چند گھنٹے پر محیط ملازمت کے جامع اثرات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


اہل خانہ کے ہزار منع کرنے کے باوجود، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ٹورنٹو کی پہلی ملازمت نے جس طرح ہمیں بے حال کیا تھا اس کا حال بیان کرنا لازم ہے۔ چند گھنٹوں پر محیط اس زیر زمین نوکری کے دوران ہم نے پیسہ تو ایک نہیں کمایا مگر کئی سبق سیکھے۔

ٹورنٹو پہنچے تو پرانے دوستوں کے علاوہ ایک بے لوث کردار نجم بھائی جن سے کوئی پرانی ملاقات نا تھی ہماری ابتدائی ہجرت کے ساتھی ٹھہرے۔ ان سے ایک واحد ملاقات ہمارے رشتے کے ماموں اور بچپن سے جوانی تک، ہر الٹے کام کے پیشوا، جن کا نام تو مظفر تھا مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر جگنو کہلاتے، کے توسط سے پاکستان میں ہوئی تھی۔

ہماری یہاں آمد سے پہلے ہی اس کایا پلٹ کا قصوروار اور پرانا دوست نوید جو ایک دوسرے صوبے البرٹا میں مقیم تھا، ہمارے ہزار منع کرنے پر بھی اپنی لگی ملازمت سے دس روز کی چھٹی لے کر استقبال کے لیے ٹورنٹو پہنچ چکا تھا۔ اور سفر کے لیے ایک بڑی وین کا انتظام بھی اسی نے کروا ڈالا۔ وہ دس دن گھومتے پھرتے اور کرائے کے مکان کو گھر بناتے لمحوں میں گزرے گئے اور آخر اس کی روانگی کا وقت بھی آن ٹھہرا۔

اس کے روانہ ہونے کے بعد ابھی، ”آگے کیا ہو گا؟“ کی فکر نے گھیرا ہی تھا کہ اسی لمحے نجم بھائی کا نمبر فون پر چمکا، اور بولے کہ وہ ہماری طرف ہی روانہ ہو رہے ہیں۔ ملنے پر پتہ لگا کہ بڑی کامیابی سے اپنی ہر نوکری اور کئی کاروبار کر کے گنوا بیٹھے ہیں اور اب اپنا وقت کہ یہاں وقت ہی سب سے قیمتی ہے، ہم جیسے نووارد افراد پر لٹانے کو تیارہیں۔

اب فکر معاش سر پر سوار تھی تو ان کے ایک دوست نور بھائی جو ایک ریستوران کے مالک ہیں وہاں پہنچے۔ انہوں نے دو ایک فون کیے ایک نمبر اور پتہ ہاتھ پر رکھا اور بولے کے کل وہاں پہنچ جائیں، کام ہو جائے گا۔ سچ پوچھیں تو دل میں لالچ تو آیا کہ یہیں ان کے غلے پر بیٹھ جائیں مگر شکریہ ادا کیا اور نکل آئے۔

اگلے روز صبح وقت مقرر پر ان صاحب سے ملنے پہنچے تو پتا لگا کہ کسی زمانے میں یہاں گاڑی کا تیل پانی تبدیل کرنے کی مشہور چین میں ملازم تھے اور اب اسی کمپنی کی تین فرانچائز کے مالک ہیں۔ اور ہمیں بخوشی تیل کے اس کنویں میں اتارنے کو تیار۔ حیران اور پریشان تو ہوئے کہ کہاں قلم گھسیٹتے یہاں نٹ بولٹ کسنے پر معاملہ آن پہنچا۔ مگر ایک تو انہوں نے عجیب ”چھو لو آسمان“ جیسا اپنا کوئی قصہ سنایا اور دوسرا ہم بھی نئے رنگروٹ، کہ آگے کچھ ملے نا ملے کی فکر۔

بیگم نے بہت منع کیا کہ یہ سب آپ کے بس کا نہیں مگر میں تب تک مستقبل قریب میں اپنی ہی فرانچائز کا خواب دیکھ رہا تھا۔ اور دوسرا ہم نے سوچا ایسا ترقی یافتہ ملک ہے سارا کام تو مشینیں کریں گی ہمیں بس دھیان خیال ہی رکھنا ہو گا۔ انٹرویو کے وقت بتایا گیا کہ شروع میں ”لوئر ٹیکنیشن“ کی جگہ ہے اور ایک سیفٹی بوٹ (حفاظتی جوتے ) خرید لیجیے گا جو پہننا لازم ہے۔ اب جب دکان پر پہنچے تو پتا لگا کہ جو سخت پنجے والا جوتا پاکستان بڑی فرمائش سے خریدا جاتا ہے وہ دراصل سخت یا بھاری سامان کے ساتھ کام کرنے والے افراد کی ضرورت ہوتا ہے۔

جوتے کا اگلا حصہ سٹیل سے تیار کیا جاتا ہے، تا کہ اگر کام کے دوران پیر پر کچھ گر جائے تو کچھ جسمانی نقصان نا ہو۔ اب نوکری تو لگ چکی تھی تو پیسوں کی کیا فکر، ایک انتہائی مہنگی برانڈ کے سب سے بہترین جوتے پسند کیے اور نوکری پر جا پہنچے۔ پہلے دن جب شوخے بچوں کی طرح ڈبے سے جوتے برآمد کیے تو اردگرد کھڑے باقی ورکرز کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ دیکھی۔ مگر نا وجہ سمجھ آئی نا پوچھ ہی پائے۔ خیر نوکری کے پہلے ایک ڈیڑھ گھنٹے میں ہمیں پوری جگہ کا معائنہ کروایا گیا۔ تمام مصنوعات اور پرزے کہاں رکھے جاتے ہیں، کس گاڑی کے لیے کون سا نمبر تیل چاہیے ہوتا۔ کون سا فلٹر۔ ایمرجنسی کے دوران کیا پروٹوکول ہوں گے آنے والے گاہک سے کیا سوال جواب ہو گا۔

جب یہ سب ہو گیا تو بولے وہ سیڑھی ہے اتر کر نیچے چلے جائیں۔ اور گاڑی کے نچلے حصے میں پرانا تیل نکالنے کے لیے جو نٹ کھولا جاتا ہے اس کی آج ٹریننگ لیں اور کل سے ذمہ داری۔ پوچھا بندہ خدا اگر اس خندق میں ہی ڈالنا تھا تو اوپر کی اتنی جانکاری کیوں دی؟

اب سمجھ آئی کہ لوئر ٹیکنیشن کا کیا مطلب تھا۔ خیر حوصلہ کر کے نیچے پہنچے تو ایک کوتاہ قامت مکینک پہلے ہی وہاں موجود ہمیں دیکھ کر دانت نکال رہا تھا۔ پہلے چند منٹ اس کا بغور جائزہ لیا کہ ایک گاڑی کے نیچے گھستا اور پلک جھپکتے اس کے پیچ ڈھیلے کر کے اگلی گاڑی کو پکڑ لیتا۔ کچھ دیر تک تو وہ ہمارے بے وجہ کے تجاہل کو برداشت کرتا رہا پھر بولا یہاں گاڑی کے نیچے آؤ، ہم نے دور سے ہی جواب دیا کہ اپنے مختصر قد کی بنا پر جتنے اچھے سے وہ وہاں پورا آ جاتا ہے وہاں میرا سمانا کافی مشکل ہے۔ یہ کام ہماری ہمت اور حوصلے دونوں سے زیادہ تھا تو ہم نے دل میں خدا سے کردہ ناکردہ گناہوں کی معافی مانگی اور چپکے سے سگریٹ سلگانے کے بہانے وہاں سے نکلے تو گھر آ کر ہی دم لیا۔ شاید انہیں بھی اندازہ ہو گیا کہ میں ان کے کسی کام کا نہیں، سو نا انہوں نے پھر کبھی پوچھا بلایا نا ہم نے کچھ کہنا مناسب سمجھا۔

خیر اللہ کہ مہربانی سے اس کے دو چار روز بعد ہی اپنی فیلڈ سے ملتی جلتی ایک نوکری مل گئی جہاں ایک فیشن سٹور کا سوشل میڈیا مینیج کرتے۔ یہاں، ہفتہ میں صرف دو روز جا کر اپنی مطلوبہ تصاویر اور ویڈیوز بنا آتا اور باقی دن گھر سے مینیج کرتا۔ پھر اس کے ایک ہفتہ بعد ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی کسٹمر سروس میں دوسری ملازمت بھی شامل ہو گئی جو کام کے ماحول، تنخواہ اور میڈیکل وغیرہ کے لحاظ سے کینیڈا کی بہترین کمپنی مانی جاتی ہے۔ اب سوچتا ہوں کہ شاید تقدیر میں لکھے ان چند گھنٹوں کے دوران خدا یہی باور کروا رہا تھا کہ آگے جو ملے اس پر شکر گزار رہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •