گدھا اور رئیس کرم خان کا سالا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جون کی ایک دوپہر میں، جب سورج آگ برسا رہا تھا اور میں ایک بڑی شاہراہ پر کار چلا کر گاؤں سے شہر آ رہا تھا۔ گاڑی ایک سو چالیس کی رفتار سے کالی سڑک پر دوڑ رہی تھی۔ سڑک کے دونوں طرف دور دور تک سناٹا تھا، کہیں کہیں آبادی تھی اور کہیں اکا دکا پکے اور کچے گھر فلمی مناظر کی طرح آنکھوں کے سامنے آتے اور گزرتے جا رہے تھے۔ کالی سڑک پر سورج کی کرنوں کی تپش سے سراب بنتا اور اوجھل ہو رہا تھا۔ میں گاڑی میں بیٹھ کر یہ سب دیکھ کر آگے بڑھ رہا تھا۔

ایک موڑ کاٹتے ہی سڑک پر اچانک ایک گدھا آ گیا اور مجھے ایمرجنسی بریک لگانا پڑی۔ لیکن گاڑی رکنے سے پہلے گدھے سے ٹکرا چکی تھی۔ گاڑی رکتے ہی بند ہو گئی۔ اور گدھا گاڑی سے ٹکرا کر بری طرح زخمی ہو گیا۔ حادثہ ہوتے ہی قریبی آبادی سے کچھ لوگ جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔ لوگوں نے مجھ سے میری خیریت پوچھی اور ٹوٹا ہوا بمپر لگانے اور گاڑی اسٹارٹ کرنے میں مدد کرنے لگے۔ جس پر میں  نے ان کا شکریہ ادا کیا۔

ایک شخص جس کی عمر چالیس اور پچاس کے درمیان تھی، کہنے لگا ”کیسے لوگ ہیں اپنے جانور باندھنے کے بجائے کھلے چھوڑ دیتے ہیں جن کی وجہ سے حادثات ہوتے ہیں۔“ اس کی بات پر کچھ اور لوگوں نے ہاں میں ہاں ملائی ، ” بالکل لوگوں کو خیال کرنا چاہیے کیونکہ اس سے جان جانے کا بھی خطرہ ہے۔“

”جانوروں کو باندھ کر رکھنا چاہیے۔ یہ کام جتنا جانوروں کے مالکان کی ذمہ داری ہے اتنا ہی حکومت کی بھی۔“ ایک اور آواز آئی۔

حادثے کی وجہ سے میں جیسے حواس باختہ ہو چکا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کوئی خواب تھا شاید۔ لیکن معروضی حالات بتا رہے تھے کہ یہ خواب نہیں ایک حقیقت تھی۔

گاڑی ابھی اسٹارٹ نہیں ہوئی تھی اور لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی۔
سفید باریش شخص پانی لے کر آیا اور مجھے پینے کو دیا۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا۔

ایک نوجوان زخمی گدھے کے پاس گیا اور بولا
” ارے یہ گدھا تو کرمی دھوبی کا ہے۔“
یہ بات سن کر میرے اور گاڑی کے پاس کھڑے لوگوں میں سے کچھ لوگ گدھے کے پاس پہنچ گئے۔
مجمع سے ایک شخص دھوبی کو بلانے چلا گیا۔

اب لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔ جو لوگ پہلے مجھے حوصلہ دے رہے تھے وہ گدھے کے مالک کے بارے میں باتیں کرنے لگے۔

” کرمی دھوبی تو بے چارہ بہت غریب ہے۔ گدھے کے علاوہ اس کی کوئی اور ملکیت ہی نہیں ہے۔“ بڑے میاں بولے۔
” کرمی کا گدھا تو اب چلنے کے قابل ہی نہیں رہا“ ایک اور واز گونجی۔

” یہ کار والے اندھے ہو کر گاڑی چلاتے ہیں۔“ یہ آواز جانے پہچانی سی لگی۔ یہ شخص وہی تھا جس نے میری ڈھارس بندھائی تھی۔

” کار والے  نے جان بوجھ کر گدھے کو مارا ہے۔ اس کا ہرجانہ بھرنا پڑے گا۔“ یہ ایک کالی رنگت والا شخص تھا جس نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا۔

میں یہ باتیں سن کر سُن ہو گیا، سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اب کیا ہو گا۔ یہ لوگ جو پہلے میرے طرف دار تھے، کیسے یکدم بدل گئے۔ گاڑی کا نقصان ہوا تھا، یہ اسٹارٹ نہیں ہو رہی تھی، لیکن اب مجھے اور بھی خطرات لاحق ہونے لگے۔

مجمع سے ایک پگڑی والا شخص مجھے کہنے لگا ”سائیں گدھا تو مر جائے گا۔ اس کا ہرجانہ تو بھرنا پڑے گا۔ یہ گدھا ہمارے گاؤں کے غریب دھوبی کا ہے۔“

” کتنا ہرجانہ ہوگا“ میں نے کہا۔
” پچاس ہزار روپے!“ پگڑی والا کہنے لگا۔
” پچاس ہزار۔ گدھے کے!“ میں چونک گیا۔
” جی سائیں۔ یہ ایرا غیرا گدھا نہیں، نسلی گدھا ہے اور بہت مہنگا بھی۔“ پگڑی والے نے کہا۔
” لیکن گدھا اتنا مہنگا نہیں ہوتا۔“ میں کہنے لگا۔

میری بات کاٹتے ہوئے پگڑی والا کہنے لگا۔ ” پچاس ہزار ہی دینے ہوں گے ۔ کرمی کو گدھوں کی منڈی جانا ہو گا۔ وہ کسی اور شہر میں لگتی ہے۔ اس کا کرایہ، گدھے کی قیمت اور پھر وہاں سے گدھا لانا ہو گا۔ خرچہ ہوتا ہے صاحب۔“

مجمع سے کسی نے کہا ”پردیسی ہے، اس کا کچھ تو خیال کرو۔“
میں نے کہا ”میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔ دس ہزار  لے لیں۔“
میری بات پر اس نے کہا ’یہ بہت کم رقم ہے۔ ”

یہ سن کر کچھ لوگ میرے حق میں بول پڑے ”گدھا ٹھیک ہو جائے گا صرف ٹانگ ٹوٹی ہے، مرے گا نہیں۔“ لنگوٹ پہنے ایک شخص نے کہا۔

اس کے بعد ایک دو اور لوگوں نے بھی میرے حمایت میں بات کی۔
میں ابھی گدھے کی قیمت کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ کرمی دھوبی بھی آ گیا۔

اس نے کہا ”یہ گدھا بالکل اس کا تھا۔ لیکن کل ہی اس نے عوثو پولیس والے کو فروخت کر دیا ہے۔ اس لیے عوثو پولیس والے سے بات کی جائے۔“

پولیس والا گدھے کا مالک ہے، یہ سن کر سب چپ ہو گئے۔ پگڑی والا آدمی کہنے لگا۔
” سائیں یہ گدھا دھوبی کا نہیں پولیس والے کا ہے، اب اس کا فیصلہ قانون کے مطابق ہو گا۔“

یہ بات سن کر میرے تو ہوش ہی اڑ گئے۔ اب پولیس والے سے کیسے جان چھوٹے گی۔ یہ سوچ کر میرے پسینے چھوٹنے لگے۔

اب مجمع کی متضاد رائے، ایک رائے میں بدل چکی تھی اور سب مجھے قصور وار ٹھرا کر سزا اور جرمانہ ادا کرنے کی باتیں کرنے لگے۔

کچھ دیر ہی گزری تھی کہ عوثو پولیس والا بھی آ گیا۔ اس نے پہلے گاڑی کو اور مجھے گھور کر دیکھا اور پھر وہ زخمی گدھے کو جاچنے لگا۔

پولیس والے کو کرمی دھوبی اور کچھ اور لوگ ایک طرف لے گئے اور وہ میری طرف دیکھ کر نہ جانے کیا بات چیت کرنے لگے۔ لیکن میں سمجھ گیا کہ انہوں نے مجھ سے پیسے اینٹھنے کی ترکیب سوچ لی تھی۔

پولیس والا میرے پاس آ کر منہ سونگھتے ہوئے کہنے لگا ”نشہ کر کے گاڑی چلا رہے تھے۔ اتنا بڑا جانور نظر نہیں آیا اور ٹھوک دیا اس کو۔“

” موڑ کراس کرتے ہوئے اچانک گدھا سامنے آیا تھا۔ بریک بھی لگائی تھی میں نے۔“ میں نے کہا۔
پولیس والا گاڑی کی تلاشی لینے اور مجھے ڈرانے کی کوشش کرنے لگا۔
” تم کون ہو ، کہاں جا رہے تھے۔“ پولیس والے نے سوال داغا۔

” میں رئیس کرم خان کا سالا ہوں، ان سے مل کر واپس شہر جا رہا ہوں۔“ میری بات سن کر پولیس والا چونک کر کہنے لگا

” آپ رئیس کرم خان کے سالے ہیں۔“
” جی!“ میں نے کہا۔

” معاف کیجیے گا گاؤں والوں سے غلطی ہو گئی وہ آپ کو پہچان نہیں سکے۔ یہ سب رئیس کرم خان کے ووٹر ہیں۔“ پولیس والا یہ کہتے ہوئے گاؤں والوں سے مخاطب ہوا۔

” تم لوگوں کو کام نہیں حرامیو! پہلے اپنے جانوروں کو کھلا چھوڑتے ہو اور پھر شریف لوگوں سے پیسے بٹورتے ہو۔ میں گدھے کا کیا کروں گا۔ سالے حرام خوروں کا یہی دھندہ ہے۔“ اس نے مجمع کو برا بھلا کہہ کر بھگا دیا اور گاڑی کو اسٹارٹ کرانے میں مدد کرنے لگا۔

بڑی کوشش کے بعد ایک بزرگ ڈرائیور کی مدد سے گاڑی اسٹارٹ ہو گئی اور میں پولیس والے کو ایک بھی روپیہ دیے بغیر منزل کی طرف بڑھ آیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •