کی توثیق کے سلسلے میں جاری کانگریس کی کارروائی کو ہنگامی طور پر روکنا پڑا اور ارکانِ کانگریس نے مختلف کمروں اور نشستوں کے پیچھے پناہ لی۔

ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے مظاہرین کی کیپٹل ہل میں ہنگامہ آرائی کے کئی گھنٹوں بعد اعلان کیا کہ پولیس نے عمارت کو محفوظ بنا لیا ہے۔

بعدازاں کانگریس کے مشترکہ اجلاس کی کارروائی کا دوبارہ آغاز ہوا جس میں امریکہ کی تمام 50 ریاستوں اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے الیکٹورل ووٹس کی تفصیل باری باری پیش کی گئی جس کی اراکین کانگریس نے توثیق کی۔ کئی ری پبلکن ارکان نے بعض ریاستوں کے نتائج پر اعتراض بھی کیا لیکن ان کے یہ اعتراضات ارکان کی اکثریت نے مسترد کر دیے۔

کیپٹل ہل کے اندرونی مناظر
کیپٹل ہل کے اندرونی مناظر

کئی نشریاتی اداروں نے کانگریس کی عمارت کے اندر ہونے والی ہنگامہ آرائی کی تصاویر اور ویڈیوز چلائی ہیں جن میں مظاہرین کو عمارت کے مختلف حصوں میں دندناتے دیکھا جا سکتا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی کے محکمۂ پولیس کے مطابق عمارت میں ہنگامہ آرائی کے دوران ایک خاتون کو گولی بھی لگی جو بعد ازاں دم توڑ گئیں۔

ہنگامہ آرائی کرنے والوں میں سے ایک شخص نے نائب صدر مائیک پینس کی کرسی پر بیٹھ کر اپنے فون سے سیلفیاں بھی بنائیں جب کہ ایک شخص ایوان کی ڈیموکریٹک اسپیکر نینسی پیلوسی کے دفتر میں داخل ہوگیا اور ان کی نشست پر جا بیٹھا۔

مظاہرین نے سینیٹ اور ایوان کے چیمبرز میں داخل ہو کر صدر ٹرمپ کے حق میں نعرے بازی بھی کی۔

بعد ازاں واشنگٹن ڈی سی کی انتظامیہ کی درخواست پر دارالحکومت سے متصل ریاستوں ورجینیا اور میری لینڈ سے پولیس اور فوج کے دستے کیپٹل ہل پہنچے اور عمارت کو مظاہرین سے خالی کرایا۔

واشنگٹن ڈی سی کی میئر میوریل باؤزر نے شہر کی کشیدہ صورتِ حال کے پیشِ نظر رات کا کرفیو نافذ کر دیا ہے جب کہ صورتِ حالات پر قابو پانے کے لیے امریکہ کی ریزرو فوج (نیشنل گارڈز) کے اضافے دستے بھی طلب کر لیے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے حامیوں کی کیپٹل ہل پر چڑھائی کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال کے پیشِ نظر واشنگٹن ڈی سی میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے حامیوں کی کیپٹل ہل پر چڑھائی کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال کے پیشِ نظر واشنگٹن ڈی سی میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی کے نواحی علاقوں الیگزینڈریا اور آرلنگٹن کے حکام کی درخواست پر بھی وہاں ایک رات کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن ڈی سی کے پولیس چیف رابرٹ کونٹی کا کہنا ہے کہ کیپٹل ہل میں ہونے والی ہنگامی آرائی فسادات تھے جس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 13 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بدھ کو کانگریس میں صدارتی انتخابات کی توثیق کے موقع پر صدر ٹرمپ کی حامی تنظیموں نے واشنگٹن ڈی سی میں بڑے پیمانے پر احتجاج کا اعلان کیا تھا جس میں شرکت کے لیے امریکہ بھر سے صدر ٹرمپ کے ہزاروں حامی دارالحکومت پہنچے تھے۔

بدھ کو صدر ٹرمپ نے خود بھی وائٹ ہاؤس کے باہر اپنے حامیوں سے خطاب کیا تھا جس کے دوران اُنہوں نے مظاہرین کی کیپٹل ہل کی جانب مارچ کی حوصلہ افزائی کی تھی۔

صدر نے کہا تھا کہ اُنہیں عہدے پر برقرار رکھنے کے لیے حامیوں کو مضبوط ہونے کی ضرورت ہے اور یہ کہ ہم ہمت نہیں ہاریں گے اور شکست تسلیم نہیں کریں گے۔

امریکہ: ’زیادہ تر لوگوں کو بندوقوں سے پیار ہے‘

تاہم مظاہرین کے کیپٹل ہل میں داخل ہونے اور وہاں ہنگامہ آرائی کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے اپنے حامیوں سے احتجاج ختم کر کے گھروں کو لوٹ جانے کی اپیل کی۔

صدر نے ہجوم پر زور دیا کہ وہ پرامن رہیں اور پولیس کا احترام کریں۔ انہوں نے کہا کہ “کہیں ہنگامہ آرائی نہیں ہے، یاد رکھیں ہم قانون کی عمل داری کے ساتھ ہیں اور ہم قانون کی عزت کرتے ہیں۔”

تاہم اس ویڈیو بیان میں بھی انہوں نے اپنا یہ دعویٰ دہرایا کہ انتخابات دھاندلی زدہ تھے اور وہ اور ان کے حامی شکست تسلیم نہیں کریں گے۔

بعد ازاں ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کی ویڈیو یہ کہتے ہوئے ہٹا دی کہ ویڈیو ہنگامہ آرائی کو بڑھاوا دینے کا باعث بن سکتی ہے۔

ٹوئٹر انتظامیہ نے اپنی پالیسی کی خلاف ورزی پر صدر ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی 12 گھنٹے کے لیے بند کر دیا ہے۔

اُدھر کیپٹل ہل پر مظاہرین کے حملے پر ردِ عمل دیتے ہوئے نو منتخب صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اس وقت ہماری جمہوریت غیر معمولی حملے کی زد میں ہے۔

 بائیڈن نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ کیپٹل ہل پر ہونے والا حملہ تمام امریکیوں کے رویے کی نمائندگی نہیں کرتا۔ چند انتہا پسندوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا۔ اس طرح کی افراتفری کو اب ختم ہونا چاہیے۔

انہوں نے صدر ٹرمپ کو کہا کہ بطور کمانڈر اِن چیف وہ ٹی وی پر خطاب کریں اور ہجوم کو واپس جانے کا کہیں۔

امریکی جمہوریت کی علامت کانگریس کی عمارت میں ہنگامی آرائی کی سابق صدور جارج ڈبلیو بش، براک اوباما سمیت کئی مقامی اور عالمی رہنماؤں نے مذمت کی ہے۔

امریکی قانون سازوں نے کیپٹل ہل میں سیکیورٹی صورتِ حال میں ناکامی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جب کہ ارکان نے پولیس کی کارکردگی کو بھی سراہا ہے۔

سینیٹر کرس مرفی نے کہا ہے کہ ہنگامہ آرائی کی متعدد ویڈیوز موجود ہیں جن میں سے بعض تحفظات کو جنم دیتی ہیں جب کہ بعض ویڈیوز میں پولیس کی جانب سے ہیرو کا کردار بھی دیکھا گیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کیپٹل ہل کی سیکیورٹی کی ناکامی کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 980 posts and counting.See all posts by voa