”‏ہم سب“ کو آزادیٔ فکر کا پرچار کرتے ہوئےپانچ برس مکمل ہو گئے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”ہم سب“ محض ایک ویب سائٹ کا نام نہیں بلکہ اس پلیٹ فارم پر ہر عمر کے لوگ اپنی فکر کو آزادانہ طور پر پیش کر سکتے ہیں ، ایک ایسا شجر جس کے سائے میں ہم اپنے خیالات کی خوشبو کو دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں ، خصوصی طور پر نئے لکھنے والوں کے لیے یہ ویب سائٹ کسی نعمت سے کم نہیں ۔ اگر روایتی ماحول پر نظر دوڑائی جائے تو ہمیشہ نئے آنے والوں کی ٹانگیں کھینچی گئیں۔  بڑے بڑے تخلیق کار جو سماج میں ٹائیکون کی صورت اختیار کر گئے ، انہوں نے آنے والے لوگوں کی صلاحیتوں کو کچل دیا۔ یہ وہ رویے ہیں جنہوں نے ہمارے سماج کو نئی سوچ سے آگاہی اور روشن دماغ سے محروم رکھا ، یہ سلسلہ ایک لمبے عرصے تک جاری رہا اور آج بھی جزوی طور پر جاری ہے۔

اس رویے کا توڑ کسی حد تک سوشل میڈیا کے دور میں ہوا ، جس میں فرد کو اظہار کا ایک ذریعہ میسر آیا ، اس دور میں ایسی ویب سائٹ کا قیام ایک امید افزا واقعہ تھا ، اس کا قیام سماج میں تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح محسوس ہوا ، جہاں ہر طرز فکر اور عمر کے لوگوں کو یکساں اظہار کا موقع ملا ، جس کی بدولت آج کا ہر لکھنے والا اپنی انفرادی پہچان رکھتا ہے۔

نیا لکھنے والا جب اس چیز کا ادراک کرتا ہے کہ سماج کے بہترین لکھاری جس پلیٹ فارم سے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں ، وہی پلیٹ فارم اس کو بھی میسر ہے تو ایسے میں اس پر ایک ناقابل بیان کیفیت طاری ہوتی ہے ۔ یہی کیفیت اس کے قلم کو قوت اور حرارت بخشتی ہے اور اس میں آگے بڑھنے اور کچھ اچھا کرنے اور لکھنے کی لگن کو پیدا کرتی ہے ، ہمارے ہیرو یہ لوگ ہیں جنہوں نے ایسے ذرائع بنائے جن کے ذریعے ہم مختلف طبقات زندگی سے وابستہ لوگ اپنا کتھارسس کر سکتے ہیں اور اپنے خیالات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔

اس منفرد اور اہم کارنامے کے پیچھے ایک ایسے شخص کی سوچ ہی کار فرما ہو سکتی ہے جو خود آزادیٔ رائے کو اہمیت دیتا ہو ، جس کے سامنے سب سے بڑی اور اہم چیز شخصی آزادی ہو ، جو آزادی خیال کو زندگی کے لیے لازم و ملزوم سمجھتا ہو۔ وہی ’ہم سب‘ جیسا عوامی فورم مہیا کر سکتا ہے ، ایسا فورم جو نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی افراد کے لیے بھی اپنا دامن پھیلائے ہوئے ہے۔

میں فخر محسوس کرتی ہوں کہ میں ”ہم سب“ میں لکھنے والوں کا حصہ ہوں ، میں ایسے سائے میں ہوں جہاں حق کو حق اور باطل کو باطل سمجھا اور لکھا جاتا ہے ، جہاں آزادیٔ خیال پر کوئی قدغن نہیں ، جہاں میں اپنی ذات کے اظہار کے لیے مکمل آزاد ہوں ، مجھے کسی بھی موضوع پر لکھتے ہوئے سیاسی اور سماجی جبر کا سامنا نہیں ، میں وہ لکھ سکتی ہوں جو میرا قلم لکھنا چاہتا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ چھ سال بعد بھی یہ ویب سائٹ اپنا خاص معیار قائم رکھے ہوئے ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •