راستہ پانیوں میں، جسم مٹی کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ پہلے اور بہت پہلے کی ایک بات ہے۔ میں یہی کوئی سات آٹھ برس کا ہوں گا۔ میرے پاس کھجور کی ایک گٹھلی تھی۔ ہمارے گھر کے وسیع صحن کے بیچوں بیچ نلکا ایستادہ تھا، جس کا کچا تھڑا تھا، وہاں سے پانی، ایک لمبی سی نالی سے گزرکر گھر کی بیرونی دیوار کے نیچے سے باہر چلا جاتا تھا، نالی میں پانی کھڑا نہیں ہوتا تھا، یہ صاف رہتی۔ میں نے گٹھلی، نلکے کے تھڑے کے قریب نالی کے ایک کنارے میں زمین کھود کر دبا دی۔ میں ایسا کر کے بھولا نہیں، روز اس جگہ کو دیکھتا، ایک دن صبح سویرے دیکھا تو زمین کا سینہ تھوڑا پھولا سا ملا، دوپہر تک ہلکی سبز قسم کی شاخ سی نکلتی محسوس ہوئی، اگلے دن تک شاخ تھوڑی بڑی ہوتی پائی گئی۔

میری دلچسپی کی انتہا نہیں تھی۔ میں ان دنوں سکول نہیں جاتا تھا، گرمیوں کے دن تھے، سکول سے چھٹیاں تھیں، البتہ صبح منہ اندھیرے ماں جگا دیتی اور سیپارہ پڑھنے مسجد چل دیتا، یہ مسجد گھر سے ایک سے ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر پڑتی تھی۔ مسجد سے جیسے ہی چھٹی ہوتی، میں گھر کی طرف بھاگ پڑتا، سارا راستہ کھجور کا ننھا شاخ نما پودا میرے ذہن پر سمایا رہتا۔ جیسے ہی گھر میں داخل ہوتا تو سیدھا نلکے کے پاس پہنچتا اورآنکھوں کے کٹوروں میں حیرانی اور دلچسپی بھر کر اس کو ایک مدت تکتارہتا۔

ماں کو معلوم پڑجاتا کہ میں مسیت سے آ چکا ہوں اور اس وقت کہاں ہوں۔ وہ ناشتے کے لیے آواز دیتی۔ ہمارے گھر کا اوپن کچن تھا، جو ایک نکڑمیں تھا، کچی مٹی کی، ایل شکل کی چار فٹ کی پتلی سی دیوار کے اندر چولھا تھا، ماں روٹیاں بنارہی ہوتی اور لکڑی کی چوکی پر بیٹھی تھوڑا اٹھ کر کچن کی دیوار کے اوپر سے دیکھ کر مجھے آواز دیتی، میں آہستہ بہ آہستہ ماں کی آواز کی ڈوری سے بندھا کھنچا چلا آتا۔ یہاں دیوار کے ساتھ پڑی ایک چوکی پر بیٹھ جاتا، میرا رخ نلکے کی جانب ہوتا، ننھا پودا مجھے نظر تو نہ آتا لیکن میں برابر ادھر دیکھتا رہتا۔

یہ روز بہ روز بڑا ہو رہا تھا۔ ہمارے گھر کے صحن میں شہتوت کا بڑا پیڑ تھا، گرمیوں میں اس کے سائے میں چارپائیاں پڑی رہتیں، چھوٹے بڑے اور بھی پیڑ تھے، لیکن معلوم نہیں کیوں، یہ ننھا پودا مجھے اپنے اندر اگتا ہوا محسوس ہوا۔ اب میری ساری دلچسپی اس کے اندر تھی، بعض مرتبہ ایسا ہوتا کہ میرا باپ، یا ماں یا پھر بڑی بہن شدید گرم موسم میں، مجھے وہاں بیٹھے دیکھ کر ڈانٹ دیتے اور شہتوت کے سائے میں بلا لیتے، میں جب سائے میں پہنچتا تو پسینہ سے شرابور ہوتا۔

شہتوت کا پیڑ، نلکے سے ذرا فاصلے پر تھا، اس کے سائے میں گرم دوپہر میں چارپائیوں پر لیٹے جیسے ہی کسی کو پانی کی طلب ہوتی تو میں دوڑا دوڑا جاتا، پانی لینے کے بہانے پودے پر ایک نظر بھی ڈالتا آتا۔ پھر ایک دن یوں ہوا کہ مجھے مسجد کے ساتھ مدرسے کے صحن سے ایک پرانا گملا مل گیا، جو میں پوچھ کر لے آیا۔ گھر آ کر ناشتے سے فارغ ہو کر اپنی بہن کی مدد سے اس پودے کو گملے میں منتقل کر دیا۔ اب سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ گملا کہاں رکھا جائے۔

ادھر نلکے کے پاس رکھا جائے یا گھر کی ایک نکڑپر چھپر نما کمرے میں رکھ دیا جائے۔ یہ چھپر نما کمرہ بہت ہوادار تھا، سامنے کا پورا حصہ کھلا تھا اور دونوں اطراف سے ہوا کے گزرنے کے لیے چارسے چھ اینٹوں کے بعد خالی جگہ چھوڑی ہوئی تھی۔ میں نے گملا چھپر کی جنوبی سمت کی دیوار کے اندر خلاوالی جگہ میں رکھ دیا۔ وہ ایسا فٹ آیا جیسے خالی جگہ گملے کے لیے ہی چھوڑی گئی تھی۔ اب صبح شام، گملے کو وہاں سے نکالتا اور پانی کا بھرا گلاس اس کے اندر انڈیل دیتا۔

ننھا پود ا تھوڑا تھوڑا بڑا ہوتا چلا گیا۔ اب یہاں سے آگے کی میری یادداشت ختم ہو جاتی ہے۔ وہ گملا کہاں گیا، پودے نے پیڑ کی شکل اختیار کی یا نہیں؟ میں کبھی کبھی ذہن پر بہت زور دیتا ہوں کہ شاید آگے کچھ یاد آ جائے، مگر سب کچھ دھندلا چکا ہے۔ ننھا شاخ نما پودا تو رہا ایک طرف وہ گھر بھی ایک دھندلی سی یاد کی مانند ذہن کے نہاں خانے میں موجود ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ گھر میں کتنے کمرے تھے؟ مگر یاد نہیں پڑتا۔ اگر مجھے یاد پڑگیا کہ اس پودے کا کیا بنا؟

تو کیا کروں گا؟ اس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ میں اپنی بیگم اور بچوں کو کہتا ہوں کہ میں نے جب اپنا گھر بنایا تو کم ازکم ایک ایکڑ جگہ خریدوں گا، ایک ایکڑ زمین کے بیچوں بیچ تین چارکمروں پر مشتمل چھوٹا ساگھر ہو گا، سامنے ذرا فاصلے پر نلکا لگاؤں گا، جس کا تھڑا کچا ہوگا، تھڑے سے پھوٹنے والی نالی کے کنارے پر کھجور کی گٹھلی دباؤں گا، ایک دن زمین کا سینہ چیرتی ایک ننھی شاخ سر نکالے گی، میں چند دنوں تک اس ننھے پودے کو گملے میں منتقل کردوں گا۔

پھر ایک دن دوبارہ گملے سے پودے کو زمین میں منتقل کروں گا اور پھر پودا پیڑ میں تبدیل ہو جائے گا۔ میری بیگم سنتی رہتی ہے، پھر پوچھتی ہے کہ ہم اپنا گھر کب بنائیں گے؟ تمہاری اس آمدنی سے تو کرائے کے گھر میں بھی رہنا اب مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یہ سن کر میں غم اور پریشانی سے بھر جاتا ہوں، سوچتا ہوں کہ ہم دونوں میاں بیوی مزدوری کرتے ہیں، لیکن اس ملک میں، جس کو ہم اپنا سمجھتے ہیں، ایک چھوٹا سا گھر نہیں بناسکتے، زمین کا چھوٹا سا ٹکڑا نہیں خرید سکتے۔

میں گزشتہ سات برس میں گھرکے کرائے کی مد میں لگ بھگ پینتیس لاکھ کرایہ دے چکا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ جیسے میں گھر کا کرایہ دینے کے لیے پیدا ہوا ہوں۔ گھروں کا کرایہ کتنا ہوناچاہیے؟ یہ کہاں طے ہوتا ہے؟ جس کا جتنا جی کرے گھر کا کرایہ وصو ل کرناشروع کردے۔ یہ محض میرا غم نہیں، یہ میری نسل کے لوگوں کا غم ہے، جو تین چار مرلے کا گھر بنانے کے لیے کمیٹیاں ڈالتی ہے، بینکوں سے قرضہ لیتی ہے اورپیسے پورے کرنے کے لیے اپنی جوانیوں کے خواب بیچتی ہے۔ آخر ہمارا قصور کیا ہے؟ زمین کا ٹکڑا خریدنے کی سکت ہم سے کس نے چھینی ہے؟ کیا میں اور میرے جیسے لوگ گملے میں ایک ننھا پودا لگانے کا حق بھی نہیں رکھتے؟ شاید نہیں رکھتے کہ ہم پانیوں میں رہتے ہیں اور ہماراجسم مٹی کا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •