بدلے ہوئے کشمیر میں 4 جی انٹرنیٹ نہیں ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈیڑھ سال قبل ہم دیار کشمیر کے رہنے والوں کو پندرہ بیس سال پیچھے دھکیل دیا گیا۔ تیز رفتار ترقیوں کے اس دور میں ہمیں انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم کر دیا گیا۔ اتنا ہی نہیں کال کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ فون پر رابطے میں رہنے پر بھی قدغنیں لگا دی گئیں۔ باقی ممالک فائیو جی ( 5 g) کے تجربے کر رہے ہیں ہم فور جی ( 4 g) کی شکل دیکھنے کو ترس رہے ہیں۔ بنا انٹرنیٹ کے ہمیں جن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، ہم ہی جانتے ہیں۔

چھوٹے بڑے، بچے بزرگ، طلبا اور تجارت پیشہ افراد سبھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان طلبا کا ہو رہا ہے۔ جن کے پاس تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے صرف آن لائن کلاسز ہی کا راستہ بچتا ہے کیونکہ کورونا کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں۔ جب سے جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو کالعدم قرار دیا گیا ہمیں نہ صرف گھروں کے اندر محصور کر دیا گیاہے بلکہ انٹرنیٹ سے بھی محروم کر دیا گیا۔ نہ یہ رہا نہ وہ رہا، رہے تو خراب حالات، افراتفری، پریشانیاں اور پابندیاں۔

کبھی ہم خصوصی پوزیشن ختم ہونے پر ماتم کرتے رہے تو کبھی انٹرنیٹ کی بحالی کا انتظار لیکن دونوں ہم سے دور دور ہی رہے۔ ہر دو دو ماہ بعد اخباروں اور سوشل میڈیا پر یہ خبر گردش کرتی ہے کہ جلد ہی اچھی خبر سنے کو ملے گی، کمیٹی بن گئی ہے جو صورتحال کا جائزہ لے گی۔ کمیٹیاں تو بہت بنیں لیکن پتا نہیں چل سکا کہ یہ کمیٹیاں حالات کا جائزہ لینے کے بعد کہاں جاتی ہیں اور ان کی رپورٹ میں ایسا کیا لکھا ہوتا ہے کہ دو ماہ اور معاملہ سرد خانے میں پڑا رہنے دیا جاتا ہے۔

اتنے بھی کشمیر میں کون سے بڑے بڑے ہیکر بیٹھے ہیں جو سارے سسٹم کو ہیک کر کے ملک کی سلامتی کو زک پہنچا سکتے ہیں۔ ہمیں کیوں ٹو جی ( 2 g) پر اکتفا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور ہم فور جی کا انتظار اس محبوب کی طرح کر رہے ہیں جس نے آنے کا وعدہ تو کیا ہے لیکن ابھی تک نہ آیا۔

جتنا وقت مسیج لکھنے میں لگتا ہے اس سے زیادہ وقت اسے ‘سینڈ’ کرنے میں لگتا ہے۔ اگر کوئی امیج یا وڈیو کسی کو بھیجنا ہو یا کسی کو کوئی ضروری ڈاکیومنٹ سینڈ کرنا ہو پھر تو دن بھر اسی کام میں صرف ہوتا ہے۔ اپلیکیشن اپڈیٹ کرنی ہو تو پورا پورا دن اسی کام کے لیے وقف رکھنا پڑتا ہے۔ فون اپڈیٹ پچھلے سال سے نہیں ہوئے۔ اس تیز رفتار دنیا میں ہم سے بڑا صابر کوئی نہ ہوگا جو صبر کرتے کرتے ایک منٹ کا معمولی کام ایک دن میں کرتے ہیں۔

خصوصی پوزیش ہم سے چھینے کے بعد پہلے تو مکمل طور کال کرنا تک بند تھی۔ پھر چھ ماہ کی طویل اذیت کے بعد کال کرنے کی سہولیت میسر ہوئی لیکن انٹرنیٹ کی سہولیت سے محروم ہی رکھا گیا۔  دو تین ماہ ہوئے، حالات کا جائزہ لینے کے بعد ٹو جی کو کبھی بحال تو بھی بے حال رکھا گیا۔ اب کافی وقت بیت جانے کے بعد بھی صرف خبریں گردش کر رہی ہیں کہ اچھی خبر آئے گی فور جی انٹرنیٹ بحال ہونے کے حوالے سے۔ یہ خبریں اخبارات اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے کے بعد لوگوں میں ایک امید جاگ اٹھتی ہے لیکن جلد ہی وہ امید فوت ہو جاتی ہے جب ایک اور خبر چند دن بعد آتی ہے کہ حالات کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

اب ہمیں انٹرنیٹ کے خواب آتے ہیں اور نہ ہی فور جی کی تمنا رہی ہے۔ وہ صبر اور ہمت بھی نہیں کہ انتظار کر سکیں۔ اب ہمارے ہونٹوں پر بس یہ شعر آتا ہے جس کو ہم گنگنا رہے ہیں :

ہم جی رہے ہیں کوئی بہانہ کیے بغیر
نیٹ کے بغیر نیٹ کی تمنا کیے بغیر

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •