وزیر آباد کا ضمنی انتخاب اور مہنگائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بے شک کشمیر میں رنگ ہوتا ہے، روپ ہوتا ہے۔ خدو خال بھی ہوتے ہیں مگر حسن نہیں ہوتا۔ کشمیری کو کشمیر سے نکال کر پنجاب میں لے آﺅ۔ اسے پنجاب کی ہوا لگنے دو۔ کوئی دن اسے یہاں کا پانی پینے دو۔ پھر دیکھو عورتیں، مرد، بچے، بوڑھے سبھی حسن سے کیسے لد پھند جاتے ہیں۔ صدیوں سے سہمے، د بکے، کشمیر جنت نظیر کے کشمیریوں کو پنجاب بڑا راس آتا ہے۔ میاں شریف فیملی ضلع امرتسر میں کشمیر سے کب آئی ؟ کہاں کہاں، کتنا عرصہ مقیم رہی؟ نہیں معلوم۔ البتہ یہ جانتے ہیں کہ جیسے داتا گنج بخش کی غزنی میں رہ جانے والی کتابیں انہیں لاہور میں بھولی نہیں تھیں۔ اسی طرح میاں محمد شریف امرتسر سے لاہور پہنچ کر اپنی جاتی عمرہ گاﺅں کی یادیں نہ بھلا سکے۔ جب یہاں ڈھیروں مال اموال، اقتدار، اختیار ہاتھ آ گیا تو لاہور کے نواح میں اپنا الگ جاتی عمرہ بسا کر وہیں بیٹھ رہے۔

بے حد و حساب دھن دولت ہی نہیں، ان کے گھرانے کو لمبا اقتدار بھی نصیب ہوا۔ مزے کی بات ہے، کھدر کی کامریڈی شرٹ پہن کر حبیب جالب کی شاعری چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف پڑھتے سناتے رہے۔ لیکن سنٹرل پنجاب سے ووٹرز بڑے بھائی میاں نواز شریف کو ہی جانتے اور مانتے رہے۔ و ہ مسلم لیگ، گلی کوچوں محلہ بازاروں تک لے گئے۔ پنجاب میں آسودہ حال لوگوں کو پیپلز پارٹی کی اسلامی سوشلزم سے خدا واسطے کا بیر تھا۔ ہر کھاتے پیتے بندے نے بس یہی جانا جیسے بھٹو ان کی دھن دولت، کوٹھے زمین کا بٹوارہ کر کے رہے گا۔

بھٹو مخالف ووٹروں نے سب سے پہلے میاں نوازشریف کو محبت بھری نظروں سے اس وقت دیکھا جب انہوں نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب لاہور ایئر پورٹ پر وزیر اعظم محترمہ بینظیربھٹو کے استقبال کے لئے پہنچنے سے حیلے بہانوں سے انکار کیا۔ کرپشن ہمارا کاروباری طبقہ مانتا ہی نہیں۔ وہ صرف اتنا جانتے ہیں کہ مال اسباب جیسے تیسے سمیٹ کر اپنے گھر لے جانا جائز ہے۔ رہی اس خاندان کی سرکاری چابکدستی، چالاکی سے اپنی جائیداد، دولت، کارخانوں کی دن دوگنی رات چوگنی بڑھوتری کو یہ لوگ سرے سے کرپشن سمجھتے ہی نہیں۔ رہی سہی کسر ان کے بعد آنے والے حکمران نے نکال کر رکھ دی۔ مہنگائی کے ہاتھوں بھوکے مرتے عوام یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ نااہلیت کرپشن سے زیادہ مہلک ہے۔ ’ کٹورے پہ کٹورا، بیٹا باپ سے بھی گورا‘۔ لیکن نہیں۔ ذرا ٹھہریں۔ یہاں تو معاملہ بیٹے کا نہیں، دھی رانی کا ہے۔ پنجابی لوک کہانیوں میں اب تک یہی سننے میں آتا رہا۔ ”پُتراں لئی جاگیر وے بابلا، دھیاں لئی پردیس“۔ اس خاندان نے ریت روایت ہی بدل دی۔ پتروں کے حصے میں پردیس آیا اور دھی رانی کو مکمل سیاسی وراثت کے ساتھ جاگیر مل گئی۔

گوجرانوالہ کی تحصیل وزیر آباد چیموں، چٹھوں کا علاقہ ہے۔ ممبر پنجاب اسمبلی شوکت منظور چیمہ کی موت کے باعث ان دنوں یہاں ضمنی انتخاب کا رن پڑا ہے۔ 1937ءمیں یہیں سے حامد ناصر چٹھہ کے دادا، نصیر اللہ چٹھہ سابق سپیکر قومی اسمبلی، صاحبزادہ فاروق علی خاں کے والد نصرت علی خاں اور راجہ برج وزیر آباد کے راجہ عبداللہ کے مقابلہ میں الیکشن جیت کر مرکزی اسمبلی پہنچے۔ پھر 1946ءاور 1962ءمیں حامد ناصر چٹھہ کے والد صلاح الدین چٹھہ ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوتے رہے۔ 70ء اور 77ء میں حامد ناصر چٹھہ میدان میں اترے۔ لیکن یہ دونوں مرتبہ پیپلز پارٹی سے ہار گئے۔ 85ء میں پیپلز پارٹی میدان میں نہ رہی۔ میدان خالی پایا اور یہ جیت گئے۔ 88ء میں پیپلز پارٹی پھر میدان میں آن موجود ہوئی، سو یہ پھر ہار گئے۔ 90ء میں انہوں نے میاں نواز شریف کے کیمپ سے کامیابی پائی۔ 97ء میں پھر ہارے۔ 2002ء میں وزیر آباد کی ایک سیٹ سے جیتے ضرور لیکن دوسری سیٹ سے ہارنا نہ بھولے۔

اس کے بعد دو تین الیکشنوں میں پہلے جسٹس افتخار چیمہ اور پھر ان کے بھائی ڈاکٹر نثار چیمہ ہی جیتتے چلے آرہے ہیں۔ اس خاندان میں امانت، دیانت ضرور ہے لیکن اپنی کم آمیزی اور اصول پرستی کے باعث یہ روایتی سیاسی خاندان ہر گز نہیں۔ تھانے کچہری میں یہ کسی کی ناجائز مدد کو تیار نہیں۔ ان کی کامیابی محض ن لیگی ووٹوں پر منحصر ہے۔ ضلع گوجرانوالہ ن لیگی گڑھ ہے۔ جب بھی الیکشنوں کا ذکر چھڑے، 70ء کے الیکشن کا ذکر ضرور آتا ہے۔ اس الیکشن کے بارے لوگ سیلاب کا لفظ برتتے ہیں۔ مزے کی بات ہے کہ اس” سیلاب“ میں بھی وزیر آباد سے مسلم لیگی امیدوار راجہ کرنل جمیل اللہ ہی جیتے تھے۔ لیکن 2018ء کے الیکشن میں مسلم لیگ نے کلین سویپ کامیابی حاصل کی۔

تحریک انصاف کی جانب سے حامد ناصر چٹھہ کا بیٹا امیدوار تھا۔ اپنے باپ کے برعکس محمد احمد چٹھہ میل ملاقات میں جاگیردارانہ تمکنت سے کوسوں دور ہے۔ لیکن شائستگی اور خوش اخلاقی بھی اسے الیکشن میں شکست سے نہ بچا سکی۔ وزیر آباد کے صوبائی حلقہ میں 2018ء کے الیکشن میں یہاں جاٹ کا ایک دوسرے جاٹ سے مقابلہ تھا۔ اس مرتبہ حامد ناصر چٹھہ نے اپنے سیاسی” پیروکار“ کو تحریک انصاف کا ٹکٹ دلوایا ہے۔ اس امیر کبیر کاروباری امیدوار میاں محمد یوسف کا تعلق ارائیں برادری سے ہے۔ ہمارے ہاں الیکشن ابھی تک قبیلہ برادری، وسائل، افرادی قوت کے چنگل سے باہر نہیں نکل سکے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی ٹکٹ دیتے ہوئے یہ امور مد نظر رکھنے پڑتے ہیں۔

ن لیگ سے مرحوم ایم پی اے کی بیوی بیگم طلعت شوکت ہی انتخابی ٹکٹ کی حقدار ٹھہریں گی۔ وہ دعویدار ہیں کہ اس حلقہ سے ن لیگ ہی چوتھی بار جیتے گی۔ ضمنی انتخاب میں عام طور پر برسر اقتدار جماعت جیت جاتی ہے۔ لیکن شاید وزیر آباد میں ایسا نہ ہو سکے۔ کسی زمانہ میں ڈپٹی کمشنر کا عہدہ بہت طاقتور ہوتا تھا اور ضمنی انتخاب میں سرکاری امیدوار کو جتوا لینا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل۔ لیکن اب وہ بات نہیں رہی۔ اب یہ افسری نہیں، نوکری کرتے ہیں۔ پھونک پھونک کر قدم دھرتے ہیں۔ ہاں! اب الیکشن تک وزیر آباد میں ہر طرف وزیر ہی وزیر نظر آئیں گے۔ بہت سے ترقیاتی اعلانات بھی ہوں گے۔ نوکریاں، تبادلے، دلاسے، بہت کچھ ہو گا۔ لیکن تحریک انصاف کے امیدوار کے لئے جیتنا آسان نہیں۔ سب کچھ بجا۔ لیکن آسمانوں تک پہنچی ہوئی مہنگائی کو تحریک انصاف کا امیدوار کہاں لے جائے گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •