لاہور بار الیکشن کے دلچسپ اور کانٹے دار مقابلے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور بار ایسوسی ایشن کا 9 جنوری 2020 کو ہونے والا الیکشن 2021۔ 22 انتہائی دلچسپ اور کانٹے دار مقابلوں سے بھرپور تھا۔ دوسری مرتبہ بائیو میٹرک ووٹنگ سسٹم کے تحت ہونے والے اس الیکشن میں کل 5422 ووٹرز وکلا نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

اس الیکشن میں لاہور بار ایسوسی ایشن کی صدارت کے لئے دو حریف گروپس، پروفیشنل اور انڈیپنڈنٹ کے امیدواران کے مابین ون ٹو ون مقابلہ تھا۔ الیکشن سے قبل اس مقابلے کو ”یک طرفہ“ قرار دیا جا رہا تھا اور انڈیپنڈنٹ گروپ کے امیدوار اور معروف وکلاء راہنما برہان معظم ملک کے بہنوئی ملک سرود احمد کو اپنے مدمقابل پروفیشنل گروپ کے امیدوار راؤ سمیع کے مقابلے مضبوط ترین امیدوار کہا جا رہا تھا مگر الیکشن ڈے پر راؤ سمیع  نے ملک سرود احمد کو بڑی مشکل سے دوچار کیا جس کی وجہ سے ملک سروداحمد کے کل 2544 ووٹ کے مقابلے میں راؤ سمیع  نے 2503 ووٹ حاصل کیے اس طرح انڈیپنڈنٹ گروپ کے ملک سرود احمد صرف 41 ووٹوں کی لیڈ سے صدر منتخب ہوئے ہیں۔

اسی طرح نائب صدور کی چار اور سیکرٹری کی دو نشستوں پر انتہائی دلچسپ مقابلے دیکھنے کو ملے جن میں نائب صدر کی دو نشستوں پر کل چار امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا۔ ان میں پہلی دفعہ الیکشن لڑنے والے ایک مضبوط امیدوار رانا شاہد حسین 2410 ووٹ اور دوسری بار الیکشن لڑنے والے ایم ایچ شاہین 2201 ووٹ لے کر بالترتیب سینئر نائب صدر اور نائب صدر منتخب ہوئے،  ویسے الیکشن سے قبل ایم ایچ شاہین کو ایک کمزور امیدوار سمجھا جا رہا ہے ، اس لئے ان کی جیت کو کسی ”اپ سیٹ“ سے کم نہیں کہا جاسکتا جبکہ دیگر امیدواروں میں چوتھا الیکشن لڑنے والے امیدوار خرم میر 2070 ووٹ اور تیسرا الیکشن لڑنے والے سجاد بٹ نے 1812 ووٹ حاصل کیے۔

نائب صدر ماڈل ٹاؤن سیٹ پر کل چار امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا جن میں تیسری دفعہ الیکشن لڑنے والے رانا کوثر سلہری 2112 ووٹ جبکہ پہلی بار الیکشن لڑنے والے امیدواران عظمت ضیاء سندھو 1613 ووٹ، ارشد بھٹی 833 اور سعید رندھاوا  نے 539 ووٹ حاصل کیے ، اس طرح ماڈل ٹاؤن سیٹ پر رانا کوثر سلہری نائب صدر منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے۔

کینٹ سیٹ کے نائب صدر کے لئے کل تین امیدواروں کے مابین مقابلہ تھا، نائب صدر کی اس نشست پر دوسرا الیکشن لڑنے والے عرفان اے کچھی 2617 ووٹ لے کر فتح یاب رہے جبکہ ان مدمقابل امیدوار پیر سید شہباز بخاری 1364 ووٹ اور عجب خان 789 ووٹ حاصل کر سکے۔

سیکرٹری کی دونشستوں پر کل پانچ امیدواروں میں مقابلہ تھا جن میں ماسوائے شہزاد حسین کمبوہ کے باقی تمام امیدوار اپنا دوسرا دوسرا الیکشن لڑ رہے تھے۔ ان میں احمد سعد خان 2894 ووٹ، مدثر بٹ 2760 ووٹ، جاوید ہاشمی 1758 ووٹ، شہزاد حسین کمبوہ 1110 ووٹ اور سید عظمیٰ گیلانی 157 ووٹ ، شامل تھے۔

اس طرح سابقہ عہدیداران سید اسد زیدی، فرحان مصطفیٰ جعفری اور نومنتخب ممبر پنجاب بار کونسل ادیب اسلم بھنڈر کے امیدوار احمد سعد خان سیکرٹری جنرل جبکہ نائب صدر لاہور ہائیکورٹ بار سعید حسین ناگرہ، سابق سیکرٹریز نعیم خان چوہان اور احمد فراز لون کے امیدوار مدثر بٹ سیکرٹری منتخب ہوئے۔

جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے پر تینوں ہی نئے امیدواروں کے مابین مقابلہ تھا،  ان میں میاں فرحت سلیم 2546 ووٹ، عاطف کمال بھٹی 1667 ووٹ اور نور سندھو 725 ووٹ شامل تھے ، اس طرح فوجداری کے مشہور وکیل رانا عرفان کے شاگرد میاں فرحت سلیم فتح سے ہم کنار ہوئے۔

اس بار فنانس سیکرٹری کی نشست پر انتہائی دلچسپ انتخابی مہم دیکھنے کو ملی۔ اس نشست پر کل چار امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا ، یہ سبھی پہلی دفعہ الیکشن لڑ رہے تھے ان میں رانا محمد اکمل خاں 1840 ووٹ، ملک جواد اعوان 1504 ووٹ، سردار سلمان اختر 1212 اور سید سلمان شاہ 623 ووٹ شامل تھے،  اس مقابلے میں نومنتخب ممبر پنجاب بار کونسل رانا آصف کے حمایت یافتہ اور چیئرمین UBLF طلال مشتاق سلہری کے شاگرد رانا محمد اکمل خاں فنانس سیکرٹری منتخب ہوئے۔

لائبریری سیکرٹری پر کل پانچ امیدواروں میں مقابلہ تھا ، جن میں صرف خواجہ التمس مقصود کے علاوہ باقی تمام امیدوار ایسے تھے جو پہلی دفعہ الیکشن لڑرہے تھے لہٰذا اس مقابلے میں کامیاب امیدوارپروفیسر عتیق 2141 ووٹ کے علاوہ صوفی عتیق 1462 ووٹ، خواجہ التمس مقصود 616 ووٹ، محمد سلطان اکبر زبیر 442 ووٹ اور میاں طیب صدیق 397 ووٹ حاصل کرسکے ۔

اس کے بعد آخری نشست یعنی آڈیٹر پر تینوں نئے امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا ، جن میں کامیاب امیدوار حافظ عثمان لال دین 2115 ووٹ، حافظ اسلام شوکت 1545 ووٹ اور ذوالفقار اے شیخ 1223 ووٹ شامل تھے۔ اس طرح یہ تھا لاہور بار ایسوسی ایشن کا انتہائی دلچسپ اور کانٹے دار مقابلوں سے بھرپور الیکشن، جس میں انتہائی فیورٹ امیدواروں کی شکست اور کمزور سمجھے جانے والے امیدواروں کی اپ سیٹ فتح ان کا مقدر بنی۔

میری ذاتی رائے میں اس دفعہ گزشتہ سال کے لحاظ سے ووٹرز ٹرن آؤٹ کافی کم تھا جس کی خاص وجہ عالمی وباء ”کورونا وائرس“ کے پھیلاؤ کا خوف ہو سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •