استعماری کھیل اور افریقہ پر غلبے کی دوڑ
کم و بیش یہ حالات تھے جس مین برلن کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ تقریباً تین ماہ تک جاری ان مذاکر ات میں ہالینڈ، فرانس، برطانیہ اور پرتگال وغیرہ تو شریک تھے ہی ، ساتھ ہی ساتھ جرمنی کا بانی چانسلر بسمارک اور بیلجیئم کا بادشاہ لیوپولڈ بھی شامل تھے اور شاطرانہ طریقے سے اپنے اپنے مفادات آگے بڑھا رہے تھے۔ تاہم کچھ پس پردہ قوتیں بھی تھیں جن کے مفادات افریقہ کی کالونائزیشن سے جڑے تھے، یہ وہ سرمایہ دار تھے جو افریقہ کی عالمی تجارت سے منافع کماتے تھے، ان کی لابی یورپ کے ہر دارالحکومت میں کام کر رہی تھی۔
کانفرنس کے دوران بھی ان کے نمائندے سفیروں سے مسلسل رابطے میں تھے اور اپنے مطالبات معاہدوں میں شامل کروا رہے تھے۔ دراصل ہیمبرگ، لندن اور ایمسٹریڈیم کی ان تجارتی کمپنیوں کا کردار افریقہ میں بہت اہم تھا۔ اس براعظم کا بہت ہی تھوڑا حصہ یورپی ریاستوں کے زیر انتظام تھا، زیادہ تر مقبوضہ علاقوں کا نظم و نسق تجارتی کمپنیاں چارٹر آف رول کے تحت چلا رہی تھیں۔
برلن کانفرنس میں ہونے والے معاہدوں کے دور رس اثرات پڑے۔ سب سے پہلے تو برطانیہ اور فرانس کے درمیان افریقہ میں خونریز جنگ کا خطرہ ٹل گیا۔ جرمنی کو کیمرون اور ٹانگانیکا میں کالونیاں مل گئیں، یہ اس کے عالمی طاقت بننے کے عمل کا آغاز تھا۔ بیلجیئم کے شاہ لیوپولڈ کو وسطی افریقہ کا سارا علاقہ کانگو کی ازاد ریاست کے نام سے مل گیا۔ شاہ لیوپولڈ دراصل ایک شاطر اور سفاک انسان تھا جس نے اپنے مقصد کے لیے کئی برسوں تک منصوبہ بندی کی۔
انٹرنیشنل افریقی ایسوسی ایشن نامی تنظیم بنائی جس کے مقاصد میں اس براعظم کو مہذب بنانا، غلامی کا خاتمہ اور افریقہ کے اندرون کی دریافت وغیرہ شامل تھے مگر دراصل یہ اس کے سامراجی عظائم کی تکمیل کا ذریعہ تھی۔ بالآخر برلن کانفرنس میں اس کی امیدیں بر آئیں اور بیلجیئم سے تقریباً اٹھہتر گنا بڑا رقبہ اس کے ذاتی تسلط میں آ گیا۔ ایک اور بظاہر اچھا اعلان مسلمان اور افریقی تاجروں کے زیر انتظام ہونے والی غلاموں کی تجارت کا خاتمہ تھا۔
تاہم برلن کانفرنس اور اس کے بعد شروع ہونے والی افریقہ پہ غلبے کی دوڑ کی اصل قیمت افریقیوں نے چکائی۔ اگلے تیس برسوں میں تقریباً پورا براعظم یورپی کالونی بن گیا۔ اس عمل اور اس کے نتیجے میں ہونے والا معاشی سیاسی اور سماجی استحصال محض ایک یا دو نسل تک محدود نہ رہا بلکہ اس کے اثرات ایک صدی بعد بھی افریقہ کی تاریخ اور سماج پر موجود ہیں۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد جب نوابادیاتی دور کا خاتمہ ہوا تو افریقہ میں بھی آزادی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا اور بالآخر یورپی طاقتوں کو اس براعظم سے اپنی بساط لپیٹنی پڑی۔ اگلے پندرہ برسوں تقریباً ساری افریقی نوآبادیات آزاد ہو گئیں۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس موقع پر دور غلامی کی تلخ یادوں کو بھلا کر ایک نئے دور کا آغاز کیا جاتا مگر وائے قسمت کہ وہ جو غالب نے کہا تھا ”میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی“ تو نو آزاد ممالک کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہوا۔
درحقیقت براعظم افریقہ میں نئے ممالک کی تشکیل کا سوال خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد بلقان یا پھر سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد وسطی ایشیا جیسا سادہ نہ تھا، کیونکہ ان افریقی نوآبادیاتی مملکتوں کا کوئی تاریخی وجود نہ تھا۔ یہ تو بس استعماری طاقتوں کی اس بندر بانٹ کا نتیجہ تھیں جس کے بارے میں اس وقت کے برطانوی وزیراعظم لارڈ سالسبری نے یہ چشم کشا اعتراف کیا کہ ”ہم نقشے پر ایسی جگہوں پہ لکیریں کھینچ رہے تھے جہاں کسی سفید فام نے قدم نہ رکھے تھے، ہم بے خوفی سے پہاڑ، دریا اورجھیلیں بانٹ رہے تھے ، یہ جانے بنا کہ وہ وہاں موجود بھی ہیں یا نہیں“ ۔
بات یہ ہے کہ اگر غیر ملکی فاتحین کی آمد سے پہلے ملک کا تاریخی وجود ہو تو کئی سو سال کی غلامی کے باوجود مشترکہ قومی شناخت برقرار رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلغاریہ پانچ سو سال تک ترکوں کے زیر تسلط رہنے کے باوجود بھی ایک ملک رہا اور آئرلینڈ سات سو سال بعد برطانیہ سے علیحدہ ہو کر ایک قومی وطن بنا۔ نوآبادیات سے پہلے افریقہ خصوصاً صحرائے اعظم کے جنوب کے علاقے کی حالت چھٹی سے نویں صدی کے دوران یورپ جیسی تھی ، جہاں قبائلی اور چھوٹی چھوٹی جاگیری ریاستیں موجود تھیں پھر یہاں بادشاہتیں قائم ہوئیں جنہوں نے قبائل کو سلطنتوں میں ضم کیا۔
بعد ازاں انہی سلطنتوں سے قومی مملکتوں کا ظہور ہوا۔ یہ کہانی انگلستان، جرمنی اور فرانس میں دہرائی گئی۔ سولہویں صدی میں یورپی اقوام کی آمد کے وقت افریقہ میں ایسی سلطنتیں موجود تھیں مثلاً کانگو کی سلطنت اور زولو سلطنت۔ قرین قیاس یہی ہے کہ اگر ان سلطنتوں کے پھیلاؤ کا تاریخی عمل اپنی فطری رفتار سے جاری رہتا تو یقیناً افریقہ میں ایسی ہی قومی مملکتیں ظاہر ہو جاتیں جیسی قریبا آٹھ سو سال پہلے یورپ میں ہوئیں۔
استعماری مفاد کو پیش نظر رکھ کر بنائی جانے والی سرحدوں کی وجہ سے افریقہ کی مقامی آبادی کو نقصان پہنچا، مثلاً مسائی لوگوں کے آبائی علاقے کینیا اور ٹانگا نیکا میں تقسیم ہو گئے، اسی طرح کانگو کی سلطنت تین ممالک کانگو زائر اور انگولا میں بٹ گئی۔ اسی نوع کا ایک اور کھیل جو کھیلا گیا وہ لڑاؤ اور حکومت کرو کی مشہور زمانہ پالیسی کا استعمال تھا، بعض جگہوں پر اکثریتی آبادی کو دبانے کے لیے اقلیتی گروہ کی سرپرستی کی گئی ، کہیں کہیں تو اس مقصد کے لیے باقاعدہ دوسرے نسلی گروہ کو باہر سے لا کر بسایا گیا، جیسے روانڈا کو جب بیلجیئم نے جرمنی سے 1916 میں چھینا تو مقامی ہوتو آبادی کا زور ٹوڑنے کے لیے پڑوسی کالونی زائر سے ٹٹسی مہاجرین کو لا کر بسایا گیا۔
اسی طرح نائجیریا میں بلفاریہ کے علاقے میں شمالی صوبوں کے لوگوں کو آباد گیا۔ اس غیر منظقی کانٹ چھانٹ کا ہی نتیجہ ہے کہ آزادی کے فوراً بعد ہر افریقی ملک کا اپنے پڑوسی کے ساتھ سرحدی تنازع شروع ہو گیا۔ اسی طرح ملک کے اندر بھی مختلف نسلی گروہوں کے درمیان کشمکش شروع ہو گئی ، جس کی بنیاد بھی یورپی استعمار نے ہی ڈالی جس نے اپنی انتظامی سہولت کی خاطر مختلف نسلی گروہوں کو مجتمع کر کے ایک ملک بنا دیا ، جن کے درمیاں کوئی قدر مشترک نہ تھی۔
یہ گروہ استعماری قوت کے زیر انتظام تو ایک رہے مگر اس قوت کے منظر سے ہٹتے ہی اختلافات نے سر اٹھا لیا۔ اسی طرح جہاں جہاں اقلیت کو اکثریت کے مقابلے میں ترجیح دی گئی، وہاں جب استعماری قوت کا خاتمہ ہوا تو یہ اقلیتی گروہ اکثریت کے غیظ اور انتقام کا نشانہ بنے۔
یہی وجہ ہے کہ پون صدی گزرنے کے بعد بھی افریقہ مسلسل خون ریز خانہ جنگیوں کا شکار ہے۔ نائجیریا، سوڈان، انگولا، ایتھوپیا اور روانڈا کی خانہ جنگی مرنے والوں کی تعداد دوسری جنگ عظیم میں ہلاک ہونے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔ جبکہ بین الاقوامی سرحدوں پہ ہونے والی جنگوں کی تباہ کاریاں اس کے علاوہ ہیں۔ فیض نے کہا تھا:
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

