ڈاکٹر امجد ثاقب کی کتاب: “اخوت کا سفر”

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شاد باش اے عشق خوش سودائے ما
اے طبیب جملہ علت ہائے ما

(مولانا روم)

ڈاکٹر امجد ثاقب کی کتاب ”اخوت کا سفر“ نظر سے گزری۔ کہنے کو یہ امریکا کا سفرنامہ ہے مگر اس کے ہر ورق پر تاریخ و معاشرت کا گہرا شعور، بنی نوع انسان سے بے لوث محبت، مجبوروں کی آہیں، مختاروں کی درد مندی، سعی پیہم کے ناقابل یقین اثرات اور امید کے لحظہ لحظہ جلتے چراغ نظر آتے ہیں اور پھر ان سب عوامل کی بنیاد آشکار ہوتی ہے جو کوئی اور نہیں بلکہ عشق مصطفیٰ ﷺ اور اس کا برپا کردہ انقلاب مواخات مدینہ ہے۔ ایسی چنگاری بھی یا رب اپنے خاکستر میں تھی۔

بطور بیوروکریٹ پنجاب رورل سپورٹ پروگرام میں کام کے دوران مصنف نے 2001 میں چند دوستوں کے تعاون سے انتہائی بے سرو سامانی کے عالم میں اخوت کی داغ بیل ڈالی اور اٹھارہ سال تک سول سروس سے وابستہ رہنے کے بعد دو ہزار تین میں استعفیٰ دے کر خود کو اخوت کے لیے وقف کر دیا۔

2012 میں مصنف کو امریکا کی ہاورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس بابت اسلامک فنانس اینڈ ڈیویلپمنٹ میں فیتھ بیسڈ انویسٹمنٹ اینڈ سوشل رسپانسبلٹی پر بات کرنے کا موقع ملا۔ اس دورۂ امریکا کے دوران فاضل وقت میں مصنف نے اخوت کے تعارف کے لیے ایک ہزار پاکستانیوں سے ملنے کا عزم کیا جو با امداد دوستاں کامیابی سے ہم کنار ہوا۔ کتاب اسی سفر کی یادگار ہے۔

اخوت مائیکرو فنانسنگ کا ادارہ ہے اور پانچ اصولوں پر کام کرتا ہے۔
اول) سود سے مکمل اجتناب
دوم) مسجد میں بیٹھ کر کام
سوم) رضا کاریت
چہارم) آج کے گیرندگان (لینے والے ) کل کے دھندگان
پنجم) مذہبی آزادی اور رواداری

مصنف کے مطابق اخوت نے اب تک لاکھوں مرد و زن کو بلا لحاظ رنگ و نسل و صنف و مذہب، چھوٹے کاروبار کے لیے اربوں روپے کے قسط وار بلا سود قرضے جاری کیے ہیں جن کی شرح واپسی ننانوے اعشاریہ پچاسی فی صد ہے۔ نیز قرض حسنہ لینے والے اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کے بعد اخوت کے ڈونرز بنے ہیں۔ یہ سب نہایت خوش کن ہے کہ پاکستانی قوم کی دیانت داری، احساس ذمہ داری، حب کسب حلال اور غیرت کی آئینہ دار ہے۔

دوران سفر مصنف کی تعلیم، ملازمت، ملکی مسائل اور اخوت کی حیات فلیش بیک کی صورت میں چلتی ہے۔ مصنف نے کتاب میں اخوت کے آغاز، اس کی راہ میں حائل مالی، انتظامی و معاشرتی مسائل، دھیرے دھیرے کامیابی، مخیر حضرات کے اعتماد اور بین الاقوامی پہچان سے لے کر حکومتی اعتراف و تعاون اور اس کی خواھر تنظیمات کے قیام کا جائزہ لیا ہے۔ اس دوران مصنف نے مالی، انتظامی و وقتی دست ہائے تعاون دراز کرنے والوں کی دل کھول کر ستائش کی ہے اور اخوت کو انفرادی کارنامہ قرار دینے سے گریز کیا ہے۔

خصوصی طور پر مجھے یہ اچھا لگا کہ اخوت کا عمومی فوکس معاشرے کے محروم طبقات ہیں۔ محروم طبقات میں روایتی طور پر صرف عورتوں اور بچوں کو شامل کیا جاتا ہے۔ مگر اخوت نے غیر روایتی محروم طبقات یعنی اقلیتوں، جنسی کارکنان اور صنف سوم کو بھی اپنی توجہ کا حصہ دیا ہے جو نہایت خوش آئند ہونے کے ساتھ اخوت کے ہر قسم کے تعصب اور خوف سے بالا ہونے کا ثبوت بھی ہے۔

کتاب میں مائیکرو فنانسنگ کے سودی اداروں کی منافع خوری اور اصل مقصد یعنی غربت کم کرنے میں ناکامی کے بالمقابل اخوت کی غیر سودی پالیسی کی کامیابی کی وجوہات کا از شرح و بسط جائزہ لیا گیا ہے۔ روایتی مائیکرو فنانسنگ کے ماہرین نے مصنف کے روبرو بارہا سود کی عدم موجودگی میں اخوت کے قرض حسنہ پروگرام کی پائیداری پر سوال اٹھایا۔ مصنف کے مطابق اولاً ”ہر معاشرے میں دینے والے موجود ہوتے ہیں جو بحکم ربی و بجذبہ انسانیت دوسروں کو اپنی دولت میں شریک کرتے ہیں ،  دوم یہ کہ لینے والے بھیک نہیں، مدد چاہتے ہیں۔ مزید یہ کہ مائیکرو فنانسنگ کاروبار نہیں اور جب اس کا مقصد فقط حصول رضائے الٰہی ہو تو پروردگار عالم اس کی بقا و ترقی کا ضامن رہے گا اور اس پروگرام کا اتنا عرصہ جاری رہنا اور ترقی کرنا اسی بات کا ثبوت ہے۔

اس سب سے ہٹ کر اس کتاب میں عالمی خصوصاً امریکی تاریخ اور عالمی شہرت یافتہ کتب سے دانائی اور علم  کا ایسی دلکش جھلک موجود ہے جو اسے مختار مسعود کی ’آواز دوست‘ جیسی کتب کی صف میں لا کھڑا کرتی ہے۔ جا بجا بر محل اردو اشعار اور قصص تاریخ، جہاں مصنف کی کثرت مطالعہ پر دال ہیں وہیں قاری کے لطف کو دگنا کرتے ہیں اور موضوعاتی یبوست کو بے پایاں شگفتگی میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ متن میں اردو الفاظ اور تراکیب کے علاوہ اردو املا کی صحت کا از بس خیال رکھا گیا ہے۔ میں نے ذاتی طور پر کئی الفاظ اور تراکیب کا درست استعمال اس کتاب سے سیکھا ہے۔

اختتام کتاب پر علامہ اقبال یاد آئے:

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

283 صفحات پر مشتمل کتاب سنگ میل پبلی کیشنز نے چھاپی ہے اور نہایت دیدہ زیب ہے۔ قیمت ایک ہزار روپے ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
فیصل محمود میر کی دیگر تحریریں