لاشوں پر سیاست کب تک؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئٹہ کی ہزارہ برادری ایک عرصے سے ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو رہی ہے۔ فرقہ واریت پھیلانے کے لئے یہ ایک بہت بڑی سازش ثابت ہوتی رہی ہے مگر اس عرصے میں کئی حکومتیں آئیں جن میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی بھی حکومتیں بھی شامل ہیں۔ ہر دور میں ہزارہ برادری کو جو شیعہ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ان کی ٹارگٹ کلنگ ہوتی رہی مگر اس وقت سے آج تک ان واقعات کا سدباب نہ کیا جانا حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

گزشتہ دنوں بھی گیارہ معصوم ہزارہ برادری کے کان کنوں کو گولیاں مار دی گئیں۔ شیعہ رہنماؤں نے احتجاج کی کال دے دی اور کوئٹہ سمیت پورے ملک میں احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیا گیا جو تقریباً پانچ روز سے جاری ہے۔ منفی درجہ حرارت میں احتجاج کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔ مگر افسوس تو اس بات کا ہے کہ آج بھی لاشوں پر سیاست کی روش قوم نے اور نہ ہی سیاست دانوں نے ترک کی۔

پانچ دن سے زائد ہو چکے، اپنے مطالبات منوانے کے لیے میتیں سڑکوں پر رکھی رہیں تو اپوزیشن اپنے جلسے کرنے میں مصروف رہی، حکومت کی اپنی ہی الگ ترجیحات رہیں مگر اصل میں جو اس بے حسی کا نشانہ بنے وہ پاکستان کے مظلوم اور معصوم عوام ہی ہیں۔ سڑکیں بند رہیں۔ کوئٹہ سمیت، کراچی، لاہور اور دوسرے بڑے شہروں میں ٹریفک کی آمدورفت متاثر رہی۔ جگہ جگہ مین سڑکیں بند کر کے کچھ لوگ بیٹھ کر احتجاج ریکارڈ کرواتے رہے اور پولیس اور انتظامیہ ان کی سکیورٹی پر مامور رہی۔

ہزارہ برادری ہو یا پاکستان کا کوئی بھی شہری، اس کی جان و مال عزت آبرو کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ریاست کا کام اپنے شہریوں کے حقوق اور ان کی جان کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔ جب ریاست اپنے ذمہ داریوں سے غافل ہو جائے تو انارکی اور خانہ جنگی ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہزارہ برادری کے شہیدوں کے ساتھ اظہار تعزیت سب نے کیا، پورا پاکستان ان کے سوگ میں رہا۔ ہر کسی نے ان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے حکومت کو خوب کوسا اور برا بھلا کہا۔

مگر ہمدردیاں اس وقت کافور ہو گئیں جب احتجاج کا دائرہ کوئٹہ سے نکل کر پاکستان کے دوسرے شہروں میں پھیلا اور ایسا پھیلا کہ جو ان کے دکھ میں شریک تھے، وہ اس ظلم کا شکار ہو گئے اور جگہ جگہ ٹریفک کی بندش کے باعث لاکھوں شہریوں کو اپنی منزل پر پہنچنے میں شدید مشکلات درپیش رہیں۔ سب سے زیادہ ظلم تو مریضوں کے ساتھ ہوا، احتجاج اور سڑکوں کی بندش نے ایمبولینسوں کو بھی راستہ نہ دیا۔ مین سڑکوں پر ٹینٹ لگا کر چند افراد بیٹھ گئے اور احتجاج شروع ہو گیا۔ کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں ایسے واقعات کوئی اچھی مثال قائم نہیں کر سکتے۔

اگر ایسی مثالیں قائم کی جائیں گی تو ہر کوئی اپنی میتیں لے کر سڑکوں پر بیٹھ جائے گا اور وزیراعظم کو اپنے پاس بلانے کا مطالبہ کرے گا؟ کیا اس طرح ہو گی حکومتی رٹ قائم؟ کراچی جیسے شہر میں جہاں روزانہ سینکڑوں لاشیں اٹھتی تھیں۔ ہر محلے سے جنازے نکلا کرتے تھے۔ اگر اس وقت وہاں ایسی مثال قائم کی جاتی تو کیا ہوتا؟

پولیس اور انتظامیہ نے اس سلسلے میں انتہائی غفلت اور مجرمانہ خاموشی کا مظاہرہ کیا ہے۔ احتجاج کرنا ہر کسی کا حق ہوتا ہے مگر کسی کو تکلیف دے کر احتجاج کرنے سے ہمدردی کے بجائے مخالفت ہی ملتی ہے۔ اس واقعے میں بھی یہی ہوا۔ جو لوگ اس ہلاکت خیزی پر غم میں تھا جب سڑکوں کی بندش سے بلاوجہ انہیں مصیبت کا سامنا ہوا تو وہ ہمدردی مخالفت میں تبدیل ہو گئی۔

مریم نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمن صاحب بڑے بڑے دعوے کر رہے ہیں، مگر اس واقعے کے رونما ہونے کے بعد بھی انہوں نے بنوں میں جلسہ کیا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بنوں کا جلسہ ملتوی کر کے ہزارہ برادری کے غموں پر مرہم رکھنے کے لیے ان کے پاس جاتے مگر چار دن گزرنے کے بعد وہ ان کے پاس گئے اور ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اور حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔

اگر ان صاحبان کو یاد نہ ہوتو میں یاد دلاتا چلوں کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی حکومتوں میں بھی ہزارہ برادری پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے مگر انہوں نے اس سلسلے میں کیا کیا؟ کچھ نہیں۔ اپوزیشن میں رہتے ہوئے ہی عوام کا دکھ درد امڈ آتا ہے حکومت میں تو خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر داخلہ اور مشیر زلفی بخاری کو اس معاملے کو سلجھانے کے لیے بھیجا جو بہت اچھی بات ہے۔ مگر مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ وزیراعظم آئیں۔ وزیراعظم عمران خان معاملات کو طول دینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ یوٹرن کی سیاست میں تو وہ بہت آگے جا چکے ہیں۔ مشیروں کی فوج رکھنے کے باوجود اچھے فیصلے کرنا ان کے بس سے باہر نظر آتا ہے۔ اس معاملے کو بہت آسانی سے سنبھالا جاسکتا تھا مگر احتجاج کے دائرے کو وسیع کرنے کے لیے سیاست کی گئی۔

یہاں ایک اور معاملہ بھی زیرغور رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ بلوچستان میں بھارت اور را کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک اب بھی خفیہ طور پر کام کر رہا ہے جس کو بے نقاب کرنے کے لیے ہماری ایجنسیاں کام کر رہی ہیں۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ را کا نیٹ ورک اب بھی قائم ہے۔ بھارت میں اس وقت کسانوں کا احتجاج بہت شدت اختیار کر چکا ہے۔ اس واقعے کو رونما کر کے بھارت دنیا کی نظریں خود پر سے ہٹانا چاہتا ہے۔ افغانستان میں بھارت کی سرگرمیاں بھی اس بات کا ثبوت ہے۔

جو کچھ بھی ہے، سب سامنے آ جائے گا مگر جو مثالیں قائم کی جا رہی ہیں حکومت، اپوزیشن، پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے، وہ تباہ کن ثابت ہوں گی اور اس کا خمیازہ پوری قوم بھگتے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ذیشان یاسین تاجی کی دیگر تحریریں