2020ء میں بارشیں اور چلو بھر پانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شعر تو ہم نے یہ پڑھا تھا

تخلیق کائنات کے دلچسپ جرم پر

ہنستا تو ہو گا آپ بھی یزداں کبھی کبھی

لیکن 2020ء میں تخلیق کائنات پر یزداں ہنسا نہیں بلکہ برس پڑا۔ حیران نہ ہوں بالکل یہی ہوا۔ اور اس کے غصہ اور ناراضی کا اظہار پاکستان پر ہوا۔ پاکستان میں اس سال اتنی طوفانی بارش ہوئی کہ پورا ملک زیر آب آ گیا۔ ملک کا چپہ چپہ قریہ قریہ پانی میں ڈوبا ہوا تھا۔ سڑکوں اور ندی نالوں میں تمیز نہیں کی جا سکتی تھی۔ ہرانسان خواہ تین امیر تھا یا غریب ایک عذاب میں مبتلا تھا۔ بڑے بڑے شاندار بنگلوں اور کوٹھیوں میں بنائے ہوئے تہہ خانے پانی سے لبالب بھرے ہوئے تھے کیونکہ نکاسی کہاں کی جاتی جب سڑکیں اور گلیاں پانی سے بھری ہوئی تھیں۔ چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں محفوظ کیا ہوا سب سامان ڈوب گیا اور لاکھوں کا نقصان دے گیا۔

جب بنگلوں اور کوٹھیوں کا یہ حشر ہوا تو کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ غریب اور مزدور کے کچے گھر اور نالوں کے قریب بنائی ہوئی جھگیوں کا کیا حال ہوا ہو گا۔ انہیں دیکھ کر تو یہ محسوس ہوتا تھا کہ یہاں کبھی کچھ تھا ہی نہیں۔ مٹی کے ڈھیر۔ چٹائیوں سے بنائی ہوئی جھگیوں کے بہتے ہوئے تنکے اور گھاس پھوس اور اس سب کے درمیان رہائشیوں کی ضرورت کا سامان کوئی ٹوٹا، کوئی ثابت برتن، کپڑے جوتے، سب خاکستر اسے تو چھوڑیئے۔ ان کے لاغر دُبلے، پتلے بچے جو کبھی ان نالوں کے آس پاس کھیلتے کودتے تھے کہیں کہیں تو وہ انہی نالوں میں ڈوب رہے تھے اور ان کو بچانے کے لئے ان کے ماں باپ اپنی جان کی بازی لگائے ہوئے تھے۔

شاہراﺅں پر بھی اتنا پانی تھا کہ بڑی سے بڑی گاڑی، بس، سوزوکیاں آدھی آدھی ڈوبی ہوئی تھیں اور پھر آسمان سے گرتا ہوا چھاجوں پانی، جگہ جگہ درخت گر رہے تھے تو کبھی بجلی کے کھمبوں اور تاروں میں کرنٹ دوڑ رہا تھا یعنی انسانی جانیں بھی کہیں محفوظ نہیں تھیں۔ یہ شاید قہرِ خدا وندی تھا۔ ہمارے گناہوں کی سزا تھی۔ ہم جو یہ ماننے کے لئے کبھی تیار ہی نہیں ہوئے کہ ہم نے کوئی غلطی کی ہے۔ کوئی جرم کیا ہے۔ کوئی گناہ کیا ہے۔

برسات کا موسم جو بہت سہانا ہوتا ہے۔ شہر شہر گاﺅں گاﺅں میں اس کا استقبال، جھولوں، پکوانوں، گانوں اور بارش کے پانی میں نہانے سے کیا جاتا ہے، کبھی ہلکی ہلکی بھوار، کبھی چھماچھم بارش، اس حسین موسم سے جی بھر کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لیکن 2020ء کی یہ تباہ کن بارش، تفرےح، خوشیاں سب کچھ بہا کر لے گئی۔

جدھر نظر ڈالو پانی ہی پانی، صرف ایک ہفتہ ہونے والی بارش نے جیسے زندگی کے پیروں میں زنجیر باندھ دی، وہ وہیں رک گئی۔ ہاں۔ اس تباہی میں یہ ضرور ہوا کہ پیسے والے لوگ تو اس اذیت ناک وقت کو جوں توں سہار گئے۔ لیکن وہ جو پہلے بھی برباد تھے۔ تباہ حال تھے، وہ پانی میں اپنی ڈوبی ہوئی زندگی کی تلاش میں لگ گئے۔ اور شاید ساتھ ساتھ یہ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ ہماری غربت، بدحالی کسمپرسی اتنا بڑا جرم ہے کہ جس خدا نے ہمیں پیدا کیا ہے ہم ہی اس کے عتاب میں آ گئے۔ اس کا سارا غصہ اور عذاب ہم ہی پر نازل ہو گیا۔ ہم نہ جینے میں رہے نہ مرنے میں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بارش کا زور کم ہوتا گیا اور رفتہ رفتہ زندگی معمول پر آنے لگی۔

لیکن میں آج تک یہی سوچ رہی ہوں کہ بابائے قوم قائدآعظم محمد علی جناح اس ملک کو جن لوگوں کو سونپ کر گئے تھے انہوں نے 74 سال میں اس ملک کو کس طرح سنبھالا وہ بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھ کر اس کا حشر دیکھتے رہے بلکہ گستاخی معاف حشر کرتے رہے۔ ان کا تو شاید اس طوفان سے بال بھی بیکا نہیں ہوا ہو گا۔ لیکن کیا انہیں شرم بھی نہیں آئی۔ ہاں شاید نہیں آئی۔ ورنہ وہ شرم سے پانی پانی ہو جاتے۔ بلکہ میرے خیال میں انہیں چلو بھر پانی میں ڈوب کے مرجانا چاہیے تھا۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ اس خوفناک بارش کے باوجود انہیں تو شاید ڈوب کر مر جانے کے لئے چلو بھر پانی بھی نہیں ملا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حمرا خلیق کی دیگر تحریریں