کیا نفرت کے کورونا کی کوئی ویکسین ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان ازل سے گروہوں یا مل جل کر رہنے کا عادی ہے کیونکہ ایک دوسرے کی مدد کے بنا ضروریات زندگی کو پورا کرنا ممکن نہیں۔ انسان کو حیوانوں سے افضل قرار دینے کی وجہ اس کی سمجھ بوجھ اور زبان کا استعمال ہے۔ جیسے جیسے انسان نے ترقی کی اسے لگا کہ تعلیم انسان کو نہ صرف شعور بخشتی ہے بلکہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی عطا کرتی ہے۔

سبط حسن اپنی کتاب ”پاکستان میں تہذیب کا ارتقا” میں سماجی اقدار کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ کسی بھی معاشرے میں روابط و سلوک، اخلاق و عادات، طرز بودوماند، رسم و رواج اور فن و اظہار فن کے رائج معیار معاشرے کی سماجی اقدار کہلاتے ہیں جنہیں نہ تو کسی مجلس شوری میں وضع کیا جاتا اور نہ ہی قانون کے ذریعے نافذکیا جاتا بلکہ اس کے پیچھے صدیوں کی روایات اور جہدوجہد کار فرما ہوتی ہے۔ ان سے انحراف کرنے والے کو قبیلے سے خارج کر دیا جاتا تھا لہٰذا معاشرے کے افراد ان قدروں کی حتی الوسع پابندی کرتے تھے۔ سماج کی بقا کا دار و مدار بڑی حد تک ان قدروں کی پاسداری تھا کیونکہ ان کی پاسداری میں اگر غفلت برتی جائے تو معاشرے کا شیرازہ بکھرنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

اس سے ایک بات تو واضح ہوتی ہے کہ تلخ تجربات کی بھٹی سے گزرنے کی بجائے دوسروں کے تجربات سے سیکھا جاسکتا ہے جس کا بہترین مصرف کتابیں پڑھنا ہے جن سے علم اور شعور میں اضافہ ہوتا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ زندگی کا حوالہ کتاب کے لکھے ہوئے حرف کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

ہم روزگار پانے کے لیے علم حاصل کرتے ہیں لیکن زندگی گزارنے کے آداب و اطوار سمجھنے کے لیے نہیں۔ کیونکہ کتاب سوچنا سکھاتی ہے اور ہم  نے معاشرے سے سوچنے کی صلاحیت اس سے کتاب چھین کر ختم کر دی ہے۔ آج معاشرے میں سیاست کا بازار گرم مگر اخلاقیات کا معیار کم ہوتا جا رہا ہے۔ عوام کے مسائل پر کسی کی توجہ مرکوز نہیں البتہ ایک دوسرے سے دست و گریباں ہونے کو بے چین بیٹھے ہیں۔

کورونا جیسی وبا جو کہ انسانی اعضا کو ناکارہ بنا دیتی ہے لیکن وہ بھی ہمارے اندر سے نفرت کے کیڑے کو مفلوج کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس بیماری نے دنیا بھر کے لوگوں کو نہ صرف قریب کر دیا بلکہ بہت سے لوگوں کو اپنے خاندان کو وقت دینے کا موقع ملا جو اپنی نجی مصروفیات کی بنا پر ایسا کرنے سے قاصر تھے۔ جس کی وجہ سے ان کی خاندانی زندگی درہم برہم اور نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہو رہی تھی یا پھر نوکروں کے رحم وکرم پر ہونے کی وجہ سے ذہنی و جسمانی تشدد کا شکار تھی۔

لوگوں نے ایک دوسرے کی بنا رنگ و نسل، مذہب، شکل، ذات پات کے مدد کی بلکہ ان حالات میں مدد کرنے اور خیال رکھنے کے نت نئے طریقے بھی ایجاد کیے جو کافی مددگار ثابت ہوئے مثلاً آن لائن طبی سہولت، ضرورت مند کا اپنے دروازے یا کھڑکی پر لال کپڑا یا رومال باندھنا (اس بات کا اشارہ تھا کہ اسے مدد کی ضرورت ہے ) ، لوگوں کو درست اور غلط خبر کے بارے میں معلومات دینا، اپنے اپنے گھر سے تالی بجا کر ایک دوسرے کو خیریت سے آگاہ کرنا، آن لائن تربیتی پروگراموں کی شروعات کرنے سے لوگوں میں کچھ سیکھنے کی امنگ پیدا ہوئی۔ اپنے پیاروں کا حال احوال جاننے کے لیے ویڈیو کالز، زوم اور واٹس ایپ جیسی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ایک نعمت سے کم نہیں لگا۔

سائنسدانوں نے دن رات ایک کر کے کورونا سے بچاو کی ویکسین بنائی تاکہ انسانیت کی خدمت کی جا سکے اور لوگوں کو اس موذی مرض سے بچایا جاسکے۔ جہاں دنیا میں اتنے بدلاو آئے وہیں معاشرے میں کچھ جگہوں پر نفرت اور تشدد بڑھا جس کی شاید وجہ نفساتی دباؤ تھا۔

خیر بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔اصل مدعا تو ہمارے ہاں سوشل میڈیا تک ہر انسان کی رسائی ہے جو شاید عقل و شعور کو کہیں الماری میں بند کر کے ویڈیوز اور پیغامات کے ذریعے معاشرے میں نفرت بڑھانے میں مشغول ہیں۔ ان پیغامات میں افراد بالخصوص اقلیتی افراد کو نہایت حقارت آمیز لہجے میں مخاطب کیا جاتا ہے اور ان کے مذاہب کے حوالے سے نازیبا الفاظ کا استعمال عام ہے لیکن کوئی انہیں پوچھنے یا روکنے والا نہیں۔ خیر یہ تو بات تھی عوام کی یہاں تو عقل و دانش کا دعویٰ کرنے والے بھی سیاست میں جو زبان استعمال کر رہے ہیں وہ ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت کا ایک اعلیٰ نمونہ پیش کرنے کو کافی ہے۔

اس نفرت کے عملی نمونے ہمیں ہر روز رونما ہونے والے واقعات مثلاً شیخوپورہ موٹر وے پر ایک بس ڈکیتی کے دوران ڈاکووں کا ہر مسافر سے اس کا مذہب بارے پوچھنا اور پھر مسیحی لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کرنا، کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کے 11 افرادکا بہیمانہ قتل اور اس پر ایک کالعدم تنظیم کا ذمہ داری لینا اور حکومت کا ملزمان کے خلاف ایکشن لینے کی بجائے صرف میڈیا پر معذرت کرنا اور خیبر پختون خواہ کے علاقے کرک میں انتہا پسندوں کا مذہبی قیادت کے ساتھ سمادھی پر حملہ اور سمادھی کا توڑا جانا (شکر ہے کہ عدالت نے اس پر سو موٹو نوٹس لیا اور مندر کی ازسر نو تعمیر کا حکم بھی دیا) اور سکھر میں مشن کمپاونڈ میں رہنے والے مسیحی برادری کے لوگوں پر لینڈ مافیا کا تشدد اور انہیں جگہ خالی کرنے کی دھمکیاں ، اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ اپنے قدریں کھو چکا ہے۔

کبھی ہمارا معاشرہ بھی امن کا گہوارہ تھا۔ آج سے بیس پچیس برس پیچھے مڑ کر دیکھیں تو لوگوں میں ایک دوسرے کے ساتھ پیار و محبت کا رشتہ تھا۔ ایک دوسرے کے تہواروں اور دکھ سکھ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ تب لوگ رنگ، نسل، فرقے، مذہب اور جنس کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک انسان ہونے کے ناتے دوسرے انسان کا احترام کرتے تھے۔

مگر رفتہ رفتہ ہمارے معاشرے میں محبت، بھائی چارے اور خلوص کی جگہ خود غرضی، نفرت، فرقہ واریت، انتہا پسندی نے لے لی۔ ہم ایک ایسا معاشرہ بننے لگ گئے جو مادی چیزوں میں شاید ترقی کر رہا ہے لیکن رشتوں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ جہاں مشترکہ خاندانوں کی جگہ اکائی خاندان نے لے لی۔ جہاں چیزوں سے انسان کی حیثیت کو تولا جانے لگا ہے ، جہاں کے لوگوں کو دینا میں ہونے والے مظالم نظر آتے ہیں ان پر واویلا بھی مچاتے ہیں لیکن اپنے اردگرد ہونے والے مظالم پر بے حس ہو کر تماشا دیکھتے ہیں یا پھر منہ پھیر کر اپنی راہ لیتے ہیں۔

پاکستان کی بنیاد ہی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے ایک علیحدہ مملکت کا خواب تھا جہاں سب بلا امتیاز رنگ، نسل، فرقے، مہذب کے مل جل کر رہ سکیں۔ جہاں سب لوگوں کو مساوی حقوق مل سکیں لیکن چند مفاد پرست لوگوں نے اپنی دکانیں سجانے کے لیے لوگوں کو مختلف حصوں (خواہ یہ مذہب کی آڑ ہو یا معاشی تقسیم یا پھر فرقہ بندی ) میں بانٹ دیا۔

ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ باہر لگی یہ آگ ایک دن ہمارے دامن تک بھی پہنچ سکتی ہے ، اگر ہم نے اسے روکنے کا سدباب نہ کیا تو کیا بعید ہم بھی اس کا شکار بن جائیں۔ ہمارا معاشرہ آگے بڑھنے کی بجائے پسماندگی کی طرف سفر کر رہا ہے۔

ہر طاقتور خواہ وہ جسمانی طور پر ہو یا پیسے کے لحاظ سے، اس نے اپنے سے کمزور کو دبانا شروع کر دیا۔ قلیل تعداد جب کثیر تعداد میں بدلی تو اس نے قلیل تعداد کے ساتھ وہی سلوک روا رکھا جس کا وہ خود ماضی میں شکار رہ چکے تھے۔ اس کی ایک مثال مرد اور عورت کی مساوی حیثیت کو ماننے کی جنگ سے  لے کر اقلیتوں کے جائز حقوق تک کو سلب کرنا ہے جیسے ہم نے اپنا فرض سمجھ لیا ہو۔

نفرت اور تشدد ایک ایسی بیماری ہے جس اب تک نہ کوئی علاج سامنے آیا ہے اور نہ ہی حکومت کی جانب سے کوئی واضح ترکیب نظر آ رہی ہے۔ یہ ایک ایسی آگ ہے جو دھیرے دھیرے سب کچھ جلا کر راکھ کر دیتی ہے (اسے جس سے نفرت کی جا رہی اور اسے بھی جو نفرت کر رہا ہے ) ایسے میں ہم سب صرف دعا کر سکتے ہیں کہ کوئی سائنسدان جسے انسانیت سے بہت پیار ہو (ویسے تو تمام سائنسدان انسانیت کی بنا پر ہی دن رات محنت کر کے بیماریوں کا توڑ نکالتے ہیں ) ایسی ویکسین بنا دے جسے لگاتے ہی نفرت کی جگہ محبت لے  لے۔ جس کے سائیڈ افیکٹس میں برداشت، تحمل، بھائی چارہ اور امن ہوں اور جس کے دور رس نتائج میں سماجی اقدار اور احترام پھر سے جنم لے تاکہ ہمارے معاشرہ امن و آشتی کا گہوارہ بنے۔

وزیر اعظم صاحب اقلیتوں کے مساوی حقوق کا دعویٰ اور یورپ میں مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ اور کشمیر کے مظالم پر آواز اٹھانا اچھی بات سہی لیکن جناب ان کا کیا قصور ہے جو آپ کی حکومت کے زیر سایہ نفرت اور تشدد کی مختلف اشکال کی کا شکار ہیں۔ ہو سکے تو کوئی قانون سازی، کوئی واضح حکمت عملی بنائیے جس سے اقلیتوں کو تحفظ اور نفرت کرنے والوں کو ویکسین لگنے سے ہمارا معاشرہ سماجی اقدار کا پاسدار بن سکے جو کبھی اس کا خاصہ تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
کلثوم صادق کی دیگر تحریریں