کلیمان بے تجلی، مسیحان بے صلیب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”کلیم بے تجلی“ اور ”مسیح بے صلیب“ کی تراکیب علامہ اقبال نے کارل مارکس کے لئے استعمال کی ہیں۔ علامہ کا اشارہ غالباً اس حقیقت کی طرف ہے کہ اشتراکیت کا یہ بانی مفکر ”داس کپیتال“ کی صورت میں ایک ایسا نسخہ پیش کرنے میں کامیاب ہوا جس پر اشتراکیت کا پورا قصر تعمیر ہوا۔ کئی ایک جدلیاتی فلاسفہ نے مارکس ہی کے فکر سے متاثر ہو کر کئی ایک ممالک میں اشتراکیت کی تخم ریزی کی۔ چوں کہ اس فکر میں مادیات کو مرکزی حیثیت حاصل تھی، اس لئے یہاں تصور خدا کو ”عوام کا افیون“ قرار دیا جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ اس فکر کے راہنماؤں کے لئے ”تجلئی رب“ کا تصور کرنا بے شک محال تھا۔ تاہم یہاں پر ہماری غرض و غایت اس فکر پر بحث کرنا نہیں ہے۔ البتہ ان تراکیب کو مستعار لے کر ہمیں چند خاص معاشرتی رویوں پر بات کرنا مقصود ہے۔

ہمارے معاشرے کا ایک معتدبہ حصہ طرز تکلم کا وافر حصہ پاکر اس کو بجا اور بیجا ہر ایک انداز سے استعمال کر کے خود کو ”کلیم“ یعنی ہر جگہ اور ہر سطح پر اپنے زبانی جمع خرچ سے نہ صرف بڑے بڑے دعوے کرتا ہے بلکہ اپنی زندگی کے ہر دور میں ”عوام“ کے اعصاب پر سوار رہتا ہے! معاشرت، معیشت، سماجی بہبود، سیاست، ادبیات، صحت، تعلیم غرض ہر نوع کی روایات اور موضوعات پر یہ طبقہ بات کرنا نہ صرف اپنا بنیادی حق جانتا ہے بلکہ اسے ان سارے دائروں میں بات کرنے کی ایسی لت لگ جاتی ہے کہ وہ اس زعم میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ اسے ”ہر فن مولا“ کی سند حاصل ہو گئی ہے!

ہر طرح کے معاشرتی رویے پر بات کرتے ہوئے یہ طبقہ ایک ایسا حظ حاصل کرتا ہے جو اسے حقیقت شناسی سے نہایت دور دھکیل دیتا ہے۔ کشمیری قوم کی متلون مزاجی کو یہ لوگ اس مشہور جملے سے ادا کرتے ہیں : ”کشمیری اصل میں برہمن ہیں!“ یہ صاحبان یہ الفاظ دہراتے ہوئے یہ بات بھول جاتے ہیں کہ یہ خود بھی کشمیری قوم سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ معاشی تنگ دستی بلکہ بد حالی کا ذکر کرتے ہوئے یہ لوگ پوری قوم کی رشوت خوری اور بدعنوانی کا اعلان عام کر ڈالتے ہیں۔

ایسا کہتے ہوئے ان صاحبان کو یہ بات نہیں سوجھتی کہ ہر ایک کو ایک ہی پیمانے سے ناپا نہیں جا سکتا۔ تعلیم کے کسی مسئلے کو چھیڑتے ہوئے یہ حضرات پوری اساتذہ برادری کو ”نقل چور“ کا خطاب عنایت فرماتے ہیں۔ انہیں ایسا کہتے ہوئے اس بات کا ذرا اندازہ نہیں ہوتا کہ خود وہ یا ان کے کئی ایک متعلقین اسی تعلیمی نظام کے پروردہ ہیں۔ صحت عامہ کی غیر تسلی بخش صورتحال پر بات کرتے ہوئے یہ حضرات یوں گویا ہوتے ہیں کہ ”اصل میں ہم لوگ معالجوں اور دوا ساز صنعتوں کے نمائندوں کے مافیا میں پھنسے ہوئے ہیں!“ ان لوگوں کو شاید ہی اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ بالواسطہ یا بلاواسطہ یہ لوگ بھی اس ”الزام“ کے دائرہ اثر میں آہی جاتے ہیں۔

اتنا ہی نہیں، بلکہ تجلئی ذات خدا وندی سے ناآشنا معاشرے کے یہ ”پاسداران“ ہر طرح کے سیاستدانوں کو اپنی زبان کے تیرونشتر کا نشانہ بناڈالتے ہیں۔ یہاں پر یہ لوگ دہائیوں کی نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تاریخی عوامل سے پیدا شدہ مسائل کو کسی ایک فرد کے ”نامہ اعمال“ میں درج کرڈالتے ہیں اور یوں اس خاص فرد کو عذاب الٰہی کا نہ صرف مستحق گردانتے ہیں بلکہ اس صاحب کا ذکر اس انداز میں کرتے ہیں کہ جیسے یہ لوگ اس کو خدا کے عذاب میں مبتلا ہونے کا مشاہدہ کر رہے ہوتے ہیں۔

اور تو اور یہ لوگ ادیبوں، شاعروں اور قلمکاروں سے سرزد ہوئی غلطیوں کو بھی برداشت کرنے کے روادار نہیں ہوتے ہیں۔ اس معاملے میں یہ حضرات اتنے کمال پرست ہوتے ہیں کہ یہ اپنے طرز تکلم سے کتب بینی کو ہی حرام قرار دے ڈالتے ہیں! اس تناظر میں تو یہ لوگ دور حاضر کے سماجی ذرائع ابلاغ کے خلاف بھی اپنا فتوی صادر کرڈالتے ہیں۔

طرز تکلم کی بے مہار سواری پر سوار یہ لوگ ہر جگہ، ہر حال اور ہر وقت اپنی زبان کے خنجر سے ہرکس و ناکس کو زخمی کرتے پھرتے ہیں۔ ان کے گھر سے نکلنے کی دیر ہوتی ہے کہ ہر چوراہے، ہر نکڑ، ہر چوک، ہر مسافر بردار گاڑی، ہر اسپتال کے حجرہ انتظار، ہر محفل نکاح، ہر محفل ”وازوان“ ، غرض ہر عام و خاص جگہ پر یہ حضرات اپنی شکایات کی ہانڈی کا ڈھکن پریشر کوکر کی سیٹی کی طرح کھلا چھوڑتے ہیں۔ یہ لوگ جتنی دیر کسی محفل کی زینت بنے رہتے ہیں، اتنی دیر اس محفل کا ماحول تعفن آمیز بنا رہتا ہے۔ شاید یہ حضرات مولانا رومی کے اس قول سے بے خبر ہوتے ہیں کہ ”منہ انسان کے کردار کی ہانڈی کا ڈھکن ہے ؛ اس کے کھلتے ہی اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اندر کیا پک رہا ہے!“

گفتار کے یہ غازی نہ تو اپنی زبان بند رکھنے پر قادر ہوتے ہیں اور نہ ہی اپنی زبان کا صحیح وقت پر استعمال کرنے کا گر جانتے ہیں۔ کاش انہیں اس بات کا اندازہ ہوتا کہ معاشرے میں مروجہ روایات بننے میں صدیوں کا عمل درکار ہوتا ہے۔ اگرچہ ان روایات کو لمحوں میں توڑا جاسکتا ہے، لیکن ان کی جگہ نئی روایات کو کسی خلا سے برآمد نہیں کیا جاسکتا۔ نئی روایات کا پیدا کرنا اپنے آپ میں ایک عمل جانگسل ہے۔ اس لئے اس بات کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ کوئی بھی کام نہ تو تحریر سے ممکن ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی انجام دہی تقریر سے ممکن ہوتی ہے۔ کسی شاعر نے اس بارے میں کیا خوب کہا ہے :

تحریر سے ممکن نہ تقریر سے ممکن
وہ کام جو انسان کا کردار کرے ہے
:قرآن مقدس میں یہ بات بڑے زور سے کہی گئی ہے کہ

”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں۔“ الصف: 2۔ 3

اگرچہ مذکورہ بالا ”صفات“ سے متصف افراد کا کسی معاشرے میں ہونا کوئی غیر متوقع امر نہیں ہے، تاہم اس جماعت کے ساتھ ساتھ ایک اور جماعت ایسی بھی ہوتی ہے جن کی فکری افتاد پر ”مسیحائی“ کا رنگ چڑھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے افراد کو گفتار میں زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی ہے۔ ان کو معاشرے کے ہر غمزدہ شخص کی غمخواری کرنے کی دھن سوار رہتی ہے۔ البتہ ان کے ساتھ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے اپنے ضروری کام، چاہے وہ معاشی ہوں یا مذہبی، نپٹا لیے جائیں اور اس کے بعد لوگوں کا مسیحا بنا جائے۔

اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ مفلوک الحال لوگوں کی مدد کرنے کے دعوے میں مخلص نہیں ہوتے۔ البتہ یہ بات ضرور ہوتی ہے کہ یہ لوگ ترجیحات کا تعین کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اگرچہ یہ حضرات بے یارومددگار لوگوں کی بابت دل ہی دل میں آہیں بھرتے رہتے ہیں لیکن ان کا اکثر وقت اور سرمایہ اپنے لئے آسائش زندگی کی فراہمی اور سامان تعیش کی دستیابی میں صرف ہوتا ہے۔ مکان و مسکن کی آرائش و زیبائش، نئی زمین کی اپنی آنے والی نسلوں کے لئے خریداری اور زمانے اور رواج کے مطابق گاڑی کی خریداری و بدلاو ان کے وسائل کا وافر حصہ نگل لیتا ہے۔

یہ بات صحیح ہے کہ کبھی کبھی ایثار کا جذبہ بھی ان کے اندر انگڑائی لیتا ہے، لیکن دنیاداری کی دوڑ اس جذبے کو کچھ اس طرح دبوچے رکھتی ہے کہ اس راہ کے لئے یا تو قربانی کی کھالیں یا پھر صدقہ فطر بچتا ہے! آج کل کرتے ہوئے جب یہ ضروری کاموں سے فارغ ہوتے ہیں تو بہت سارے امکانات میں سے کوئی امکان ان کے ایثار کے راستے کا پتھر بن جاتا ہے۔ اس موڈ پر پہنچکر اکثر حالات میں ان کی اولاد گھر کے معاشی معاملات سنبھال لیتی ہے اور یہ حضرات معاشی معاملات سے عملاً بے دخل ہو جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اولاد بھی اپنے والدین کے دہرائے ہوئے چکر میں پڑ جاتی ہے اور مسیحائی پھر سے معطل ہوکے رہ جاتی ہے۔ مسیحا بننے کی اسی دلی تمنا، جو ”طول امل“ کی وجہ سے شرمندۂ تعبیر نہیں ہوپاتی، کی تصویر قرآن نے ان الفاظ میں کھینچی ہے :

۔ ۔ جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے اور اس وقت وہ کہے کہ ”اے میرے رب، کیوں نہ تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور دی کہ میں صدقہ دیتا اور صالح لوگوں میں شامل ہوجاتا۔“ المنافقون، 10

ظاہر ہے کہ ہمارے معاشرے کے افراد کا یہ دوسرا طبقہ ”مسیحان بے صلیب“ کی طرح اقبال کی دوسری ترکیبات میں معاشرے کے ”درد مندوں اور ضعیفوں کی حمایت“ کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ دراصل یہ ایسے مسیحا ہوتے ہیں جو مستحقین کی خاطر خود کو معاشی صلیب پر قربان نہیں کرپاتے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کے سوال کا جواب دیتے ہوئے بڑے ہی نرالے انداز میں اس صورت حال کی تشریح فرمائی ہے۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ کون سا صدقہ بہترین صدقہ ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا

”ایسا صدقہ جو اس وقت کیا جائے جب انسان صحیح و سالم (صحت مند) ہو؛ اس کو مال کی ضرورت ہو؛ اس کو غنی ہونے کی تمنا ہو اور وہ افلاس سے ڈرتا ہو! ایسا نہ ہو کہ وہ آج کل کرتا رہے یہاں تک کہ اس کی جان حلق تک آ جائے (یعنی وہ قریب المرگ ہو) اور وہ کہے کہ یہ (حصہ) فلاں کے لئے اور یہ (حصہ) فلاں کے لئے ؛ حالانکہ (اس وقت) یہ حصے فلاں (یعنی وارث) کے ہی ہوتے ہیں

اس لئے معاشرے کے اس قبیل کے افراد کو اس بات کا بخوبی علم رکھ کر اس کا خیال رکھنا چاہیے کہ، بلا کیف ولا تشبیہ، ہر پرخلوص کلیم کو تجلئی رب سے خود کو جلنے کے لئے تیار رکھنا چاہیے اور ہر ایک مسیحائی کے دعویدار کو پھانسی لگے یا نہ لگے، اس کو مصلوب ہونے کے لئے پیش پیش رہنا چاہیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •