سرِ منبر وہ خوابوں کے محل تعمیر کرتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تبدیلی کا سنہرا خواب دیکھنے والے تحریک انصاف کے حمایتو! تم بے قصور ہو،قصور وار تو وہ ہیں جنہوں نے بڑی خوبصورتی اور مہارت کے ساتھ تمہارے اذہان کے ساتھ کھلواڑ کیا۔ جب ایک سوچے سمجھے منصوبے اور بھرپور میڈیا مہم کے ذریعے تمہیں سبز باغ دکھائے گئے، تمہارے اذہان کو قابو کرنے کے لئے جلسے جلوسوں اور دھرنوں میں کی گئی تقاریر میں تمہیں بتایا گیا کہ ہالینڈ کا وزیراعظم سائیکل پر دفتر جاتا ہے جبکہ نواز شریف و زرداری قافلے کی صورت میں سفر کرتے ہیں اور ہم اقتدار میں آ کر پروٹوکول سسٹم ختم کردیں گے۔

تم نے بھی اپنے دل میں یہ امید پیدا کر لی کہ ہمارا کپتان اقتدار میں آ کر پروٹوکول سسٹم ختم کر کے سائیکل پر دفتر جایا کرے گا مگر ثابت ہوا کہ ہالینڈ کا وزیراعظم صرف نواز شریف کے دور میں سائیکل پر دفتر جایا کرتا تھا۔ تمہارے کپتان کی حکومت آنے کہ بعد وہ جہازوں اور لگژری گاڑیوں میں قافلے کی صورت میں دفتر جانے لگا۔

تمہارا کپتان کہا کرتا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد سب سے پہلا کام وزیر اعظم اور گورنر ہاؤسز پر بلڈورز چلایا جائے گا اور ان کی جگہ یونیورسٹیاں اور بچوں کے کھیلنے کے لئے پارک بنائے جائیں گے۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ وہ بھی آپ کے اذہان کو قابو کرنے کے لیے محض لفاظی تھی۔

تمہارا کپتان کہا کرتا تھا سابقہ حکومتوں کی لمبی چوڑی کابینہ کی جگہ کپتان محض چند ارکان کی کابینہ تشکیل دے کر قومی خزانے کو بچائے گا۔ تمہیں بتایا گیا کہ جو ملک آپ کو قرضہ دیتا ہے وہ آپ کی آزادی لے جاتا ہے اور پھر آئی ایم ایف آپ کو ڈکٹیٹ کرتی ہے، اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کا بوجھ عوام کے کاندھوں پر آتا ہے۔

سابق حکمرانوں نے ملک سے اربوں کے قرضے لے کر ملک کو مقروض کر دیا، ہم اقتدار میں آ کر کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے، تمہارا خان گلے میں رسی ڈال کر خودکشی کر لے گا مگر قرضہ نہیں لے گا کیونکہ تمہارے خان کو دنیا کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہوئے شرم آتی ہے۔

نواز شریف کے دور میں جب ایمنسٹی اسکیم کی بات کی جاتی تو تمہارا کپتان کہتا کہ یہ اسکیم چوروں اور ڈاکوؤں کو تحفظ دینے کے لیے لائی جا رہی ہے، ہم اس کی بھرپور مخالفت کریں گے۔ مگر اقتدار میں آ کر خان اسی ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے چوروں اور ڈاکوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ جو ایمنسٹی اسکیم نواز شریف کے دور میں حرام تھی، تمہارے کپتان نے اپنے دور میں اس کو حلال کر دیا۔

سابق حکمرانوں کے ادوار میں جب بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا تو خان اپنی تقاریر میں کہا کرتا کہ جب عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول سستا ہوتا ہے مگر یہاں قیمتیں بڑھا کر اپنی جیبیں بھری جا رہی ہیں اور غریب عوام پر بوجھ ڈالا جاتا ہے۔

تمہیں بتایا گیا کہ خان اقتدار میں آ کر ملک بھر میں بے روزگار افراد کو ایک کروڑ نوکریاں اور بے گھروں کو پچاس لاکھ گھر فراہم کرے گا۔ بیرون ملک مقیم پاکستان فوری طور پر پاکستان منتقل ہو کر یہاں سرمایہ کاری کریں گے۔ جس سے دودھ کی نہریں بہنے لگیں گی۔ اقتدار میں آنے کے بعد تمہارا کپتان تمہیں ملک سے گیس اور تیل کے ذخائر برآمد ہونے کی جھوٹی نوید سنا کر تمہاری سادگی اور معصومیت سے کھیلتا رہا۔

تمھارا کپتان سابقہ حکومتوں کو طعنے دیتے ہوئے کہا کرتا تھا جب مہنگائی بڑھتی ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ حکمران چور ہیں۔ تمہارا کپتان کہا کرتا تھا جس بے گناہ مقتول کے قاتل نامعلوم ہوں اور وہ نہ پکڑے جائیں تو اس کا ذمہ دار حکمران ہوتا ہے۔ اور تم اپنے کپتان کے ان کھوکھلے نعروں اور جذباتی تقاریر سے متاثر ہو کر اس کو اپنا مسیحا سمجھ بیٹھے کہ کپتان صاف ستھری اور نئی قیادت کے ساتھ اقتدار میں آ کر تمہاری زندگیاں جنت بنا دے گا۔

تمہاری ساری پریشانیاں اور مسائل ختم ہو جائیں گے۔ تمہیں روٹی آٹا چینی گیس و بجلی سستے دام ملیں گے۔ مگر تمہارے کپتان نے اقتدار میں آ کر مہنگائی میں سو فیصد اضافہ کر دیا۔ سرکاری اداروں سے ملازمین کو فارغ کیا جا رہا ہے۔ ملازمین اپنی تنخواہوں و پنشن سے محروم ہیں۔ گیس کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، آج تم گیس سے محروم ہو اور پتھروں کے دور میں سانس لے رہے ہو۔

تمہارا کپتان اقتدار میں آتے ہی اپنے وعدوں اور نعروں سے منحرف ہو گیا۔ انہی پرانے بدبودار و بوسیدہ لوٹوں کو اس نے اپنی پہلی صف میں کھڑا کر لیا جن کو وہ کبھی پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو، چور و لٹیرا کہا کرتا ہے۔ کل تک جس شیخ رشید کو تمہارا کپتان اپنا چپراسی رکھنے کو تیار نہیں تھا اس کو وزیر داخلہ بنا دیا۔

تم سے کیا گیا کوئی ایک ایسا وعدہ نہیں جو اس نے اقتدار میں آنے کے بعد پورا کیا ہو۔ سابق حکمرانوں کے ادوار میں جب کوئی سانحہ رونما ہوتا تو وہ اپنی سیاست چمکانے وہاں پہنچ جایا کرتا اور اس وقت کے حکمرانوں کو بے حسی اور بے شرمی کے طعنے دیا کرتا تھا مگر آج بلوچستان کے علاقے مچھ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے گیارہ غریب کان کنوں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انہیں کسی جانور کی طرح ذبح کر کے قتل کر دیا جاتا ہے اور سوگوار لواحقین سخت سردی میں اپنے پیاروں کی لاشیں لے کر 6 دن اپنے کپتان کی آمد کا انتظار کرتے ہیں۔ اس کو اپنے پیاروں کی لاشیں دکھانا چاہتے ہیں تو آپ کا کپتان ان مظلوم اور بے بس لواحقین کو بلیک میلر کہتا ہے۔

آخر میں تمہارے کپتان کی خوبصورت لفاظی اور تم سے کیے گئے وعدوں پر حبیب جالب کا ایک شعر کہہ کر بات ختم کروں گا۔

‏سر منبر وہ خوابوں کے محل تعمیر کرتے ہیں
علاج غم نہیں کرتے فقط تقریر کرتے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •