ہزارہ: نام میں موت رکھی ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

” کیا حیدر؟”

“نہیں ہاشم”

“جی نہیں! حیدر زیادہ اچھا ہے”

“پر میرے دل کو ہاشم بھاتا ہے”

مسئلہ بہت گھمبیر تھا! نام دو تھے اور اور بچہ ایک!

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہمارے گھر کے آنگن میں دو صاحبزادیوں کے بعد پھر سے قلقاریاں گونجنے والی تھیں اور شنید تھی کہ بہنوں کا بھائی تشریف لانے کو پر تول رہا ہے۔

گھر میں نام چننے کے مراحل میں گرماگرم بحث چھڑ چکی تھی جس کی ایک انتہائی سرگرم رکن ہماری بڑی صاحبزادی تھیں۔ تنہائی بھرے بچپن کے آٹھ برس بولائے بولائے پھرنے کے بعد ان کی بے تابیاں عروج پہ تھیں۔ ابا اور بٹیا کو حیدر بھاتا تھا اور ہمیں ہاشم۔ ہر روز بحث ہوتی اور کوئی بھی ہتھیار نہ پھینکتا۔ بالاخر ہماری بیٹی نے ویٹو پاور کا استعمال کیا اور یوں حیدر صاحب کی اس دنیا میں آمد ہوئی۔

اور اب دل گرفتہ ہو کے سوچتی ھوں کاش ہاشم نام ہی رکھ لیا ہوتا!

گئے برسوں میں اس سوچ نے بے اختیار ہمارے ذہن میں اس وقت نقب لگائی جب لاہور میں پروفیسر علی حیدر اور ان کے بیٹے مرتضیٰ حیدر سکول کے دروازے پہ گولیوں سے چھلنی کردیے گئے۔ یہ نفرت کی بھڑکائی ہوئی آگ تھی جو محض نام دیکھ کے ہی جلا کے راکھ کر دیتی تھی۔

ایسے ہی کسی اور وقت میں دل پہ ایک گھونسا سا لگا جب حیدر کا شناختی کارڈ بننے کا وقت آیا۔ شناختی کارڈ کے ذکر سے ذہن میں ایک جھماکا ہوا اور دل بے اختیار دھڑکنا بھول گیا۔ وہ سب یاد آ گئے جو اپنے ہی دیس میں بے فکری سے سفر کرتے تھے اور ان کے شناختی کارڈ گلگت کی چٹانوں اور بلوچستان کی وادیوں میں اس لئے لہو رنگ ہوئے کہ ان پہ علی، حیدر، حسین اور عباس کندہ تھے۔

اور ہم نے پھر سوچا، کاش ہاشم!

کیا بےکسی سی بےکسی ہے؟ دل پہ ہاتھ رکھ کے سوچیے تو ہم میں سے کون اپنے کارن شیعہ اور کون اپنے بل پہ سنی اور وہابی؟ کون اپنی پسند سے ہزارہ اور کون اپنے انتخاب سے کچھ بھی اور؟

بساط دنیا پہ جبر وقدر کے کھیل میں جو جہاں اتارا گیا اس نے اپنا کھیل اسی خانے میں مہرہ بن کر کھیلا ہے۔ کون سوچ سکا کہ دوسری طرف والے کا نقطۂ نظر بھلے اختلافی ہی کیوں نہ ہو، جان کر سانس لینے کا حق نہ چھینا جائے کہ اس ساری بازی میں جیتنے والا تو کوئی بھی نہیں۔ بساط بچھانے والا بے نیاز اور جیت کے نشے میں مدہوش کھلاڑی، خود غرض، بے حس، سنگدل اور جابر!

ذہبی منافرت انسانوں کو کیسے خون پینے والے عفریت میں بدل دیتی ہے یہ تو نفرت کی آگ میں جھلس جانے والا اقلیتی طبقہ ہی بتا سکتا ہے۔ جیسے دوسری جنگ عظیم میں یہودی، جیسے آج کے ہندوستان میں مسلمان اور جیسے آج کے پاکستان میں، عیسائی، ہندو اور شیعہ مسلمان!

دوسری جنگ عظیم میں گیس کیمپوں کو بھیجے جانے والے انسانوں اور بلوچستان میں ہزارہ کمیونٹی کو موت کا تحفہ ملنے میں اس کے علاوہ کیا قدر مشترک ہو گی کہ دونوں کے نصیب میں ان کے نام اور مذہبی اعتقاد موت کا ہرکارہ بنے۔

 کرونا کی تنہائی میں یہودیوں کی نسل کشی پہ بننے والی فلمیں ہم نے دیکھیں اور جی بھر کے دیکھیں۔ انسان کو اس قدر پاتال میں اترا ہوا دیکھ کے ہر دفعہ سوچا کہ وہ دونوں یعنی قاتل و مقتول جب آمنے سامنے ہوتے ہوں گے تو کیا سوچتے ہوں گے؟ یہ جو میری سانس مجھ سے کچھ لحظے میں چھیننے والا ہے، اس میں کیا خاص ہے جو مجھ میں نہیں۔ اور بندوق کے ٹرائیگر پہ انگلی رکھنے والے کے لئے سوچے سمجھے بنا یہ ایک کھیل! نشانہ آزمانے اور کسی کو تڑپ تڑپ کے زندگی ہارتے دیکھ کے حظ اٹھانے کا جنون۔

“شنڈلرز لسٹ” نامی فلم میں جنونی جرمن فوجی افسر آئیون اپنی صبح کا آغاز بالکونی میں کھڑے ہو کے دور میدان میں کام کرتے ان یہودی قیدیوں کے سروں میں نشانہ باندھ کے گولی اتارتے ہوئے کرتا ہے جن کو ذاتی طور پہ وہ نہیں جانتا۔ مگر یہودی العقیدہ قیدی کا جھکا ہوا سر علی الصبح نشانے کی پریکٹس کے لئے خوب ہے۔ اور مظلوم قیدی جنہیں یہ علم نہیں کہ اگلی گولی کس کا مقدر بنے گی، انہیں رکے بنا، سوچے بنا مفت کی بیگار نبھانی ہے۔ موت کا انتظار، جھکی ہوئی گردن اور جامد لب!

آٹھ دہائیوں بعد دوردراز مچھ کی زمین پہ بنی خستہ حال جھونپڑی میں دن بھر کی مشقت سے بے حال، رزق کی تلاش میں اپنے پیاروں سے دور گیارہ نفر کے نصیب میں بھی تو یہی گولی تھی۔ شاید یہاں بھی کسی کو اپنا نشانہ بہتر کرنا تھا یا پھر قربانی کے اوزاروں کی دھار کی تیزی زندہ جسموں پہ آزمانی تھی یا شاید طاقت کا خراج لینا تھا۔

عقیدے کی بنیاد پہ موت! نام کی بنیاد پہ موت!

کاش ہاشم.. پھر یاسیت طاری ہو گئی!

ہمیں اوائل عمری میں ہی اندازہ ہو گیا کہ اسی جبر وقدر کی سزا بھگتتے ہوئے استہزائیہ جملے، شک بھری نگاہیں، اور نفرت بھرے رویے تمام عمر ہمارا مقدر ہوں گے۔ حالانکہ ہم تو شیعیت کا جھنڈا لہرا کر صف اول میں ہونے کے دعوے دار بھی نہیں تھے۔ یہ ضرور تھا کہ خانوادہ رسول سے محبت محسوس ہوتی تھی کہ وہ پیغمبر اسلام کو بھی پیارے تھے سو ان کو چاہنا تو سنت محمدی ٹھہری۔

اس سے مزید کسی اور بات سے ہمارا لینا دینا نہیں تھا۔ اس زمانے میں جو کچھ ہوا، ہو گیا اور تاریخ کا حصہ بن گیا۔ ہمیں کیا پڑی کہ ہر کس وناکس سے منواتے پھریں کہ کس کا کیا حق؟ اور کون افضل؟ ارے بھائی، کچھ انکشافات یوم حساب کے لئے بھی رہنے دیجیے نا! ابھی سے سر پھٹول کا فائدہ!

“شیعہ کے گھر جاؤ تو مشروب میں اپنا تھوک ملا کے پلاتے ہیں”

“نیاز کی دیگ میں انسانی خون ڈالا جاتا ہے”

“دسویں محرم کی رات بتیاں گل کر کے مرد وزن گلے ملتے ہیں”

“ہر مرد وزن متع کی صورت بے مہار آزادی کی روش پہ چلتا ہے”

یقین کیجیے، نوعمری کے زمانے بیتے ہوئے بھی زمانہ ہوا لیکن ان فسانوں پہ یقین کرنے والوں کی دانش پہ آج بھی ہم حیران ہوتے ہیں۔ بچپن میں تو یہ باتیں دل کو ٹھیس پہنچاتی تھیں مگر دھیرے دھیرے ہمیں بھی بات چٹکیوں میں اڑانا آ گئی۔ احباب کو دعوت نامہ دیتے ہوئے کہتے

” فکر مت کیجیے گا، ہمارا لعاب دہن بہت شیریں ہے “

یا پھر،

” واللہ، ہم میں خون کی کافی کمی ہے ورنہ خواہش تو بہت تھی کہ کھانے میں ہمارے پرجوش خون کی لذت شامل ہوتی”

ہم مزاج احباب ہمارے بلند آہنگ قہقہے کا ساتھ دیتے اور کچھ کم جاننے والے ٹکر ٹکر ہماری شکل تکتے۔

متع کا فسانہ بھی کچھ فسانہ آزاد بنا جاتا تھا۔ ہم لاکھ قسمیں کھاتے کہ ابا، تایا، ماموں اور نانا میں دل پھینک ہونےکے جراثیم کی شدید کمی ہے، انتہائی شریف دکھتے ہیں اور ہماری تمام تر سراغرسانی کے بعد بھی ہمیں متع کا کوئی سرا نہیں ملتا۔ مگر جناب ہم نے دوست بھی تو ایسے پال رکھے تھے نا جن سے بچنے کے لئے یلدرم دہائیاں دیتے رہے سو مجبوراً کہنا پڑا کہ بھئی خدا، پیغمبر اور قران کے حکم سے ہم کیسے سرتابی کریں؟ ہماری یہ ہمت، یہ مجال، توبہ توبہ!

ایسی ہی کچھ تراکیب ہم نے کچھ اور مواقع کے لئے بھی ایجاد کر ڈالیں کہ بچاؤ اور زندگی سہل کرنے کا گر سیکھنا بھی لازم تھا۔

میڈیکل کے تیسرے سال کا آخری مرحلہ تھا۔ تحریری امتحان کے بعد زبانی وائیوا لیا جا رہا تھا۔ چیف متمحن کسی اور میڈیکل کالج سے تشریف لائی تھیں۔ کرخت چہرہ، عینک کے پیچھے گھورتی آنکھیں، بھنچے ہونٹ۔

 نام پڑھا اور گویا ہوئیں

“کاظمی ہو؟”

“جی”

“شیعہ ہو؟”

اب اس سوال کا جواب دینے میں تھوڑا سا تامل تھا کہ ہوا کے بدلتے رخ سے خوب واقف تھے۔

“جی مکسڈ فیملی ہے کچھ شیعہ، کچھ سنی”

گھور کے دیکھتے ہوئے ہماری استاد سے مخاطب ہوئیں،

” لڑکی چالاک معلوم ہوتی ہے، کیسا سیاست بھرا بیان دے رہی ہے “

سوچیے! بیس اکیس برس کی عمر، کتابیں، امتحان کی سر پہ لٹکی تلوار، رات بھر جاگ کے کتابوں کا رٹا اور امتحان میں پہلا سوال وہ جس کا ہماری قابلیت سے کوئی لینا دینا نہیں۔

بے اختیار پوچھنے کو جی چاہا کہ کیا آپ سنی/ وہابی اماں ابا دیکھ کے ان کے آنگن میں اتری تھیں؟ اور اترتے ساتھ ہی شیعہ دشمنی کا سبق بھی رٹ لیا تھا۔ لیکن مشکل یہ آن پڑی کہ امتحان میں فیل ہونے کی سرخ بتی جل اٹھی تھی ورنہ منہ پھٹ ہونے میں تو کہیں کوئی کمی نہ تھی۔

بیس اکیس برس کی عمر دور کہیں دھندلکوں میں کھو چکی۔ بزرگوں کی مٹی کب سے زمین کی مٹی میں بدل چکی۔ نہ جانے کتنے موسم بیت چکے لیکن انسان نفرت کی اسی زنجیر میں بندھا ہے جو اسے دنیا میں آتے ساتھ پہنائی جاتی ہے۔ نہ زنجیر بوسیدہ ہو کے ٹوٹتی ہے اور نہ ہی گمنام اور بے گناہ لہو بہنا رکتا ہے۔

ان زنجیروں کی کڑیاں مضبوط کرنے کا سہرا ان کے سر بندھتا ہے جو جنت کے حصول کی دوکان چمکائے بیٹھے ہیں۔ یونہی ایک خیال سرسراتا ہوا سا دل سے چھو کے گزرتا ہے۔ بے قصور مرنے والے شہید اور شناختی کارڈ کی مدد سے موت کا پروانہ تھما کے ثواب کی گٹھڑی بھاری کرنے والے جنت کے والہ و شیدا، کیا اس مقام خاص پہ ایک دوسرے کے رفیق ٹھہریں گے؟ اور اگر ایسا ہی ہوا تو کون کس کا گریبان پکڑے گا؟

بات حیدر میاں کے نام رکھنے کی یاد سے شروع ہوئی تھی سو ایسے ہی کسی کمزور لمحے میں یونہی ہم نے ان سے پوچھا، حیدر، کیا ہم آپ کا نام بدل کے ہاشم کر دیں؟

حیدر اپنے مخصوص انداز میں بولے،

“کیوں ڈرتی ہیں کیا؟”

“ارے نہیں بیٹا، بس ایسے ہی”

“ارے چھوڑیے اماں ناموں کے اس گورکھ دھندے کو! میں انسان کا بچہ ہوں اور میری یہی بنیادی پہچان ہے، باقی سب ثانوی ہے”

تب سے ہم بیٹھے یہی سوچ رہے ہیں کہ مرنے والے ہزارہ انسان ہی کے بچے تھے نا!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •