براڈ شیٹ،نواز شریف کے اثاثے اور فرزندِ احمد فراز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوچتا ہوں کہ اگر نواز شریف نہ ہوتا تو یہ حکومت اور اس کے سارے ادارے اپنی ناکامیوں اور نا اہلیوں کی ذمہ داری کس کے سر تھوپتے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ ایک طرف حکومت نے نواز شریف کا کسی بھی طرح کا انٹرویو، بیان یا تقریر دکھانے پر پابندی لگا رکھی ہے مگر دوسری طرف وزیراعظم سمیت بیسیوں ترجمانوں کی گفتگو کی تان نواز شریف پر ٹوٹتی ہے۔ ان کی گزر بسر اسی تنخواہ پر ہوتی ہے جو انہیں نواز شریف پر بہتان طرازی کے بدلے میں مل رہی ہے۔

وزیراعظم ہاوٴس سے لے کر چھوٹی سے چھوٹی وزارت تک ہر وقت سارا عملہ بڑی مستعدی سے اسی کام پر لگا رہتا ہے کہ نواز شریف پر کیچڑ کیسے اچھالنا ہے؟ ان پر الزامات کی بارش کیسے کرنا ہے؟ حکومت کی بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ کا یہ عالم ہے کہ اگر کسی مسئلے میں نواز شریف پر الزام دھرنے سے نواز شریف کا برائے نام اور حکومت کا اپنا بھاری نقصان بھی ہو رہا ہو تو بھی وہ اس کی تشہیر سے باز نہیں آتی۔

یقین نہیں آتا تو برطانوی کمپنی براڈ شیٹ کے سی ای او اوکاوے موساوی کے انٹرویو کے حوالے سے ہی دیکھ لیں کہ کس طرح چائے کے پیالی میں طوفان اٹھانے کی ناکام کوشش کی گئی۔

براڈ شیٹ کو جنرل مشرف نے 1999 میں پاکستان کے سیاست دانوں کے اثاثوں کا سراغ لگانے کے لیے ہائر کیا تھا۔ یہ معاہدہ 2003 میں ختم ہو گیا تھا۔ اس دوران کمپنی نے سیکڑوں سیاستدانوں کے اثاثوں کا کھوج لگایا مگر جنرل مشرف کی حکومت نے ان سیاست دانوں کو اپنی حکومت کا حصہ بنا لیا اور نیب نے براڈ شیٹ کو لکھا کہ ان کے خلاف تحقیقات روک دی جائیں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ جن سیاسدانوں کے خلاف تحقیقات رکوائی گئیں ان میں نواز شریف سمیت ان کے خاندان کے کسی فرد کا نام شامل نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ براڈ شیٹ کو ہزار جتن کے باوجود وہاں نواز شریف کے خلاف ناجائز اثاثوں کے حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ملا۔

چند روز پیشتر جب برطانیہ کی عدالت نے براڈ شیٹ کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے نیب پر سات ارب روپے جرمانہ عائد کیا تو اس فیصلے کو بھی نواز شریف نے اپنی بے گناہی پر مہر تصدیق ثبت ہونے کے حوالے سے استعمال کیا۔ کچھ روز قبل ایک صحافی عرفان ہاشمی نے براڈ شیٹ کے سربراہ سے ایک انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو کسی ٹی وی چینل پر نہیں بلکہ یو ٹیوب پر چلا۔ اس انٹرویو میں او کاوے موساوی نے کہا کہ نواز شریف اپنی بے گناہی کے حوالے سے جھوٹا دعویٰ کر رہے ہیں۔

مزید کہا کہ نواز شریف نے 2012 میں اثاثوں کی تحقیقات ترک کرنے پر اپنے بھتیجے یا بھانجے انجم ڈار کے ذریعے ہمیں اڑھائی ملین ڈالرز کی پیشکش کی تھی۔ یاد رہے کہ اس وقت شاید ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی کل لاگت بھی اتنی نہیں بنتی تھی۔ حیرت اس بات پر ہے کہ جب کمپنی کا معاہدہ 2003 میں ختم ہو گیا تھا تو نو سال بعد نواز شریف اسے اتنی بھاری رشوت کی پیشکش کیوں کر رہے تھے اور یہ بات انہوں نے وہاں کی سپریم کورٹ یا کسی حکومتی ادارے کو اس وقت کیوں نہیں بتائی، نو سال بعد انہیں اس کی یاد کیوں آئی؟

شہزاد اکبر نے اوکاوے کے اس انٹرویو کے بعد توقع کے عین مطابق پریس کانفرنس کھڑکا دی اور حسب عادت یا حسب حکم نواز فیملی پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ چور، ڈاکو، کرپٹ اور لٹیرے کی گردان کرتے رہے مگر انہوں نے بہت سی باتوں کے علاوہ یہ نہیں بتایا کہ اکتوبر 2018 میں جب وہ اوکاوے سے ملے تھے تو انہیں بتایا گیا تھا کہ ہمارے پاس ایک پاکستانی ”معزز“ شہری کے ایک ارب ڈالرز کے پکے ثبوت موجود ہیں۔ آپ چاہیں تو وہ اثاثے آپ کو واپس مل سکتے ہیں مگر شہزاد اکبر کے کیونکہ پر جلنے لگے تھے اس لیے انہوں نے اس میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا اور ان کے ساتھ جانے والے ”کنٹرول ٹاور“ کے نمائندے اس دوران اپنے حصے کے حوالے سے بحث کرتے رہے۔ جو کچھ اوکاوے موساوی نے نیب کی شان میں فرمایا اور کہا کہ نیب جھوٹ بول رہا ہے تو اس حوالے سے شہزاد اکبر نے کچھ نہیں کہا۔

اب بھی جب اوکاوے نے لندن میں نواز شریف کے اثاثوں کا کھوج لگانے کی پیشکش کی تو ہماری صادق و امین حکومت نے انکار کر دیا۔ حالانکہ حکومت کے پاس کتنا شاندار موقع تھا کہ وہ نواز شریف کے اثاثہ جات اور ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کا کھوج لگا کر ”لوٹے“ ہوئے اربوں ڈالرز واپس لاتی۔ اب خیر سے حکومت نے اس حوالے سے وزرا کی ایک کمیٹی بھی بنا دی ہے جس کے سربراہ فرزند احمد فراز ہیں۔ یادش بخیر، ابھی کل ہی احمد فراز کا یوم پیدائش گزرا ہے۔

موصوف نے اس حوالے سے ایک تقریب سے بھی خطاب کیا اور اپنے عظیم والد کی قبر پر پھول بھی چڑھائے۔ شبلی فراز اور ولید اقبال جیسے لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ تاریخ کے غلط رخ پر کھڑے ہوتے ہیں۔ کاش شبلی فراز موجودہ سلیکٹڈ حکومت کے گن گانے کے بجائے آج سننے والوں کو اپنے عظیم والد کی ”محاصرہ“ اور ”غنیم سے“ جیسی مشہور نظمیں سناتے۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا ہمیں افسوس ہے کہ موجودہ سیٹ اپ نواز شریف انتقام میں اس قدر اندھا ہو چکا ہے کہ اپنی سیاسی لڑائی برطانیہ جیسے مہذب اور قانون پسند ملک میں لڑ کر ملک کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •