وزیراعظم کی بے حسی فتح یاب ہوئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی چند ہی روز پہلے کی بات ہے مچھ میں گیارہ کان کنوں کے سفاکانہ قتل کی المناک خبر نے پاکستان سمیت دنیا بھر کو ایک بار پھر چونکا دیا تھا۔ ہزارہ برادری کے یہ محنت کش جو رزق حلال کمانے کی خواہش لیے اپنے اپنے گھروں سے نکلے تھے۔ ان محنت کشوں کو یہ خبر نہ تھی کہ اب واپسی ان کے نصیب میں نہیں اور موت کے سفاک ہاتھ ان کا تعاقب کر رہے ہیں۔

ایک تو بے قصور انسانوں کا قتل افسوس ناک ہے، ساتھ ہی یہ سوال بھی بار بار ذہن میں آتا ہے کہ آخر ہزارہ برادری سے ایسا کون سا قصور سرزد ہو گیا ہے جس کی پاداش میں ان کو بار بار نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ہزارہ برادری پر ڈھائے جانے والے اس ظلم کی داستان پہلے بھی سردیوں کے موسم میں ہی رقم ہوئی تھی۔ کیا اس کے پیچھے بھی کوئی سوچی سمجھی سازش کار فرما ہے کہ ایک جانب تو اپنے پیاروں کے جانے کا غم تو دوسری جانب موسم کی سختیاں اور ناکافی وسائل۔ جو ان مظلوموں کے غم میں بس اضافے کا سبب بنے۔

ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا ہر جمہوری معاشرے کا بنیادی حق ہے اور اس حق کا ہمارے ملک میں استعمال ہمیشہ سے کیا جاتا رہا ہے۔ کہیں طلبہ، کہیں مزدور کہیں کسی سیاسی جماعت کے کارکن، غرض احتجاج کی روایت اس ملک میں پرانی ہے تاہم ہزارہ برادری کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج کی نوعیت ان سب سے یکسر مختلف تھی۔ اس برادری پر ظلم و بربریت کی مثالیں پہلے بھی کئی بار قائم کی گئیں اور یہ مظلوم طبقہ اپنا احتجاج ریکارڈ کرا کے اپنے آنسو اپنے ہی ہاتھوں سے پونچھتے ہوئے پھر سے جینے کی کوشش کرنے لگتا ہے۔

کہتے ہیں کہ چیونٹی کو بھی زیادہ دبایا جائے تو وہ بھی کاٹ لیتی ہے تو ہزارہ برادری والے تو پھر بھی جیتے جاگتے، سانس لیتے انسان ہیں اور نجانے کب سے ظلم کی چکی میں پسے جا رہے ہیں۔ ہر دن ان کے ذہن میں یہ خیال ضرور آتا ہوگا کہ آج کہیں کوئی شقی القلب آ کر ان سے ان کی سانسیں نہ چھین لے۔

مقتولین کے لواحقین کے پاس احتجاج کے سوا آپشن کیا تھی، یہ زمانے کے ستائے لوگ آخر کرتے تو کیا کرتے۔ اپنی داد رسی کے لیے حکومت کی جانب دیکھا تو یہاں سے بھی ان پر الٹی شرائط عائد کی گئیں۔ اگر ان لوگوں نے وزیراعظم عمران خان سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ تدفین میں شرکت کریں تو اس میں وزیر اعظم کو کیا رکاوٹ تھی۔ ایک لمحے کو مان بھی لیا جائے کہ ان کا مطالبہ نا جائز تھا تو بھی ایک مسلم ملک کا وزیر اعظم ہونے کے ناتے دکھی دلوں کی دل جوئی کرنے، ان کے غم میں شریک ہونے سے وزیراعظم عمران خان کے رتبے میں کون سی کمی آ جانی تھی، بلکہ ہو سکتا تھا کہ عوام کے دلوں میں ان کی تیزی سے کم ہوتی مقبولیت میں بہتر آ جاتی اور لوگ عمران خان کا جذبہ ہمدردی دیکھتے ہوئے ان کے پھر سے گرویدہ ہو جاتے۔ مگر نہیں جناب عمران خان صاحب نے تو ضد ہی لگا لی۔ کسی سخت گیر استاد کی طرح یہ موقف اختیار کیا گیا کہ اس طرح تو کہیں بھی کوئی واقعہ ہوگا تو لوگ وزیر اعظم کو ہی بلانے کا مطالبہ کریں گے۔

محترم وزیر اعظم صاحب ہم سب دل کی گہرائیوں سے یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ نہ کرے کہ مستقبل میں پاکستان تو کیا دنیا بھر میں ایسے سیاہ واقعات کبھی رونما ہوں تاہم پھر بھی حفظ ماتقدم کے طور پر ایسا سوچ بھی لیا جائے تو یہ تو بعد کی بعد بات تھی۔ فی الحال تو ہزارہ برادری کے ساتھ ہونے والے ظلم پر ان کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج کا پر امن طور پر خاتمہ وقت کی اہم ضرورت تھا جو کہ کسی حد تک ہوا بھی مگر حکومتی شرائط کے مطابق ہی ہوا۔ بحیثیت وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب کو زیب نہیں دیتا تھا کہ سخت سردی کے موسم میں ان غم سے نڈھال لوگوں کے ساتھ ضد لگا لیں یا ان کے مطالبے کو انا کا مسئلہ بنا لیں۔

کیا جاتا اگر وزیراعظم پاکستان بھی سویڈن کی وزیراعظم کی طرح ہزارہ برادری کی دل جوئی کے لیے بر وقت پہنچ جاتے، ان کے مطالبات ٹھنڈے دل سے سنتے، ان کے دکھی دلوں پر اپنی دل جوئی کے مرہم رکھتے تو شاید معاملہ یہاں تک پہنچتا ہی نہیں۔ اور کچھ نہیں تو میتوں کی تدفین تو وقت پر ہو جاتی مگر نہیں جناب وزیراعظم صاحب نے یہاں اپنے درباریوں کو بھیج کے ہی معاملہ رفع دفع کرانے کی کوشش شروع کردی، شیخ رشید سے کام نہ چلا تو زلفی بخاری اور علی زیدی کے ذریعے مذہب کارڈ استعمال کرنے کی سعی بھی کر ڈالی، یہاں بھی ان کو کامیابی نہ ملی، آخر وزیر اعلیٰ جام کمال نے ہی مذاکرات کامیاب کرائے۔

وزیر اعظم صاحب! آپ تو اسپورٹس مین ہیں ناں؟ تو آپ کو یقیناً یہ بات پتا ہو گی کہ کھیل میں محنت اور دیانت سے جیت حاصل کی جاتی ہے تو یہ فارمولا اگر آپ سیاست کے کھیل میں بھی اپنا لیتے تو کیا حرج تھا۔ بہرحال سانحہ کو بیتے کئی روز ہو چکے ہیں میتوں کی تدفین بھی ہو جائے گی لیکن ہزارہ برادری کا انتظار ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔

اگرچہ وزیر اعظم نے بیان بازی میں اتنا وقت پہلے ہی ضائع کر دیا ہے کہ لوگ اب ان کے مقابلے میں پی پی اور نون لیگ کے دور کو ہی بہتر سمجھنا شروع ہو گئے ہیں، مریم اور بلاول نے کوئٹہ جا کر خاصی حد تک عوام کے دلوں پر چھائی کدورت کم کر دی ہے، وزیر اعظم کافی دیر سے کوئٹہ پہنچے ہیں، یہ دورہ اس وقت ہوا ہے، جب پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •