فرض کریں آپ ایک ہزارہ نوجوان ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فرض کریں آپ تیس سال کے ایک نوجوان ہیں۔ آپ کی چھ بہنیں ہیں، ایک ضعیف باپ ہے، والدین نے چار سال پہلے آپ کی شادی کرا دی ہے اور اب آپ کے گھر کے آنگن میں دو کلیاں مہکتی ہیں۔ گو کہ آپ نے مزاج انتہائی دھیما پایا ہے مگر آپ ایک انتہائی باہمت انسان ہیں۔ آپ کی جوانمردی کی سپر حالات کی شمشیر کا ہر وار اب تک بڑی سہولت سے روکتی رہی ہے۔ کسب معاش کے لئے آپ نے ایک مشکل مگر نسبتاً زیادہ فائدہ مند شعبہ منتخب کیا ہوا ہے کہ آپ کے کاندھوں پر ذمہ داریوں نے اپنے بچے جنے ہوئے ہیں۔

کوئلے کی کان میں کام کرتے کالک سے اٹے بدن سے بوند بوند مہکتی محنت کے سر میں ایک ہی سودا ہوتا ہے کہ ڈیڑھ ماہ مکمل ہوں اور آپ منتظر نگاہوں کی تشنگی دور کر سکیں۔ گھر کے برآمدے کے ایک کونے میں لگی بوڑھی چارپائی پر سمٹے ہوئے وجود کے کان، شب و روز کسی مانوس قدموں کی چاپ کا انتظار کرتے ہیں۔ آپ کی چھوٹی بچی نے ابھی ابھی بولنا شروع کیا ہے اور اس کی ماں نے اس کو پہلا لفظ ”بابا“ سکھایا ہے۔ جان چھڑکتی بہنیں، آپ کو تنگ تو خوب کرتی ہیں مگر آپ کے بغیر رہ نہیں سکتیں۔

آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کو ہر تہوار پر چھٹی مل جاتی ہے۔ بقر عید پر البتہ آپ کے گھر میں خوب جنگ ہوتی ہے۔ آس پاس محلے میں ہر گھر میں قربانی ہوتی ہے، بہنیں بھی خوب ضد کرتی ہیں کہ آپ کے گھر میں بھی قربانی ہو، البتہ بس یہی ایک فرمائش ہے جو آپ ہر سال ٹال دیتے ہیں۔ یہ نہیں کہ انتظام نہیں کرتے۔ شوق سے جا کر مویشی منڈی سے موٹا تازہ دنبہ خریدتے ہیں، تین دن گھر میں رکھتے ہیں مگر قربانی والے دن اپنے خالہ زاد بھائی حسن، جو آپ کے ساتھ کام کرتا ہے، اس کو دے آتے ہیں۔ بہنوں سے کہتے ہیں کہ ان کے حالات اچھے نہیں ہیں۔ بہنوں کو مگر خوب پتہ ہے کہ آپ کے چوڑے سینے میں چھپا دل، کسی جانور کو بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔ بہنیں آپ کو بزدلی کا طعنہ دیتی ہیں اور خوب مذاق اڑاتی ہیں۔

اس مرتبہ جب آپ کام پر واپس جا رہے تھے اور دروازے ہر پہنچے ہی تھے کہ ایک نحیف آواز نے راستہ روک لیا۔ پلٹے تو ضعیفی اشکبار ملی۔ پچھلے دنوں والد کی طبیعت کافی خراب رہی تھی، آپ کی غیر موجودگی میں انتہائی نگہداشت وارڈ میں رہ کر آئے تھے۔ طبیعت گو کہ بہتر ہو گئی تھی مگر کمزوری بہت تھی۔ آپ نے ان کو دلاسا دیا، اگلی مرتبہ کوشش کر کے جلد آنے کا وعدہ کیا اور رخصت لی۔ پلٹے ہی تھے کی دو پریاں ہاتھ بڑھائے ہوئے ملیں۔ دونوں کو گود میں اٹھا لیا۔ بچیوں نے بھی محبت کے پیکر کو بھینچ لیا۔ آپ نے پیار کیا، ان کو نیچے اتارا اور تیزی سے گھر سے نکل گئے۔

عجب ہے! دس سال ہو چکے آپ کو کان میں کام کرتے ہوئے مگر ہر بار رخصت کے وقت آپ کی کیفیت عجیب سی ہو جاتی ہے، شاید آپ واقعی کمزور دل کے ہیں۔

آج کا دن بہت تھکا دینے والا تھا۔ تھکن کا مثبت پہلو یہ ہے کہ نیند بہت اچھی آتی ہے۔ اچانک شور سے آپ کی آنکھ کھل گئی۔ ابھی سمجھ بھی نہ پائے تھے کہ کسی نے منہ پر کپڑے کا غلاف چڑھا دیا۔ ایک آدمی نے آپ کے ہاتھ باندھ دیے۔ یہ سب آناً فاناً ہو گیا۔ باقی آوازیں بھی آنا بند ہو گئیں۔ آپ گیارہ لوگ ہی تو سو رہے تھے یہاں پر۔ آپ سب کو ایک جگہ لے جایا گیا۔ اجنبی حملہ آوروں نے اب تک کوئی بات نہیں کی تھی۔ کون ہو سکتے ہیں یہ لوگ؟ حکومت کے مخالفین؟ اپنے مطالبات منوانے کے لیے ہمیں اغوا کیا جا رہا ہے، یا پھر! اب آپ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی ہونے لگی۔ آپ کو اچانک احساس ہوا کہ آپ کے کمرے میں سب آپ ہی جیسی شکل کے لوگ تھے۔ آپ گیارہ لوگوں میں ایک اور چیز بھی مشترک تھی اور وہ تھا آپ کا عقیدہ۔

آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کے برابر میں بندھا ہوا شخص آپ کا بائیس سالہ خالہ زاد بھائی حسن ہے۔ پہلی مرتبہ آپ ان حملہ آوروں کو بولتا سنتے ہیں۔ پھر اچانک آپ کو کلمے کی آواز آتی ہے۔

آپ کا تعلق جس مسلک سے ہے، اس میں بچے کی پیدائش کے بعد اس کے کان میں اذان دی جاتی ہے، کلمہ پڑھا جاتا ہے، آپ کو یاد ہے آپ کی پہلی بیٹی فاطمہ جب پیدا ہوئی تھی تو آپ کے والد نے اس کے کان میں کلمہ پڑھا تھا۔ سکینہ کی باری میں کمزوری کی بنا پر والد اسپتال نہیں آ سکتے تھے تو آپ کو یہ فریضہ نبھانا پڑا تھا۔ کس قدر بھلا ہے یہ کلمہ۔ ہر ایک کی نفی کرنے کے بعد اس ذات کی یکتائی کا اقرار کرنا جو ہر چیز کا خالق اور ان کے موجود رہنے کا باعث ہے۔ اور پھر اس رسول کا نام لینا جس کے ہم سب امتی ہیں۔ جس کا وجود ہمارے ہی لئے نہیں بلکہ تمام عالمین کے لئے سراپا رحمت ہے۔ مگر اس مرتبہ کلمہ پڑھنے والوں کے لہجے میں اس انسان دوست کلمہ سے رحمت نہیں برس رہی تھی، محض خون رس رہا تھا۔

پھر اچانک چیخوں سے فضا گونج اٹھی۔ میرے برابر میں ہاتھ پاؤں بندھے حسن کی شہ رگ میں جنت تلاش کی جا رہی تھی۔ آپ کو ایک ایسی بات بتاؤں جو کہ آپ کو یقیناً پتہ نہیں ہو گی۔ نامعلوم کی کوکھ اندیشے جنتی ہے اور یہ اندیشے خوف کے گہوارے میں پروان چڑھتے ہیں۔ کبھی کبھی یوں ہوتا ہے کہ برسوں پرورش پانے والے ان اندیشوں کو ادراک کی محض ایک گھڑی، محض ایک ساعت زنجیر خوف سے آزاد کر دیتی ہے۔ مجھے بھی شاید اسی لئے چھری کے کند ہونے کا پتہ نہیں چل پایا۔

ہاں یوں بھی نہیں کہوں گا کہ یہ سب آسانی سے انجام پایا۔ سوچ کے سارے دھارے گھر والوں کی جانب پھوٹ پڑے۔ بابا کی دوائیاں کافی مہنگی ہیں۔ وہ کون لائے گا۔ بہنیں پڑھ رہی ہیں۔ ان کی فیس کا کیا ہو گا۔ وہ نیک بخت جس نے گھر کو سنبھالا ہوا ہے، جب یہ خبر سنے گی تو اس کو کون سنبھالے گا۔ میری پریاں اب کس کا راستہ دیکھیں گی۔

کچھ سال پہلے جب سو سے زیادہ لوگ شہید ہوئے تھے تو دھرنا دیا گیا تھا۔ میں کان سے چھٹی پر آیا ہوا تھا۔ سب بہنوں کو لے کر میں بھی دھرنے میں گیا تھا۔ بہت دلخراش مناظر تھے۔ میری بہن معصومہ بہت حساس ہے۔ اس وقت وہ چھوٹی تھی اور سر جھکائے بیٹھی تھی۔ میں نے یونہی نہ جانے کس دھن میں اس سے پوچھا تھا کہ اگر میں ہوتا معصومہ تو تم کیا کرتی؟ اس نے تھوڑی دیر بعد سر اٹھایا۔ بھیگتی آنکھوں سے مجھے دیکھا اور کہا بھائی! ہم چھ بہنیں تمھارا جنازہ خود اٹھاتے۔

معصومہ! میری بہن! میں انتظار کر رہا ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •