یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے وقت کے حکمرانوں کو بڑی فکر لگی رہتی ہے کہ، مقبوضہ کشمیر میں لوگوں پہ ظلم و ستم ہو رہا ہے، بے گناہ لوگوں کا خون بہایا جا رہا ہے، لوگوں کو صرف اپنے حقوق کی مانگنے پر جسمانی اذیتیں دے کر مارا جا رہا ہے۔ ان تخت پہ بیٹھے تاجداروں کو یہ بھی رنج ہے کہ، فلسطین میں اسرائیلی بربریت کے سبب، بے گناہ فلسطینی روز ہلاک کیے جاتے ہیں، ساتھ ہی ہمارے حکمراں برما اور انڈیا کے مسلمانوں کے لیے بھی نوحہ گری کر رہے ہوتے ہیں۔

اوپر ان مسلمانوں کا ذکر ہوا کہ جن کی نسل کشی کی جا رہی ہیں،ان کے علاقے ہمارے حکمرانوں کے قبضے میں نہیں ہیں، نہ ہی ان کی کسی بستی میں ہماری پاک فوج کا کوئی کنٹرول ہے۔ پر پھر بھی ہمارے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے رئیسوں کو ان کی اتنی فکر ہے کہ کوئی بھی تقریر ان باتوں کے علاوہ مکمل نہیں ہوتی۔ لیکن یہ سمجھنا چاہیے کہ جہان بھی ایسا ظلم ہو، اس کے سدباب کی سب سے پہلی ذمہ دار وہاں کی ریاست ہوتی ہے، ہمیں اپنی ناک کے نیچے ہوتی خوں ریزی کی بھی فکر کرنی چاہیے۔

ہزارہ برادری کے مارے گئے دس افراد، کوئی افسر شاہی طبقے سے نہیں بلکہ مزدور تھے جو کوئلے کی کان میں اپنے کام میں مصروف تھے۔ پر حیرت کی بات ہے کہ دس افراد رات کو اغوا کر کے اٹھا لیے جاتے ہیں، صبح ان کی ذبح کی گئی لاشیں ملتی ہیں، قتل کرنے والے بڑے فخر سے اپنا جرم قبول کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور ہماری ریاست اور اس کے ماتحت تمام ادارے بس تماشا دیکھنے میں مصروف ہیں۔ صوبہ بلوچستان کیا انڈیا کے زیر سپرد علاقہ ہے یا کوئی فلسطین کا شہر ہے؟ یہ تو آپ کا اپنا صوبہ ہے جہاں جگہ جگہ پہ پولیس چیک پوسٹیں اور فوجی اڈے ہیں تاکہ کوئی ‘بلوچ غدار’ کییں سے حملہ آور نہ ہو۔

باقی اگر دہشت گردوں کے ہاتھوں معصوم شہری مارے جاتے ہیں، تو اس سے آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس ظلم پہ نوحہ گر ہونے کے بجائے ستم یہ ہے کہ ہمارے وزیراعظم عمران خان، شھداء کے لواحقین کے پاس جانے کو تیار نہیں تھے اور سرد لاشوں سے شرط لگائے بیٹھے ہیں کہ جب تک یہ دفن نہیں کرتے میں نہیں آؤں گا۔

یہ بھی بھلا کوئی بات ہوئی، کیا کسی ملک کے وزیراعظم کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ شھداء کے وارثوں پر شرائط عائد کرے، ان کے بار بار بلانے پر بھی نہ جائے۔ یہ کوئی سیاسی نہیں بلکہ خالص انسانیت کا مسئلہ ہے، جہاں پہ وزیراعظم کا خودبخود جانا فرض بنتا تھا کیونکہ اسی کی حکومت میں ان کے بے گناہ دس افراد سر کاٹ کے قتل کیے گئے ہیں۔ پر جانا تو دور کی بات، کپتان تو یہ کہہ رہے تھے کہ شھداء کے ورثاء ان کو بار بار بلا کر بلیک میل کر رہے ہیں۔

بے حسی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، یہاں جب ملک کا انتظامی سربراہ ایسے بیانات دے، تب ان لوگوں کا سر فخر سے اور بھی اونچا ہوتا ہوگا جنہوں نے قتل کرنے کی ذمہ داری قبولی ہے۔ وزیراعظم نے اپنی ضد پوری کی، اپنا انا کی جیت کروائی اور میتیوں کے دفن ہونے کے بعد ہی لواحقین سے ملنے کے لیے کوئٹہ روانہ ہوئے۔

ایک ایسا ملک، جہاں دفاع کرنے والے اداروں سے زیادہ طاقت اگر دہشت گردوں کے پاس ہو تو پھر ایسے ادارے رکھنے اور ان کے پر کروڑوں اربوں خرچ کرنے کا کیا فائدہ جو ان دہشت گردوں کو پکڑ نہیں پا رہے جو کھلم کھلا اپنا جرم قبول کر رہے ہیں، سوشل میڈیا پر اپنے اکاؤنٹ چلا رہے ہیں۔

وزیراعظم ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی کی ٹیم سے ملنے کے لیے تو وقت نکال لیتے ہیں، پر ان کو یہ گوارا نہیں کہ کوئٹہ میں جا کر ان شھداء کے لواحقین کے آنسو پوچھیں، ان کا درد بانٹیں، اور جھوٹی ہی سہی ان کو تسلی تو دیں۔ کسی کا باپ، کسی کا شوہر، کسی کا بیٹا اور چھ بہنوں کا اکلوتا بھائی بڑی بے رحمی سے بھری جوانی میں قتل کیا گیا ہے، کیا یہ سانحہ اتنی اہمیت کا بھی حامل نہیں کہ وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھے عمران خان سانحے کے دوسرے یا تیسرے دن اسلام آباد سے کوئٹہ کے لیے ایک پرواز پکڑ سکیں۔

اگر انہیں اپنے ہم وطنوں سے اتنی سی بھی ہمدردی نہیں تو وزیراعظم کی کرسی پہ بیٹھنے کے بھی وہ حق دار نہیں۔ وزیراعظم کا حالیہ رویہ اور بے حسی کسی بھی ملک کے وزیراعظم کا رویہ نہیں لگتا، اور نہ ہی ایک عام سیاستدان کا رویہ لگتا ہے۔ شھداء کے لواحقین کے پاس جانے کے بجائے، ان کو اپنے پاس بلانا کم ظرفی کی اور اناپرستی کی نشانی ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں ہوتی ہر دہشتگردی کا ذمہ انڈیا پہ ڈالنا ہماری نا اہلی سے زیادہ کچھ نہیں۔

اگرچہ پاکستان کی اپنی سر زمین پر انڈیا اور دیگر ممالک کی ایجنسیاں بھی یہ خون ریزیاں کروا رہی ہیں تو کیا ہماری تمام ایجنسیاں اور خفیہ ادارے اس قدر ناکام ہیں اور نا اہل ہیں جو اپنے ملک میں دوسروں کی مداخلت کو روک نہیں سکتے۔ ایسی مملکت میں بقول شاعر چاند کو نہیں نکلنا چاہیے، ایسے اندھوں لوگوں کے دیس میں کسی چاند کی کوئی قدر نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •