عمران خان کی نفسیات اور ان کے حامی بالشتیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نفسیات کے طالب علم نجومی نہیں ہوتے۔ وہ فرد کی شخصیت اور ذہنی ساخت کی بنیاد پر کچھ اندازہ لگاتے ہیں۔ مختلف حالات میں فرد کے ممکنہ رویوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ علم، تجربہ اور تربیت ان اندازوں کے درست ہونے کا تعین کرتے ہیں۔

تین دن قبل اپنے احباب سے عرض کیا تھا کہ عمران خان کی ذہنی حالت اور شخصیت کو سامنے رکھا جائے تو یہ عین ممکن ہے کہ وہ کوئٹہ جانے سے انکار کر دے۔ لہٰذا احتجاج کرنے والوں کو متبادل لائحہ عمل تیار رکھنا چاہیے۔۔۔۔ آج ایسا ہی ہوا۔۔۔۔ وہ سارے احباب جو عمران خان کی حمایت میں انتہائی پر جوش مباحثہ کرتے تھے آج یا تو خاموش ہیں یا اپنی مایوسی کے اظہار پر مجبور ہیں۔ جو خاموش ہیں ان کی مجبوری سمجھ میں آتی ہے۔ پندرہ بیس سال کی پرجوش حمایت پر “یوٹرن” لینا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لئے عمران خان جیسی ذہنی پیچیدگیوں میں مبتلا ہونا پڑتا ہے۔ جو علانیہ اپنی حمایت سے دست کش ہوئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اس لیے کہ انہوں نے خواہ دیر ہی سے سہی مگر اس بات کو محسوس کیا کہ زرداری اور نوازشریف کے بغض اور ان سے مایوسی کے نتیجے میں عمران خان کو اپنی حمایت اور ووٹ سے سرفراز کر کے انہوں نے کیا غلطی کی۔ اس غلطی کا احساس کئی وجوہات سے بہت اہم ہے۔

نفسیات کے بڑے ماہرین پر اخبارنویس ہونے کا گمان مت کیجئے۔ ولہلم رائخ کسی اخبار کے رپورٹر نہیں تھے کہ جو دیکھیں وہ بیان کرے۔ رائخ وہ نابغہ تھا جس نے 1933 میں اس صورتحال کی نشاندہی کی تھی جس میں ہم آج زندہ ہیں۔ اپنی کتاب “فسطائیت (فاشزم) کی نفسیات کی عوامی بنیادیں” میں یہ جملہ آج بھی موجود ہے کہ کسی معاشرے میں موجود فسطایت درحقیقت عام آدمی کے عمومی کردار کا ایک منظم سیاسی اظہار ہے۔

اسی کتاب میں یہ جملہ بھی موجود ہے

فسطائیت اصل میں جبر کی بنیاد پر استوار ہونے والی تہذیب اور میکانکی مگر پراسرار تصور حیات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی شخصیت کا جذباتی رویہ ہے۔

فسطائی معاشرے کی بنیاد میں موجود فرد کو رایخ Little Man بالشتیا کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔ بالشتیا ایک ایسا فرد ہے جو ہر بالادست کی تابعداری اور ہر کمزور پر بزریعہ طاقت حکمرانی کو اپنا فرض عین سمجھتا ہے۔ یہ بالشتیا ہے جو ہر تحکم پسند حکمران کو اپنی حمایت اور جواز فراہم کرتا ہے۔ سخت گیر حکمران اور حکمرانی کو واحد راہ نجات سمجھتا ہے۔ ایسی حکمرانی اور حکمران سے بغاوت اور اختلاف کو گناہ گردانتا ہے۔ جو لوگ سخت گیری کو برا اور لائق تنقید سمجھیں ان کو یہ بالشتیا گناہگار اور غلط کار کہتا ہے۔ ہٹلر جیسے حکمرانوں کے لئے لیے فیورہر (باپ) جیسے القابات گھڑتا ہے۔ فاشسٹ حکمران بھی اپنے لئے ایسے القابات مشہور کروا کر خوش ہوتے ہیں۔ یہ القابات جذباتی اور مذہبی حوالوں سے مالا مال ہوتے ہیں فیورہر، مرد مومن، ظل الہی اور اولی الامر جیسے القابات کا حکمرانوں کے لیے ہونے والا استعمال یاد کیجئے۔

رایخ کے خیال میں فاشزم اصل میں انہی بالشتیوں کے غیر عقلی رویوں کا اجتماعی اظہار ہے۔ ایک بالشتیے کی فکر سطحی، جذباتی، ردعمل پر مبنی اور متعصبانہ ہوتی ہے۔ وہ بات کی گہرائی تک نہیں پہنچ پاتا۔ اچھائی اور برائی کے معیار بھی گھٹیا اور ادھار پر لیے گئے ہوتے ہیں۔ ان معیارات کا استعمال بھی وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ بالشتیے کا تعصب بھی غیرعقلی اور معاندانہ ہوتا ہے۔ اپنے لیڈر کو حق اور باقی سب کو باطل سمجھتا ہے۔ دنیا کی تمام خوبیوں کا مرکز اپنے لیڈر اور اس کے مخالفین کو تمام برائیوں کا منبع قرار دیتا ہے۔

آج جنہوں نے عمران خان کی حمایت سے توبہ کی ہے انہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ بالشتیے نہیں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •