بین الاقوامی ترقیاتی تعاون ہی مسئلےکاحل ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عالمی وبائی صورتحال کے تناظر میں اس وقت دنیا کو بدترین اقتصادی بحران درپیش ہے۔ معاشی سرگرمیاں ماند پڑنے کے باعث غربت، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل سامنے آ رہے ہیں جبکہ عوام بھی سماجی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ دنیا کی اہم معیشتوں کی بات کی جائے تو، خود کو اور اپنے عوام کو وبائی اثرات سے جلد از جلد باہر نکالنا ہر ملک کی بنیادی خواہش ہے۔ اسی باعث قوم پرستی اور تحفظ پسندی جیسے نظریات بھی کھل کر سامنے آئے ہیں۔ چاہے ویکسین کی فراہمی ہو یا پھر تجارتی مفادات کاحصول، اکثر بڑے ممالک کی کوششوں کا محور صرف اپنے عوام ہی ہیں۔

اس بات سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ہے کہ اگر دنیا نے خود کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنا ہے تو پھر عالمی اقتصادی تعاون ہی اس کی واحد کلید ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتوں بشمول امریکہ، چین، جاپان، برطانیہ، جرمنی، فرانس، کے درمیان تجارتی معاشی تعاون کا فروغ اور تجارتی تحفظ پسندی سے گریز عالمی اقتصادی بحالی کے عمل میں انتہائی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

چین کی بات کی جائے تو ابھی حال ہی میں چینی حکومت نے بین الاقوامی ترقیاتی تعاون کے حوالے سے ایک وائٹ پیپر جاری کیاہے۔ اس وائٹ پیپر میں نئے دور میں بین الاقوامی ترقیاتی تعاون کے حوالے سے چین کے اقدامات اور آئندہ کے منصوبوں کے حوالے سے چین کے وژن کو اجاگر کیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق چین بین الاقوامی ترقیاتی تعاون کے پیمانے میں مستقل اضافہ جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے تحت ایشیا اور افریقہ کے کم ترقی یافتہ ممالک اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں شریک ترقی پذیر ممالک کو اعلیٰ ترجیح دی گئی ہے۔

چین 2012 میں چینی کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی) کی 18 ویں قومی کانگریس کے بعد ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے اور اہم عالمی ذمہ داریوں کے تناظر میں چین کی جانب سے بنی نوع انسان کے لیے مشترکہ مستقبل کے حامل سماج کا وژن پیش کرتے ہوئے ٹھوس عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔

چین نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی روشنی میں ترقیاتی تعاون کو نمایاں طور پر آگے بڑھایا ہے اور انفرادی ممالک کی ضروریات پر مبنی پالیسی سازی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، دوطرفہ تجارت، مالیاتی معاونت اور افرادی رابطوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی اعلیٰ معیار پر مبنی اشتراکی ترقی ہے۔

پائیدار ترقی کے تناظر میں دیکھا جائے تو اقوام متحدہ کے 2030 کے پائیدار ترقیاتی ایجنڈے کے نفاذ میں ایک فعال شراکت دار کی حیثیت سے، چین دیگر ترقی پذیر ممالک کو انسداد غربت، زرعی ترقی کے فروغ، تعلیم تک مساوی رسائی، انفراسٹرکچر کی بہتری اور صنعت کاری کو تیز کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ چین نے 2013 سے 2018 کے درمیان، گرانٹس، سود سے پاک قرضوں اور مراعاتی قرضوں کے ذریعے 270.2 بلین یوآن مالیت کی غیر ملکی امداد فراہم کی۔ اسی عرصے کے دوران چین نے دنیا کے بیشتر ممالک کی امداد کے لیے اپنا طبی عملہ، ہزاروں رضا کار اور ماہرین بھیجے ہیں جنہوں نے ہنگامی بنیادوں پر امداد کی فراہمی سمیت بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو اور امدادی سامان کی فراہمی میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔

چین کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ ضرورت مند ممالک کو اپنی بہترین صلاحیت کے مطابق امداد فراہم کی جائے اور بڑے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے اور گلوبل گورننس کے نظام میں بہتری کے لیے اپنا اہم کردار ادا کیا جائے۔ چین نے اپنے تجربات کے تبادلے سمیت انسانی وسائل کی ترقی اور تکنیکی تعاون کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کی امداد میں اضافہ کیا ہے۔

چین نے ہمیشہ یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ مشترکہ مستقبل کی حامل عالمی برادری کے وژن کو برقرار رکھے گا، مشترکہ مفادات کے حصول کے تحت بین الاقوامی ترقیاتی تعاون کو فروغ دینے کے لئے اپنے وسائل کے مطابق مزید اہم کردار ادا کرے گا۔ چین پر عزم ہے کہ کثیرالجہتی کا مضبوطی سے دفاع کیا جائے گا، عالمی سطح پر ہم آہنگی کے فروغ سے گورننس کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا اور مل کر اشتراکی ترقی کے لیے جستجو کی جائے گی۔ اسی سوچ کے تحت موجودہ اقتصادی بحران سے نمٹا جا سکتا ہے۔ تحفظ پسندی کی سوچ ترقی پذیر اور کم ترقی یافتہ ممالک کے عوام کو ترقیاتی ثمرات سے محروم کر سکتی ہے جو طویل المیعاد بنیادوں پر بنی نوع انسان کے لیے تباہ کن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •