کیا امریکی جمہوریت خطرے میں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پارلیمنٹ کی گرلیں ٹوٹنا اور سپریم کورٹ کے احاطے پر گندے کپڑے لٹکنا ہمارے جیسے تیسری دنیا کے ممالک کے حوالے ہیں۔ آئین و قانون کی بالادستی پر یقین اور جمہوری روایات کے احترام کا درس بھی ہم ایسے ممالک کے لیے مخصوص ہے اور اکثر و بیشتر ہمیں امریکا کی طرف سے یہ تلقین سننے کو ملتی تھی۔ تاریخ میں پہلی بار مگر اسی امریکا کو جو اپنے مضبوط نظام کی وجہ سے خوابوں کی سرزمین سمجھا جاتا ہے، آج وہ سب مشورے دیے جا رہے ہیں جو کبھی وہ دوسرے ممالک کو دیتا تھا۔

امریکا کے جمہوری نظام اور اداروں کی مضبوطی پر اب بھی کوئی بڑا سوالیہ نشان نہیں لگا لیکن پچھلے دنوں وہاں جو کچھ ہوا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک نا اہل اور متعصب شخص کے حوالے اقتدار کر دیا جائے تو یہ عمل ملکی سلامتی اور جمہوری اقدار کے لیے کس قدر ضرر رساں ہو سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد جب مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں پر سفری پابندیاں لگائیں، اس پر بہت سے لوگوں نے لکھا کہ ٹرمپ کا دور مسلمانوں کے لیے نہایت برا ثابت ہو گا۔

میرا موقف مگر یہ تھا کہ ٹرمپ کی پالیسیاں مسلمانوں کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہونے کے بجائے خود امریکہ کے عالمی اثر و رسوخ اور قومی سلامتی کے لیے تباہ کن ہوں گی۔ بعد کے حالات سے یہ ثابت بھی ہو گیا، ٹرمپ نے نہ صرف اپنے پیشروؤں کے برعکس کسی نئے مسلم ملک پر چڑھائی نہیں کی بلکہ اس کی تمام تر کوشش رہی کہ کسی طرح وہ افغانستان سے بھی اپنی افواج واپس بلا لے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ٹرمپ کی پالیسیاں خالصتاً امریکی مفاد پر مبنی تھیں اور اس کے دور حکومت میں نہ صرف امریکی معیشت میں بہتری آئی بلکہ بہت سی نئی ملازمتیں بھی پیدا ہوئیں مگر، ٹرمپ نے اپنے ایجنڈے کو پروان چڑھانے کے لیے جس طرح نسلی تعصب کو ہوا دی ، اس سے امریکہ کے عوام جو پچھلے دو سو سال سے بطور قوم متحد تھے ، آج ان میں نہ صرف تقسیم پیدا ہو چکی ہے بلکہ امریکا کے عالمی اثر و رسوخ کو بھی بے پناہ دھچکا پہنچا ہے۔

ٹرمپ سے قبل باراک اوباما جو سیاہ فام افریقی نژاد امریکی تھے ،اقتدار میں آئے تو ری پبلیکن نے سفید فام نسل پرستی کو خوب ہوا دینا شروع کر دی اور یہ پراپیگنڈا شروع کر دیا کہ امریکہ دنیا میں اپنی عظمت کھو رہا ہے اور سفید فام امریکیوں کے وسائل پر تارکین وطن اور سیاہ فام قابض ہوتے جا رہے ہیں۔ وسیع پیمانے پر پھیلائے گئے اس پراپیگنڈے کو بھرپور پذیرائی ملی اور امریکی گوروں نے ری پبلیکن جماعت کو ووٹ دے دیا۔ ری پبلیکن جماعت نے سب سے نالائق اور متعصب شخص کو اپنا امیداور نامزد کیا جو اقتدار میں آنے کے بعد بھی الیکشن ایجنڈے سے باہر نہ نکلا اور مسلسل نسلی تعصب پر مبنی قوم پرستانہ خیالات کی ترویج میں مصروف رہا۔

دنیا کی سب سے طاقتور ریاست کے با وقار صدارتی منصب پر بیٹھ کر بھی مخالفین کے خلاف گھٹیا اور عامیانہ جملوں کا استعمال اس کا وتیرہ رہا۔ کیپیٹل ہل پر کانگریس کے ارکان کے بھاگ کر جان بچانے کے مناظر جو دنیا نے دیکھے ، وہ ٹرمپ کے دور صدارت کو دیکھتے ہوئے ناقابل یقین ہرگز نہیں تھے اور خدشہ ہے کہ اس کی بھڑکائی ہوئی نسلی تعصب کی آگ امریکا تک محدود نہیں رہے گی بلکہ دنیا کے دیگر خطوں پر بھی اس کے اثرات پہنچیں گے۔

اپنے حامیوں کو تشدد پر اکسانے سے قبل ٹرمپ نے مختلف ریاستوں کی عدالتوں میں اس امر کے باوجود کہ اس کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا ، انتخابی دھاندلیوں کے خلاف ساٹھ کے قریب پٹیشنز دائر کی تھیں، شاید اس کا خیال یہ ہو کہ بیشتر ججز اس کے متعین کردہ ہیں لہٰذا فیصلہ اس کے حق میں آ جائے گا۔ بعد ازاں عدالت سے ناکامی کے بعد ٹرمپ نے کانگریس پر حملے کا منصوبہ بنایا تاکہ کانگریس جو بائیڈن کے الیکشن کی توثیق نہ کر سکے۔ امریکی آئین کے مطابق اس کارروائی کی صدرات نائب صدر کے پاس ہوتی ہے۔

بہرحال دو سو سال پر محیط امریکی نظام کی مضبوطی کی بدولت ہی امریکی نائب صدر نے ٹرمپ کے احکامات کے برعکس آئین و قانون کا احترام کیا اور کہا انتخابات کا فیصلہ عوام کرتے ہیں اور کانگریس نے اس کی توثیق کرنا لازمی ہے۔ اس کے بعد جونہی کانگریس کی عمارت مظاہرین سے خالی کرا لی گئی، فوراً دوبارہ کانگریس کا اجلاس شروع ہو گیا جس میں جو بائیڈن کے انتخابی نتائج کی توثیق کر دی گئی۔

اس وقت سب سے زیادہ تشویش اس بات کی ہے کہ جس شخص کی ایما پر یہ تمام کارروائی ہوئی ، وہ اب بھی صدارت کے منصب پر فائز ہے۔ خوف کی وجہ یہ بیان کی جا رہی ہے کہ امریکی صدر کے پاس براہ راست نیوکلیئر کمانڈ ہوتی ہے اور وہ کسی بھی اتھارٹی کو ملوث کیے بغیر یہ ہتھیار استعمال کر سکتا ہے لہٰذا کہا جا رہا ہے کہ جاتے جاتے ٹرمپ کہیں ایران یا کسے دوسرے ملک کے خلاف نیوکلیئر ہتھیار ہی استعمال نہ کر بیٹھے۔

ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات کر کے ایسے کسی نا خوشگوار واقعے کو روکنے کی سعی کی ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹرمپ جب تک صدارتی منصب پر فائز ہیں ، تمام ادارے ان کے احکامات ماننے کے پابند ہیں۔ امریکی آئین میں آرٹیکل 25 واحد راستہ ہے جس کے ذریعے نائب صدر کابینہ کی منظوری سے صدر کو اختیارات سے محروم کر سکتا ہے، جس سے اس نے انکار کر دیا ہے یا پھر کانگریس سے مواخذے کی تحریک لائی جا سکتی ہے ، جس کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوگی اور یہ عمل بھی طویل ہے البتہ کانگریس ٹرمپ کو آئندہ انتخاب لڑنے کے لیے نا اہل ضرور قرار دے سکتی ہے۔

خود ٹرمپ کی اپنی ری پبلیکن جماعت بھی اس کی حالیہ حرکت سے شرمندگی و خجالت کا شکار اور اس میں بھی ٹرمپ کے بارے تقسیم شروع ہو چکی ہے۔ بہت سے ری پبلیکن ارکان بھی ٹرمپ سے جان چھڑانے کی کوشش میں ہیں اور امریکی منظر نامے پر اس کی مزید موجودگی کو قومی و جمہوری استحکام کے لیے خطرناک سمجھتے ہیں، لہٰذا ہو سکتا ہے کہ فوجداری مقدمات قائم کر کے آئندہ کے لیے ٹرمپ کو نا اہل قرار دے دیا جائے۔

یہ بھی لیکن حقیقت ہے کہ ٹرمپ کو قدامت پسند امریکیوں کی بہت بڑی تعداد کی حمایت اب بھی حاصل ہے۔ اور ٹرمپ نے یہ حیثیت امریکا کی عالمی فوجی صف بندی کے خلاف موقف عالمی اداروں جیسے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن، ورلڈ ہیلتھ، اقوام متحدہ، پیرس کے ماحولیاتی معاہدے سے منہ پھیر کر اور امریکا فرسٹ کا نعرہ لگا کر چین کے خلاف تجارتی جنگ بڑھکا کر حاصل کی ہے۔ لہذا باقی دنیا کی نظر میں وہ فسطائی، علاقائی اور اجارادانہ و متعصبانہ ذہنیت کا حامل ہے لیکن قدامت پسند امریکی شہری اس کے متذکرہ اقدامات کو انقلاب کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ امریکا میں فاشزم اور نسل پرستانہ جذبات کے حامل افراد اور لبرل ازم کے حامی جمہوریت پسندوں کے درمیان تقسیم بری طرح اور اتنی تیزی سے سامنے آئی ہے۔ نظر بظاہر یہی آ رہا ہے کہ نو منتخب صدر جو بائیڈن اور ان کی ڈیموکریٹ جماعت پرانے خیالات اور جمہوری اقدار کی بحالی چاہیں گے جس میں امریکی مقتدرہ کا تعاون بھی حاصل ہو گا لیکن جس طرح امریکہ میں فسطائی رویوں کو پچھلے سالوں میں طاقت ملی ہے لگتا نہیں کہ اب پرانے نظام و انداز کو جاری رکھنا اتنا سہل ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •