حاکم کی انا سلامت رہے بس!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریاست مدینہ (جدید) پر آج بھی کربلا کا سایہ ہے۔ آج بھی کلمہ گو ناحق قتل ہو رہے ہیں اور ستم یہ کہ قاتل کی زباں پر بھی کلمہ کا ورد جاری ہے۔ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ کربلا میں عددی اعتبار سے ایک مختصر قافلہ حاکم وقت کی طاقت، رعونت اور انا کی بھینٹ چڑھ گیا۔ مرد شہید کر دیے گئے اور خواتین کو گرفتار کر لیا گیا۔ درباریوں، مصاحبین نے شاہ کو عظیم فتح کا مژدہ سنا کر انعام میں عہدے سمیٹے۔ باقیوں کو پا بہ زنجیر دربار میں پیش کیا گیا۔

یہی نہیں بلکہ یقینی فتح کی دلیل کے طور پر سالار قافلہ کا سر مبارک بھی تھال میں رکھ کر پیش کیا گیا اور یوں شاہ کی فتح مکمل ہوئی۔ شاہ اصولی موقف کی بلیک میلنگ سے بچ گیا، بیعت سے انکار کی بلیک میلنگ سے بھی بچ گیا۔ زمینی حقائق کے مطابق شاہ جیت گیا اور بغاوتوں کو کچل دیا مگر وقت نے اپنا فیصلہ دیا اور شام کے دربار کے مفتوح کو فاتح اور تخت نشین فاتح کو قیامت تک شکست خوردہ قرار دے دیا۔

تخت نشین شاہوں کے مزاج کبھی نہیں بدلے۔ تاریخ کا بغور جائزہ لیں ہر تخت نشین کا لب و لہجہ کم وبیش ایک جیسا ہی رہا ہے۔ عادات و اطوار، انداز گفتگو اور انداز فکر ایک جیسا ہی رہا ہے اور پھر کم وبیش انجام بھی ایک سا ہی رہا ہے۔ ہر حاکم کو عمر بن عبدالعزیز جیسی شہرت، عظمت تھوڑی نصیب ہوتی ہے۔ وراثت میں تخت ملا مگر یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ اس منصب کے اہل نہیں ہوں۔ اہل علاقہ جمع ہوئے اور اصرار کیا کہ آپ ہی اہل ہیں۔ خاندانی نسبت سے سلیکشن منظور نہیں کی تاہم اہل علاقہ کی اکثریتی رائے کے بعد عہدہ قبول کیا۔ شاہانہ طرز زندگی سادگی میں بدل گیا۔ ذمہ داریاں ملیں تو کہا کہ اگر دجلہ کنارے کتا بھی بھوک سے مر گیا تو اس کا ذمہ دار میں ہوں گا

یہی نہیں بلکہ اس عہد سے کچھ پیچھے چلے جائیں۔ حاکم وقت کو رات کو خبر ہوئی کہ اس کی رعایا میں ایک گھر کے مکین بھوکے ہیں۔ رات کو راشن اپنے کندھے پراٹھا کر اس گھر لے گئے اور ان کی حاجت پوری کی۔ ایک بھری محفل میں عام شہری نے حاکم وقت سے سوال کر دیا کہ مال غنیمت سے ملنے والے کپڑے سے میری قمیض تو نہیں بن سکی تو پھر اے امیر! آپ کی قمیض کیسے بن گئی۔ یہ حقیقی ریاست مدینہ تھی جہاں حاکم پابند تھا کہ کیے گئے ہر سوال کا جواب دے گا۔

لہذا انا آڑے نہیں آئی اور جواب دیا گیا بلکہ مطمئن کیا گیا۔ جواب دینے والا یہ کوئی معمولی حاکم نہیں تھا بلکہ اس ریاست مدینہ کا حاکم تھا جو اپنے عہد کا ایک ایمپائر تھی۔ لاکھوں مربع میل پر پھیلی ہوئی اس ریاست مدینہ کے حاکم سے متعلق خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ نے فرمایا تھا کہ اگر میرے بعد کسی نبی نے آنا ہوتا تووہ عمر بن خطاب ہوتے۔

اسی ریاست مدینہ کو اپنا آئیڈیل بیان کر کے سیاست کرنے والے موجودہ حاکم نے وطن عزیز کو ریاست مدینہ ثانی بنانے کا جب اعلان کیا تو اس کی شہرت بام عروج کو پہنچ گئی۔ حالات کے مارے ہوئے لوگوں کو گویا کوئی مسیحا مل گیا۔ ان کروڑوں پریشان حال لوگوں کو اپنے خوابوں کی تعبیر نظر آنے لگی۔ ان کو لگا کہ شاید ان کی دعائیں باب قبولیت کی دہلیز پار کرچکی ہیں۔ اب وہ عہد شروع ہونے والا ہے جس میں کسی گورے کو کالے پر برتری نہیں ہو گی۔ قانون سب کے لیے برابر ہوگا۔ کسی کو فضیلت صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہو گی۔ جہاں حاکم راتوں کو رعایا کی خبر گیری کے لیے نکلے گا اور ریاست شیر خوار بچوں کی خوراک کی فراہمی کی ذمہ دار ہو گی۔ ریاست کی جغرافیائی حدود میں رہنے والے ہر شہری کے جان و مال کا تحفظ ریاست کا ذمہ ہو گا۔

خوابوں کی تکمیل کے لیے ریاست مدینہ ثانی کے احیا کے دعویدار کو تخت پر بٹھا دیا گیا۔ قانون کی بالادستی، معاشی اور سماجی انصاف کے نظام کے رائج ہونے کی توقعات آسمان کو چھونے لگیں۔ سابقہ ادوار کو ملوکیت کا درجہ دے کر ان کی ہر نشانی کے مٹنے کے منتظر عوام کو کہا گیا کہ نصاب نہیں بدلے گا۔ نا ہی کسی چور کے ہاتھ کاٹے جائیں گے اور نا ہی قانون سب کے لیے برابر ہوگا۔ اور یہ بھی لازم نہیں کہ حاکم ہر سوال کا جواب دے۔

ریاست مدینہ ثانی قائم کرنے کے دعویدار سے امیدیں پھر بھی ختم نہ ہوئیں اور خواب پھر بھی نہ ٹوٹے۔ خواہشات نے مکروہ زمینی حقائق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور سانحہ مچھ کے شہدا کی لاشوں کو سڑک پر رکھ کر ان کے ورثا حاکم وقت کی آمد کے منتظر رہے کہ شاید حاکم وقت آ کر روتے بلکتے بد نصیبوں کو کوئی ڈھارس بندھائے۔ بھائی کی گلے کٹی لاش پر بین کرتی بہنوں کے سر پر دست شفقت رکھ دے۔ نوجوان بیٹے کے تابوت سے سر کو ٹکائے بوڑھے باپ کو گلے سے لگا کر کہے کہ مجھے اپنا بیٹا سمجھیں۔ انتظار گھنٹوں سے دنوں میں تبدیل ہوتا گیا اور انتظار کی طوالت سے ہر امید ختم ہوئی، مان ٹوٹ گیا۔ اشکبار آنکھیں بالآخر خشک ہو گئیں۔ ان خشک ہوتی آنکھوں میں پھر سے نمی اس وقت آئی جب حاکم نے کہا کہ شہدا کی لاشیں دکھا کر اسے بلیک میل نا کیا جائے۔ لواحقین شہدا کی تدفین کردیں تو میں ملنے کے لیے آ جاؤں گا۔

شہدا کی لاشیں حاکم کی انا کے سامنے ہار گئیں۔ تخت نشین کی انا مقدم ٹھہری اور لواحقین نے شہدا کی تدفین کا فیصلہ کر لیا۔ آج ہزارہ کے بدنصیب لوگ محض اپنے پیاروں کو ہی سپرد خاک نہیں کریں گے بلکہ اپنے ریاست مدینہ ثانی کے خواب کی بھی تدفین کریں گے۔ انصاف پر مبنی نظام کے خواب کی بھی تدفین ہوگی۔ آج بہت سی خواہشات بھی دفن ہوجائیں گی۔

معاشی خوشحالی اور بہتر سماجی زندگی کے خواب کو بھی منوں مٹی تلے دفن کر دیا جائے گا۔ خیر یہ چیزیں تو مٹی میں دفن ہونے کے قابل تھیں سو ہو جائیں گی، صد شکر کے میرے حاکم کی انا سلامت رہی۔ اس سوگ کی فضا میں یہ اطمینان کیا کم ہے کہ کہیں کمزور نہیں پڑا اور نہ ہی شہدا کی لاشوں کو دیکھ کر بلیک میل ہوا۔ ویسے ہزارہ والو! تمہارا حاکم مدینہ کا خلیفہ نہیں شام کا حکمران ثابت ہوا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •