ہزارہ مزدوروں کا قتل: ہلاک ہونے والے دس کان کنوں میں سب سے کم عمر احمد والدین کا سہارا بننا چاہتے تھے

محمد کاظم - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہزارہ
BBC
’میرا بیٹا بڑا آدمی اور ہمارا معاشی سہارا بننا چاہتا تھا‘
’اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ مجھ سے میرا لخت جگر ہمیشہ کے لیے چھن جائے گا تو میں اسے کبھی بھی کوئلے کی کان میں محنت مزدوری کے لیے نہیں بھیجتی۔‘

یہ کہنا تھا کوئٹہ کی رہائشی آمنہ بی بی کا جن کا نوجوان بیٹا احمد شاہ ان دس کان کنوں میں شامل تھا جنھیں نامعلوم مسلح افراد نے دو اور تین جنوری کی درمیانی شب بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے مچھ میں قتل کیا گیا تھا۔

احمد شاہ نہ صرف مارے جانے والے کان کنوں میں سب سے کم عمر تھے بلکہ وہ ایک ذہین طالب علم بھی تھے۔

ان کی والدہ کے مطابق کورونا اور سردیوں کی وجہ سے تعلیمی اداروں کی بندش کے باعث احمد شاہ یہ سوچ کر محنت مزدوری کے لیے گئے تھے کہ اپنے والدین کے لیے کچھ کما سکیں۔

احمد شاہ کو والدین بڑا آدمی بنانا چاہتے تھے

احمد شاہ کوئٹہ شہر کے مغرب میں بروری روڈ کے علاقے میں ہزارہ ٹاؤن کے رہائشی تھے۔ ان کی والدہ نے بتایا کہ ان کے تین بچوں میں احمد شاہ سب سے بڑے تھے۔

اگرچہ احمد شاہ ہزارہ ٹاؤن کے رہائشی تھے لیکن ہزارہ قبیلے کے افراد پر حملوں کی وجہ سے وہ کوئٹہ شہر کے دوسرے کونے میں واقع گورنمنٹ موسیٰ کالج میں ایف ایسی پری انجنیئرنگ کے طالب علم تھے۔

یہ بھی پڑھیے

جب تک وزیر اعظم نہیں آئیں گے ہم میتیں نہیں دفنائیں گے‘

مچھ میں 10 ہزارہ کان کنوں کا قتل، دولتِ اسلامیہ نے ذمہ داری قبول کر لی

’جلد آؤں گا لیکن اپنے پیاروں کو دفنا دیں‘، وزیراعظم کی ہزارہ مظاہرین سے درخواست

ان کے خاندان کے بہت سارے لوگ پہلے بھی کوئلے کی کانوں میں محنت مزدوری کرتے رہے ہیں۔

ہزارہ

BBC
احمد شاہ کے گھر میں ان کی تصاویر اب کی باقی رہ جانے والی نشانیوں میں سے ایک ہیں

چونکہ کوئلے کی کانوں میں کام ناصرف مشکل ہوتا ہے بلکہ حفاظت کے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے کان کنوں کی زندگیوں کو ہمیشہ خطرات لاحق رہتے ہیں جس کے پیش نظر احمد شاہ کے والدین اُن کو پڑھا لکھا کر بڑا آدمی بنانا چاہتے تھے۔

آمنہ بی بی نے بتایا کہ احمد شاہ ایک ذہین طالب علم تھے۔

’میرے بیٹے نے پہلی سے ساتویں جماعت تک پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔‘

انھوں نے احمد شاہ کی تمام تعیمی اسناد دکھائیں جن کے مطابق ساتویں جماعت کے بعد بھی احمد شاہ امتیازی نمبروں سے پاس ہوتے رہے۔

آمنہ بی بی نے کہا کہ ’احمد کے والد بیروزگار ہیں، ہماری یہ خواہش تھی کہ وہ بڑا ہو کر انجینیئر بنے اور اپنے خاندان کا سہارا بنے۔ وہ خود بھی بڑا آدمی بننے کے لیے بہت زیادہ محنت کرتا تھا۔‘

اپنے ہاتھوں میں ان کی اسناد کو اٹھاتے ہوئے آمنہ بی بی نے سوال کیا کہ ’اب یہ اسناد ہمارے کس کام کی ہیں۔‘

ہزارہ

BBC
اگرچہ احمد کم عمر تھے مگر انھوں نے پولیس میں سپاہی بھرتی ہونے کے لیے دو مرتبہ درخواستیں دیں۔ محکمہ پولیس کی جانب سے انھیں بتایا گیا کہ جب وہ 18 برس کے ہو جائیں گے تو وہ سرکاری نوکری کے اہل ہوں گے

والدین کا معاشی سہارا بننے کے لیے پرعزم

آمنہ بی بی نے بتایا کہ احمد شاہ جس عمر میں تھے اس میں والدین بچوں کا سہارا بنتے ہیں لیکن احمد شاہ ایک پرعزم اور باہمت بچہ تھا۔

’وہ کہا کرتا تھا کہ اب وہ بڑا ہوگیا ہے، اس لیے وہ اب ہمارا سہارا بنے گا۔ چونکہ اسے کوئی اور کام نہیں کرنے کو نہیں ملا تو اس لیے اسے کوئلے کی کانوں میں محنت مزدوری کے لیے جانا پڑا۔‘

احمد کی والدہ کے مطابق چونکہ احمد شاہ کے ماموں اور دیگر رشتہ دار مچھ میں کوئلہ کانوں میں کام کرتے تھے اس لیے وہ وہاں ماموں کے پاس گیا تھا۔

پولیس میں بھرتی کے لیے احمد شاہ کی درخواستیں قبول نہ ہوئیں

آمنہ بی بی نے بتایا کہ چونکہ احمد شاہ کے والد بیروزگار تھے اس لیے وہ ہمارے لیے بے چین رہتا تھا اور ان کی خواہش تھی کہ وہ جلد از جلد ہمارا معاشی سہارا بنے۔

’اگرچہ وہ کم عمر تھا مگر پولیس میں بطور سپاہی بھرتی ہونے کے لیے اشتہار آئے تو اس نے دو مرتبہ درخواستیں دیں۔ جب ان کی درخواست دوسری مرتبہ محکمہ پولیس میں جمع کی گئی تو ان کی عمر 17سال سات ماہ اور 22 دن تھی۔‘

’محکمے کی جانب سے بتایا گیا جب وہ 18 سال کے ہو جائیں گے تو وہ پولیس میں درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔‘

ہزارہ

BBC
آمنہ بی بی اپنے بیٹے کی تعلیمی اسناد دیکھ رہی ہیں

صرف بیٹے کا غم نہیں

آمنہ اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کا غم صرف ایک بیٹے کو کھو دینے تک محدود نہیں کیونکہ ان کے خاندان کے پانچ لوگ مارے گئے جن میں آمنہ کے بیٹے اور بھائی کے علاوہ تین دیگر قریبی رشتہ دار شامل تھے۔

آمنہ بی بی نے کہا کہ ’ایک تو غربت نے ہمیں مارا ہے جبکہ دوسری جانب مختلف گروہوں نے ہمیں مار دیا۔ ہمارے لوگوں کو طویل عرصے سے مارا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے سوال کیا کہ ’آخر ہمارا قصور کیا ہے۔ میرابیٹا تو ابھی ایک طالب علم تھا۔ اسے بھی مار دیا گیا۔ آخر اس کا کیا قصور تھا؟‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17332 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp