تم نے کہیں میرا بیٹا، میری بیٹی، میری ماں یا میرا باپ دیکھے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رضیہ کی عمر پندرہ سال تھی اس کی لاش سات دنوں تک اپنے گھر کے نیچے کھیتوں میں پڑی رہی۔ زمین پر رینگتے کیڑے مکوڑوں کو جتنا حصہ چاہیے تھا سب نے اپنا اپنا حصہ لیا۔ لاش ملی تو منہ میں دانتوں کا ایک جبڑا غائب تھا۔ ہم کفن دفن کے دو دن بعد گئے تو اسی وقت دانتوں کا جبڑا ہمیں ملا۔ آپ کو درد اپنی طرف کتنا کھینچ سکتا ہے یہ مجھے نہیں معلوم لیکن قیامت کا یہ سماں میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور مجھے ایسا لگا جیسے یہ سب کچھ میرے ساتھ ہوا ہو۔

میں جس دن گیا تھا وہاں اور بھی بہت سارے لوگ آئے ہوئے تھے لیکن درد کے مارے صرف دو تھے۔ معصوم رضیہ کی ماں اور باپ۔ میں دونوں کے درمیان بیٹھ گیا اور یقین کیجئیے مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں کانٹوں کی سیج پر بیٹھا ہوں کیونکہ دو معصوم اور غریب انسانوں کی سسکیاں اور آنکھوں سے برستی بارشوں کی طرح نہ رکنے والے آنسو مجھے تکلیف میں مبتلا کر رہے تھے۔ میں نے ایک دو بار کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن الفاظ حلق میں اٹک کر رہ گئے۔

میں دلاسوں کے لیے لفظ ڈھونڈ رہا تھا اور اردگرد موجود سب لوگ رو رہے تھے۔ جس جگہ ایک خراب چارپائی پر ہم بیٹھے تھے یہ معصوم رضیہ کے لیے کھیل کا میدان تھا جہاں وہ اپنی گڑیوں کی شادی رچا کر اپنی ماں سے مبارک باد وصول کرتی تھی۔ میرے سامنے پڑے اس کے بے شمار کھلونے مجھے ایسے گھور رہے تھے جیسے انہوں نے بھی ماتم کیا ہو۔ میں خود کو ٹٹول رہا تھا لیکن پہلی بار میرے اندر سے بے شمار آوازیں آ رہی تھیں جن میں زندگی کے لیے بھیک کی طلب تھی۔

اس کی ماں کی طرف میں نے دیکھا وہ زار و قطار رو رہی تھی۔ وہ کہہ رہی تھی ”رضیہ اچانک غائب ہوئی۔ ہمیں فکر ہونے لگی تو سب رشتہ داروں سے رابطہ کیا لیکن وہ وہاں موجود نہ تھی پھر ہم سے رہا نہ گیا اور آس پاس سارے پہاڑوں میں ڈھونڈنے لگے۔ سات دن میں پاگلوں کی طرح اپنی بچی کو تلاش کرتی رہی۔ پہاڑوں کو چھان مارا لیکن کہیں سے اس کی خبر نہ آئی۔ میرے پاؤں میں چھالے پڑے، ایک دو دفعہ زخمی بھی ہوئی، گری بھی لیکن تڑپ نے لوٹ جانے کی اجازت نہ دی۔

ممتا نےکہاں کہاں دوڑایا، یہ صرف میں جانتی ہوں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ پورے سات دن قاتل ہمارے سامنے گھومتا رہا لیکن ہمیں یہ تک نہ بتایا کہ جس معصوم کو ہم تلاش کر رہے ہیں اس کی لاش ہمارے گھر کے عین نیچے کھیتوں میں سات دنوں سے پڑی ہے۔ لاش جب ملی تو خود اپنی خبر نہ رہی۔ جس وجود کو پورے پندرہ سال میں نے کبھی خود سے الگ نہ کیا وہ میرے قریب ہی سات دن تک کیڑے مکوڑوں کے لیے رزق کا ذریعہ بنا رہا۔ میں نے جیسے ہی لاش دیکھی تو ہوش نہ رہا پھر کلمہ پڑھا اور لاش کے قریب گئی۔ لاش پر بے شمار نشان تھے۔ اس کے ہاتھ پر میں نے جو دھاگے باندھے تھے وہ ہڈیوں میں پیوست ہو چکے تھے۔ میں نے اللہ کا نام لیا اور دھاگے ہاتھ سے کاٹ کر اپنے پاس رکھے جو ابھی بھی میرے پاس موجود ہیں اور ان دھاگوں پر خون کے دھبے بھی موجود ہیں۔

باپ کے چہرے پر میری نگاہیں پڑیں تو وہاں صرف ویرانیاں نظر آئیں ۔ آنکھوں میں آنسو تھے اور ہاتھ وہ مل رہا تھا۔ اتنی شدید محرومی میں نے اپنی زندگی میں کہیں بھی نہیں دیکھی تھی۔

جیسے ہی میں نے کچھ پوچھنا چاہا وہ سسکیاں لے کر بولنے لگا۔بھوک سے زندگی بھر لڑتا رہا لیکن اب حوصلہ ہار چکا ہوں۔ زندگی مجھ پر بوجھ ہے۔ مجھے بس انصاف چاہیے۔ پہلے میری معصوم بچی کا گلہ گھونٹا گیا، اس سے نہ مری تو چاقو سے گلا کاٹا، اس سے بھی کام نہ بنا تو ایک اونچے ٹیلے سے نیچے گرایا۔ اب مجھے زندگی سے اور کیا لینا ہے یہ مجھے نہیں معلوم ، بس مجھے انصاف چاہیے۔

ماں باپ اور وہاں موجود لوگوں کی باتیں سنیں اور ہم واپس چلے آئے۔ کل نہ جانے کیا ہوا جو اچانک یہ سنا کہ مقتول رضیہ کے باپ نے خود کشی کی ہے۔ یہ خبر سنی اور دل بیٹھ گیا۔ دوستوں سے رابطہ کیا تو وہ کہنے لگے۔ وہ بچی کی موت کے بعد اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا تھا۔ گاؤں کی گلیوں میں پاگلوں کی طرح دوڑتا پھرتا اور اکثر پوچھتا کسی نے میری رضیہ کو تو نہیں دیکھا۔ زندگی سے انتہائی تنگ آ چکا تھا۔

ہم تعزیت کے لیے وہاں گئے لیکن کسی کو بھی پریشان نہیں دیکھا سوائے اس کے اپنے بیٹے کے۔ وہ بیٹا جس کو زندگی بھر یہ ظالم سماج یہ سمجھاتا رہے گا کہ اس کی ایک بہن اپنے آشنا کے ساتھ رنگ رلیوں میں مصروف تھی چھوٹی بہن نے دیکھا تو اس کو مار دیا گیا اور یہ کہ اس کا ایک غریب باپ بھی تھا جس نے زندگی سے تنگ آ کر زندگی کا چراغ خود ہی گل کر دیا۔

آج دو دن بعد میں یہ سوچ رہا ہوں ہم یہ مانتے کیوں نہیں کہ جس وقت تک ہمارے اس گلے سڑے معاشرے میں انصاف نہیں آئے گا ، ہم اسی طرح خودکشیاں کرتے رہیں گے۔ صدیوں پہلے منگولوں کے بھی کچھ اصول ہوتے تھے۔ وہ منگول جنہوں نے انسانی کھوپڑیوں سے مینار بنائے اور انسانی زندگیوں کے ساتھ بے شمار کھیل کھیلے مگر وہ بھی اتنے ظالم نہیں تھے جتنے ظالم روز بروز ہم بنتے جا رہے ہیں۔

ہم نے اگر بہت جلد انصاف والا معاشرہ پیدا نہیں کیا تو گاؤں کی ویران گلیوں اور شہروں کی سنسان سڑکوں پر اسی طرح زندگی سے تنگ لوگ دوڑتے رہیں گے اور ہر ایک سے یہی سوال پوچھیں گے تم نے کہیں میرا بیٹا، میری بیٹی، میری ماں، میرا باپ تو نہیں دیکھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •