بچوں پر چِلّانا کیوں برا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بشری سعید ایک مشہور و معروف ناول نگار ہیں ، ان کا ایک ناول ’سفال گر‘ کے نام سے ہے جس میں انہوں نے والدین کو سفال گر سے تشبیہہ دی ہے کہ والدین سفال گر کی طرح ہوتے ہیں ، فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ سفال گر مٹی سے برتن بناتا ہے اور والدین معصوم اور انجان بچوں کی شخصیت نکھارتے اور سنوارتے ہیں۔

یوں تو تربیت کی ذمہ داری والدین پر ہوتی ہے مگر معاشرتی لحاظ سے یہ ذمہ داری ماؤں پر آجاتی ہے کہ وہ تربیت میں کلیدی کردار ادا کرے ، آج میں ماؤں کے جس رویے یا انداز پر بات کر رہی ہوں وہ ہے چیخ کر بات کرنا یا پھر اونچی آواز میں بات کرنا۔

چونکہ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر جوائنٹ فیملی سسٹم رائج ہے جس کے باعث مائیں کبھی کسی بات پر چڑچڑی ہو جاتی ہیں اور کبھی کسی کا رویہ اتنا ناگوار گزرتا ہے کہ ان کو اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ وہ نامناسب انداز میں اونچی آواز میں چیخ کر اپنے بچوں سے بات کر رہی ہیں۔

ماؤں کے اس رویے سے بچوں کو اس بات کی تحریک ملتی ہے کہ چیخ کر بات کرنا ایک درست عمل ہے اور پھر جب وہ کسی بڑے سے اس انداز میں بات کرتے ہیں تو پھر ان کی تربیت کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔

چیخ کر بات کرنے کے بچوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جب مائیں بچوں کو آواز دے کر بلاتی ہیں اور وہ بات نہیں سنتے تو وہ چیخ کر بلانے کو ترجیح دیتی ہیں ، وقتی طور پر تو بچے ڈر بھی جاتے ہیں اور بات بھی سن لیتے ہیں مگر ان کے مزاج میں بہتری نہیں آتی بلکہ ان کا مزاج بدتر ہو جاتا ہے اور وہ چیخ کر بات کرنے کو ہی صحیح سمجھنے لگتے ہیں۔

اس سے بچوں کی دماغی نشوونما متاثر ہوتی ہیں اور بچے منفی سوچ اور منفی رویوں کو زیادہ جلدی اپنا لیتے ہیں۔  جب منفی سوچ ان کی ذات کا حصہ بن جاتی ہے تو ان سے جڑے لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ، ان میں والدین، بہن ، بھائی غرض یہ کہ کوئی بھی شامل ہو سکتا ہے۔

آج کے دور میں نوجوان نسل کو ڈپریشن کی کافی زیادہ شکایت ہے اور اس کی مختلف وجوہات ہیں ، جن میں ایک چیخ کر بات کرنا بھی ہے کیونکہ جن بچوں سے چیخ کر بات کی جاتی ہے ، وہ آگے جا کر ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے خود کشی کے ارتکاب کا سوچنے کے ساتھ ساتھ مختلف نشوں کے بھی عادی ہو جاتے ہیں اور اس کا عملی ثبوت ہمیں مختلف اخباروں میں نوجوانوں کی خود کشی کرنے اور نشے کا عادی ہونے کی خبروں سے ملتا رہتا ہے۔

چیخ کر بات کرنے کے باعث بچوں کی جسمانی نشوونما بھی متاثر ہوتی ہیں اور وہ اپنی عمر کے لحاظ سے بات کرنے، عادات و اطوار اپنانے کے ساتھ جسمانی طور پر صحت مند نہیں ہوتے۔ ایسے بچے مسلسل سردرد، کمر درد اور گردن میں درد کی شکایت کرنے لگتے ہیں اور انھیں چھوٹی سی عمر میں مختلف ادویات کھانا پڑتی ہے اور وہ درد و تکلیف میں مبتلا رہتے ہیں۔

اگر ماؤں کو اس بات کا اندازہ ہو جائے کہ وہ صرف چیخ کر بات کرنے کی وجہ سے اپنے بچوں کو کن مسائل کا شکار کر رہی ہیں تو وہ کبھی بچوں کے ساتھ ایسا رویہ نہ اپنائیں ۔ اس سے قبل کہ انہیں بچوں کو یہ کہنا پڑے کہ ’’تم اونچی آواز میں بات کر رہے ہو اور تمہاری آواز کانوں میں چبھ رہی ہے‘‘ ، اپنا لب و لہجہ درست کرتا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •