نو نکاتی آگاہی مہم منجانب بلیک میلرز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اے عالم پناہ اگر جان کی امان ہو تو ہم بلیک میلرز آپ کے حضور کچھ کہنے کے تمنائی ہیں۔ ہم اپنے بارے میں (بلیک میلرز) چیدہ چیدہ نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنی بات سمجھانے کی سعی کریں گے۔ مائی باپ آپ کو کوئی بھی مسئلہ درپیش ہو تو آپ کرکٹ سے اسے جوڑ کر ہمیں سمجھاتے ہیں۔ ہم بھی اسی نقش قدم پر اپنی بات کو آپ کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔

آپ کا فرمان ہوا کہ مجھے بلیک میل نہ کیا جائے۔ سب سے پہلے ہم آپ سے دست بدست معافی کے طلب گار ہیں۔ ہم ناچیز ہیں۔ ہم ایسی جرات کا گمان بھی کیسے کر سکتے ہیں۔ ہماری ہمت کہاں کہ اپنے جگر گوشوں کا بس خوں ہو جانے پر ایسی حرکت کریں۔ ہم کیڑے مکوڑے بھلا کہاں آپ سے ٹکرانے کی سکت رکھتے ہیں۔ ہم ( بلیک میلرز) تو بس غم سے نڈھال اپنے پیاروں کے لاشے لیے بیٹھے تھے۔ آپ سے تو بس پرسے کی امید رکھتے تھے۔ آپ تو ہمیں بلیک میلرز ہی کہہ بیٹھے۔ اگر آپ نے ہمیں یہ نام دے ہی ڈالا ہے تو ہم پر لازم ہے کہ اس کا مفہوم حالات کے پیش نظر سمجھا دیا جائے۔

آگاہی کی مختصر ترین مہم منجانب بلیک میلرز

1۔ جہاں پناہ یہ کھیل تو ہے مگر کھیل ہے (بلیک میلرز کی) موت کا۔ یہاں زندگی کے میدان میں ہارنے والا ایک اننگ کا کھلاڑی وقت سے پہلے آؤٹ کر دیا جاتا ہے۔

2۔ جاں پناہ کرکٹ کے گیارہ کھلاڑیوں اور گیارہ میتوں میں فرق جان کر جیئیں۔ ذبح کردہ لاشوں پر باریاں نہیں لگائیں جاتیں کہ پہلے تدفین پھر تعزیت۔

3۔ مدینے جیسی ریاست کے خواہش مند اس بات کا تو آپ بخوبی علم رکھتے ہیں کہ سیاست اور کرکٹ میں میچ فکسنگ کا وجود ہمیشہ سے ہی ہے۔ آپ کی جانب میچ فکسنگ اور ہماری طرف موت فکسنگ کا زور بالا ہے۔

4۔ بلند مرتبہ یہاں تماشائی کھلاڑیوں کو داد دینے نہیں آتے بلکہ اک جمع غفیر (بلیک میلرز کا) کئی دن میتوں کو دفنانے کے لیے حکومت وقت کے سب سے ذمہ دار کی راہ تکتے رہتے ہیں۔

5۔ اے عالی قدر کرکٹ موسم سرما اور گرما میں کھیلا جاتا ہے لیکن یہاں منفی چھ درجہ حرارت میں بیٹھے بلیک میلرز سورج دیکھنے کے تمنائی نہیں ہوتے۔ وجہ یہ کہ دھوپ میں پڑے بے جان جسم زیادہ دیر تک احتجاج کے قابل نہیں رہتے۔

6۔ صاحب عظمت ادھر بھی اپیلوں کا رواج ہے مگر یہ التجائیں موت سے قبل قاتل کے سامنے بے سود رہتیں ہیں۔ یہاں تیسری اپیل کی کوئی گنجائش ہی نہیں رکھی جاتی۔

7۔ شہنشاہ وقت فتح کے پٹاخوں کی گونج یہاں سنائی نہیں دیتی۔ ستم ظریفی یہ کہ آسماں اور زمیں کے بجائے یہاں صرف دل پھٹتے ہیں۔

8۔ پی ایس ایل کی طرح بولی لگانے کا رواج یہاں پر بھی ہے شنید ہے کہ اس بار 15 لاکھ پر لاشہ قرار پائی ہے

9۔ اے حکمران وقت کرکٹ کی کامیابی کے بعد تمغہ جات اور ٹرافی سے نوازا جاتا ہے۔ ہماری طرف ہار، شہادت کے تمغے اور بین کرتی آوازیں مقدر بنتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •