ایسا ہے میرا سائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”کام، کام اور بس کام“ اور ڈسپلن یا شیڈول کی پابندی، یہ دو خصوصیات جس ملک کے حاکم میں پائی جائیں، اس ملک کو ترقی سے بھلا کون روک پائے گا؟ کوئی مانے یا نہ مانے، قسمت نے سات عشروں بعد مجھے ایک ایسا حکمران عطا کیا ہے جس میں یہ دونوں خصوصیات اس زمانے میں بھی پائی جاتی ہیں۔ رہی بات کام کی تو میرا حاکم ملک و قوم کی خاطر کام میں اتنا مصروف ہے کہ اسے گرد و پیش کی خبر بھی نہیں۔

اب دور کیا جائیں، سانحہ کوئٹہ ہی دیکھ لیں۔ اتنا بڑا سانحہ ہو گیا لیکن کام میں ”دھت“ ہونے کی وجہ سے میرے حاکم کو معلوم ہی نہیں ہوا کہ ملک کے ایک حصے میں کیا قیامت بپا ہو چکی ہے؟ تیسرے دن جا کر ایک ٹویٹ کیا۔ کام میں مگن ایسا مخلص اور نیک حاکم، میں ہی کیا تاریخ نے بھی پہلی بار دیکھا ہو گا۔

رہی بات ڈسپلن اور شیڈول کی پابندی کی تو بھی میرا سائیں اس دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔ اب دیکھیں ناں کہ گیارہ لاشیں سڑک پر رکھی تھیں اور ان کے ورثا اور لواحقین یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ جب تک ہمارے گھر (وطن بھی گھر ہی ہوتا ہے ) کا رکھوالا اور بڑا (حاکم وقت اپنی عوام کا رکھوالا اور بڑا ہی ہوتا ہے ) نہیں آ جاتا تب ہم اپنے پیاروں کو دفن نہیں کریں گے۔ لیکن انہیں کیا خبر کہ اس بار ان کا پالا کسی ایرے غیرے نتھو خیرے یا لنڈے کے حاکم سے نہیں بلکہ شیڈول اور ڈسپلن کے پابند ایک ایسے کوہ ہمالیہ سے پڑا ہے جسے اپنی جگہ سے ہلانا آسان نہیں۔ لہٰذا کہہ دیا گیا کہ وہاں جانے کے لیے جلد ہی شیڈول ترتیب دیا جائے گا۔ شیڈول اور ڈسپلن کے پابند ایسے حکمران ملنا اور وہ بھی مادیت پرستی کے اس دور میں، مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے، واللہ!

زمانے کا کیا ہے؟ وہ تو ہے قدر ناشناس۔ ایک ”جاہل“ نے مجھے بھی کہہ دیا : ایسا بے حس انسان میں نے زندگی میں نہیں دیکھا۔ حکمران باپ کی مانند ہوتا ہے اور عوام اس کی اولاد کی طرح۔ اولاد دکھ میں ہو اور باپ شیڈول بناتا پھرے؟ میں نے کہا: تمہاری غلطی نہیں۔ تمہیں قاعدے قوانین کا علم ہی نہیں۔ سابق حکمرانوں کی طرح وہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے ہر حادثے پر دوڑا نہیں چلا جاتا۔ وہ کیا اپنی مرضی کرتا پھرے؟ یہ بادشاہت نہیں بلکہ ایک عوامی حکومت ہے جہاں ہر کام کابینہ کی منظوری سے ہوتا ہے۔ اس نے جانے یا نہ جانے کا معاملہ باقاعدہ کابینہ میں پیش کیا۔ وہاں شیڈول کا فیصلہ ہوا اور اس نے فیصلے کی پابندی کی۔

دشمنوں کو تو گویا موقع ملا ہے مذاق اڑانے کا۔ کیسے بے حس لوگ ہیں لاشوں پر سیاست کر رہے ہیں؟ ابھی کل ہی ایک ”سیاسی“ نے مجھے طعنہ مارا : لواحقین کہہ رہے تھے کہ پہلے حاکم آئے گا پھر لاشیں دفنائی جائیں گی۔ جبکہ حاکم کہہ رہا تھا: پہلے لاشیں دفنائی جائیں گی پھرمیں آؤں گا۔ میں نے اسے جواب دیا:قیامت کے دن باتوں کو میری اور تمہاری مرضی کے میزان میں نہیں تولا جائے گا۔ کسی بات کے اچھا یا برا ہونے کا معیار شریعت ہے۔ تم جانتے ہو ، لاشوں کی بابت شریعت کا حکم یہی ہے کہ انہیں جلد از جلد دفنایا جائے اور میرے سائیں نے یہی بات کی ہے۔ یہ ریاست مدینہ ہے، کسی کے باپ کی جاگیر نہیں۔

کچھ کج فہم ایسے بھی ہیں جو کہہ رہے ہیں : کپتان تو لاشوں کے سامنے بھی ”ڈٹ“ گیا ہے اور کہہ رہا ہے کہ مجھے بلیک میل نہیں کیا جا سکتا۔ میں نے کہا : آہ سیاسی یتیم! یہ وہ لوگ ہیں جنہیں علم و شعور کی ہوا بھی نہیں لگی۔ انہیں سیاست کی بجائے کسی سٹیج ڈرامے میں کام کرنا چاہیے۔ ایسا فقرہ کیا کسی باشعور انسان کو زیب دیتا ہے؟ انسان کی پہچان خوشی یا غم میں ہی ہوتی ہے۔ کمزور اعصاب کا مالک خوشی میں اپنی اوقات بھول جاتا ہے اور غم میں اپنے حواس کھو بیٹھتا ہے۔ایسی کیفیت کے زیر اثر آ جانا ہی بلیک میل ہونا کہلاتا ہے اور ایسی حالت میں دانش مندانہ فیصلے کا امکان صفر ہوتا ہے۔

اللہ کا شکر ہے میرا سائیں مضبوط اعصاب کا مالک ہے۔ اٹھارہ لاشوں کا غم سہنا آسان کام نہیں۔ اس موقع پر انسان سے کوئی بھی جذباتی فیصلہ سرزد ہو سکتا ہے لیکن شکر ہے میرا سائیں سستے جذبات سے کوسوں ”دور“ ہے۔ اس سے جذبات میں بھی کوئی ایسی ویسی حرکت سرزد نہیں ہوئی جس سے ملک و قوم کی جگ ہنسائی ہوتی۔ ورنہ لوگ کیا کہتے کہ جاپانی ناگا ساکی اور ہیروشیما میں لاکھوں لاشیں اٹھا کر بھی ثابت قدم رہے اور پاکستانی گیارہ لاشوں کا بوجھ بھی نہ سہار سکے۔

مذاکرات کامیاب ہونے کی دیر تھی کہ سب کے منہ بند ہو گئے۔ میں نے کہا:یہ ہوتی حکمت عملی اور ایسے کی جاتی حکومت۔ اب مجرموں کو قرار واقعی سزا ملے گی۔ لیکن دشمن تعریف کی بجائے الٹا مجھ سے کہنے لگے : چینی چوروں کو سزا مل گئی ہو جیسے؟ اگرچہ ایسے ”بھٹواریوں“ کو منہ نہیں لگانا چاہیے لیکن میں انہیں جواب دینا اپنی ”کومی“ ذمہ داری سمجھتا ہوں۔ ایسے لوگوں سے بس اتنا ہی کہنا ہے کہ فرض کریں کورونا کے ان دنوں تمہیں کسی بینک جانا پڑے، تم بینک کے سامنے لگی لمبی قطار میں کھڑے ہو جاؤ، نمبر تمہارا ہو لیکن تمہارے پیچھے کھڑے دو تین لوگ قطار توڑ کر تم سے پہلے بینک میں داخل ہو جائیں تو تمہیں کیسا لگے گا؟

بہت برا لگے گا اور تم بینک کے سسٹم کو برا بھلا کہو گے۔ بالکل ایسے ہی میرا سائیں بھی ترتیب توڑ کر کسی کو سسٹم پر انگلی اٹھانے کا موقع نہیں دے سکتا۔ پہلے بہاولپور، پھر چینی چور، پھر آٹا مافیا، پھر میڈیسن کی واردات میں ملوث لوگ، پھر بجلی مہنگی کرنے والے، پھر گیس کی مد میں لوٹ مار کرنے والے، پھر اسامہ ستی اور پھر سانحہ مچھ کے مقتولین، ہر کسی کو اپنے نمبر پر انصاف ملے۔ یہ عوامی حکومت ہے کسی عطائی کا کلینک نہیں کی مٹھی گرم کر کے اپنا نمبر پہلے لگوا لے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •