اور ڈولی بھی چلی گئی…

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2020 کا آخری مہینہ جاتے جاتے ممتاز صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کی اہلیہ ارم عباس، ڈولی، کو بھی اپنے ساتھ لے گیا۔

وہ مجھ سے عمر میں کافی چھوٹی تھی، سب اسے ڈولی اور میں ڈول کہتا تھا کیوں کہ وہ تھی گڑیا کی مانند۔

ڈولی اور مظہر کی شادی چھے فروری 1990 کو ہوئی تھی۔ اس زمانے میں کراچی ایک، دو، تین پر تھم جاتا تھا۔ اس دن بھی کراچی بند تھا۔ بڑی مشکل سے احمد شاہ، جو آج کل کراچی آرٹس کونسل کے صدر ہیں، وہ اپنی گاڑی میں نو بیاہتا جوڑے کو ہوٹل لے گئے تھے۔

وقت گزرتا رہا، ڈولی کی دو اور ڈولز ہو گئیں۔ جس ڈولی کو شادی سے پہلے کراچی کی کسی سڑک یا بازار کا علم نہیں تھا، وہ اب گھر کے سارے کام کاج خود کرتی تھی اور شہر کی ہر چھوٹی بڑی مارکیٹ سے باخبر تھی۔ وہ بچوں کو اسکول لے جانے اور لانے کا کام خود کرتی تھی۔ اس کے علاوہ گھر کی تمام ضروریات کا خیال وہی کرتی تھی۔

اکیاون سالہ ڈولی برسوں سے جگر کی بیماری سے بے جگری سے لڑ رہی تھیں، کبھی کبھی ایسا لگتا کہ اس نے بیماری کو شکست دے دی لیکن پھر بیماری اپنا پھن اٹھا کر اسے اپنی موجودگی کا احساس دلا دیتی تھی، اور وہ درد سے بے حال ہو کر اسپتال بھاگتی تھی۔

اسے کرونا بھی ہوا تھا، جسے شکست دینے کے بعد وہ اپنی بڑی بیٹی کی رخصتی میں لگ گئی لیکن جسم اس کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ ظالم کرونا اس کے کمزور جگر پر وار کر کے نکل چکا تھا۔ تمام گھر والوں نے اسے کہا کہ رخصتی بعد میں ہو جائے گی، مگر وہ اپنے مخصوص انداز میں ہنس کے بولتی تھی ’ٹائم نشتہ‘۔

کسی بھی انسان کی شخصیت کو جاننے کا ایک پہلو یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ ملازموں اور بچوں کے ساتھ کیا رویہ رکھتا ہے۔ ڈولی کے بچوں کی آنکھیں ابھی بھی ماں کو تلاش کرتی ہیں اور نوکر اس کے ذکر پر آبدیدہ ہو جاتے ہیں، خصوصاً وہ ملازمہ جس کے ہاتھ میں چابی دے کر ڈولی اسپتال یہ کہہ کر گئی تھی کہ ’گھر کا خیال رکھنا میں واپس آؤں یا نہ آؤں‘۔
ارم عباس کی ایک بات دوسری ماؤں کے لیے بھی قابل تقلید ہے۔ وہ کبھی اپنے بچوں کو ملازموں پر نہیں چھوڑتی تھی حالانکہ اس کے ملازم اور ڈرائیور بھروسے والے ہوتے تھے۔

جیسے کہ عام طور پر صحافیوں کے ساتھ ہوتا ہے، کسی بھی پالیسی ایشو پر نوکری چلی جاتی ہے۔

مظہر کے ایک طویل بے روزگاری کے زمانے میں اس نے کبھی سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف نہیں دیکھا تھا، کبھی نہیں کہا کہ نوکری کب ملے گی۔ ایک لمحہ ایسا بھی آیا کہ مظہر کو پی ٹی وی کی طرف سے بہت اچھی پیشکش ہوئی تھی۔ شوہر کی بے روزگاری کی مار کھائی ہوئی بیوی جس کو لالچ چھو کر نہیں گزرا تھا، اس نے شوہر سے کہا وہ پی ٹی وی کی پالیسی کے ساتھ نہیں چل پائے گا، کیوں کہ باز پنجرے میں نہیں رہ پاتا، وہ گھٹ جاتا ہے۔ اسے لمبی پرواز اور کھلا آسمان چاہیے۔ مظہر نے نوکری نہیں کی اور کم تنخواہ پر ایک دوسرے ادارے کی پیشکش قبول کر لی۔ کچھ وقت کے لیے مظہر کا تبادلہ اسلام آباد ہو گیا تھا، وہاں کی آب و ہوا ڈولی اور بچوں کو بہت موافق آئی تھی۔ دفتری سازشوں کے باعث مظہر کا تبادلہ کراچی کر دیا گیا تھا، وہ خود کراچی آنا اور بیوی بچوں کو اسلام آباد رکھنا چاہتا تھا لیکن ڈولی اس کے بغیر رہنے کو تیار نہیں تھی۔
ڈولی اپنی فطرت میں مکمل گھریلو خاتون تھی اسے گہری خواہش تھی کہ اس کا اپنا گھر بھی ہو جسے وہ اپنی مرضی سے سجائے۔ ساری زندگی کرائے کے گھروں میں رہ کر وہ اکتا چکی تھی۔ اس کے گھر میں کوئی باورچی ٹکا نہیں کیوں کہ بچوں کو صرف ماما کے ہاتھ کا کھانا چاہیے تھا۔ دوستوں میں وہ کڑھی اسپیشلسٹ کے طور پر جانی جاتی تھی۔
نامور ادیب اور صحافی انور سین رائے اور ان کی اہلیہ عذرا عباس جو خود بھی ایک منفرد شاعرہ ہیں، کی ڈولی سے خاص دوستی تھی۔ ایک بار عذرا نے ڈولی سے کہا تمھیں مظہر سے عشق ہے۔ بات آئی گئی ہو گئی لیکن عشق کا ثبوت اس وقت ملا جب ڈولی کے بھائی نے کہا کہ اسے لگتا ہے کہ مظہر اس کا خیال نہیں رکھتا تو ڈولی نے فوراً کہا، تمھیں کیا پتا، وہ میرا کتنا خیال رکھتا ہے، یہ تو میں جانتی ہوں، دوبارہ یہ بات نہیں کرنا۔
اور جاتے جاتے بھی وہ مظہر سے یہ کہ کر گئی، تم نے میرا بہت خیال کیا ہے۔
اوپر دیوار پر لگی گھڑی کی سوئیاں رک گئی تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حسن جاوید کی دیگر تحریریں