موت کیا ہے؟


آج ہم موت کے بارے میں بات کریں گے۔ موت، جس کے بارے میں سن کر ہی ہم انسان شدید خوف کا شکار ہو جاتے ہیں۔ موت کا نام آتے ہی انسان دکھ اور غم کا شکار ہو جاتا ہے۔ کیا اس دنیا میں ایسا انسان ہے جو موت کی حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہو؟ ہم میں سے ہر ایک انسان موت کا نام سنتے ہی کانپ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موت انسان کی سمجھ میں نہیں آ رہی۔ جس دن دل سے ہم نے موت کی حقیقت تسلیم کر لی، اس کے بعد ہمیں موت سے ڈر لگنا ہی ختم ہو جائے گا۔

کیا یہ حقیقت نہیں کہ موت زندگی کا حصہ ہے، زندگی ہے تو موت ہے۔ زندگی نہیں تو موت بھی نہیں۔ پس ثابت ہوا زندگی اور موت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم موت کے بارے میں سوچ کر ہی ڈر جاتے ہیں۔ صرف اپنی موت نہیں بلکہ اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں کی موت کے بارے میں بھی سوچ کر ہم ڈر جاتے ہیں۔ یہ خوف، یہ ڈر فطری ہے۔ لیکن کیا ہمیں اس انڈر سٹینڈنگ کی ضرورت نہیں ہے کہ آخر یہ موت کیا ہے؟

گہرائی سے سوچیں کہ حقیقت میں ہم انسان مر بھی رہے ہیں یا نہیں؟ سوچیں ہم انسان مررہے ہیں یا صرف جدا ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی دوست آپ سے ملنے آیا، کچھ عرصہ آپ کے ساتھ رہا اور اس کے بعد مستقل کہیں اور چلا گیا، کسی اور جگہ، تو اس کے جانے پر دکھ ہوگا لیکن اس حوالے سے تو اطمینان ہوگا کہ وہ چار دن میرے ساتھ رہا، اس کے ساتھ رہنے کا مزہ آیا۔ اب یہاں دکھ ہوا ہے تو اطمینان بھی تو ہے کہ اس کے ساتھ رہنے کا مزہ آیا۔

موت نام کی کوئی چیز نہیں، موت حقیقت میں موت ہے ہی نہیں۔ موت کا مطلب تبدیلی ہے۔ بدلنے کو ہم نے موت کا نام دے رکھا ہے۔ جبکہ حقیقت میں اس دنیا میں کوئی مرتا ہی نہیں ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے بھی کوئی چیز مرتی نہیں ہے۔ روحانی دنیا کا نظریہ بھی یہی ہے کہ انسان مرتا نہیں ہے۔ پانی جب ابل کر بالٹی میں دکھنا بند ہو جاتا تو کیا وہ مر جاتا ہے، موت اسی کو تو ہم کہتے ہیں کہ فلاں دکھنا بند ہو گیا ہے۔ اب سوال کیا پانی ابل کر مر جاتا ہے۔

وہی پانی بادل بن جاتا ہے، پھر یہی بادل بارش برسا کر غائب ہوجاتا ہے تو سوال کیا بادل مر گیا؟ سوچیں اس میں کیا مرا اور کیا پیدا ہوا؟ پوری کائنات میں نہ کوئی چیز مر رہی ہے اور نہ ہی پیدا ہو رہی ہے۔ یہ جسم جس پر ہم انسان اتراتے پھرتے ہیں، یہ کیا ہے؟ سائنس کہتی ہے کہ انسان کا جسم ستر فیصد پانی کا بنا ہوا ہے، کیا یہ پانی مرتا ہے؟ یہی جسم خوراک اور پانی کی وجہ سے بڑھتا ہے۔ ہماری خوراک اسی زمین سے پھوٹتی ہے، یہ سبزیاں اسی زمین سے اگتی ہیں۔

یہ جسم جب ختم ہوتا ہے تو کہاں جاتا ہے اسی زمین میں مل جاتا ہے تو سوچیں کیا مرا اور کیا نیا پیدا ہوا؟ مرتا یا پیدا کچھ نہیں ہوتا، ہم آنے والی تبدیلی کو یا موت کہہ دیتے یا زندگی۔ انسان کا دماغ کیا ہے؟ سوائے یادوں کے اس دماغ میں کیا ہے؟ سوائے memories کے اس دماغ میں کیا ہے؟ یہ یادیں ماضی کے سوا کیا ہیں؟

سچ یہ ہے کہ ہم سب ہی نہ مر رہے ہیں اور نہ پیدا ہو رہے ہیں۔ اس طرح موت کے بارے میں انڈر سٹینڈنگ پیدا ہو گی تو ہم دکھ اور تکلیف سے بچ پائیں گے۔ یاد رکھیں تبدیلی ہی اس کائنات کا حقیقی اور سچا اصول ہے۔ اس لئے ایک وقت میں کچھ انسان زمین کا حسن ہوتے ہیں اور اس کے بعد انہی انسانوں کی جگہ کچھ اور انسان نظر آ رہے ہوتے ہیں۔ یہ تبدیلی ہے جسے ہم موت یا زندگی کہتے ہیں۔ تبدیلی ہی کائنات کی حقیقت ہے۔ جب ہم انسان موت کی حقیقت کو سمجھ جائیں گے تو پھر لمحہ موجود میں رہنے کے لئے کوشش نہیں کریں گے بلکہ ہر لمحہ انجوائے کریں گے۔

جس دن ہم انسان موت کی گہرائی کو سمجھ جائیں گے موت کا ڈر اور خوف اسی لمحے غائب ہو جائے گا۔ موت کی حقیقت کے بارے میں کسی کو سننے سے بہتر ہے خود سمجھو کہ جسے ہم موت سمجھ رہے ہیں کیا یہ موت ہے بھی یا نہیں؟ موت کی حقیقت جب کھل کر ہمارے سامنے آ جائے گی تو ہمارے اندر کی فالتو خواہشات، لالچ، انا، نفرت، تعصب سب کچھ غائب ہو جائیں گے۔ موت کی حقیقت کا سچ انسان کو بہت سے بنیادی مسائل اور تکالیف سے نجات دلاسکتا ہے۔

دماغ میں جو موت کے بارے میں سوالات بھرے پڑے ہیں وہ سب نکل جائیں گے اور انسان ہلکا پھلکا ہو جائے گا۔ موت کی حقیقت کا سچ انسان کو طاقتور بنا دیتا ہے۔ اس کے بعد انسان کو کسی قسم کی میڈیٹیشن کی ضرورت ہی نہیں پڑتی بلکہ وہ ہر لمحے وجدانی کیفیت میں رہتا ہے۔ ہر لمحے روحانی کیفیت میں رہتا ہے۔ اسے کسی قسم کے روحانی پیروں یا فقیروں کی ضرورت نہیں پڑتی۔

جب ہر طرح کی کنفیوژن انسان کے دماغ سے نکل جاتی ہے اور اسے زندگی اور موت کی حقیقت کا علم ہوجاتا ہے تو ایسے انسان کو میڈیٹیشن کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے پھر تو اس کا ہر لمحہ ہی میڈیٹیشن ہے۔ جب انسان کی میموری ماضی سے اٹکی رہے گی، جب انسان کے دماغ میں موت کے خوف کے خیالات بھرے رہیں گے تو کیسے وہ لمحہ موجود کی دلکشی کو انجوائے کر سکتا ہے۔ موت کا ڈر، موت کے خوف کی سوچیں، یہی انسان کو لمحہ موجود کو چھونے نہیں دیتی۔

روحانیت بہت دلچسپ سائنسی حقیقت ہے جس میں تیرا میرا، اس کا اس کا کچھ نہیں۔ جوں جوں انسان اندر کی دنیا کی گہرائی میں بہتا چلا جاتا ہے ، اسے سمجھ آنے لگتی ہے کہ یہ تیرا میرا کچھ نہیں، تیرا جسم، میرا جسم، کچھ نہیں، تیری روح میری روح کچھ نہیں۔ سب ایک ہے۔

کائنات کا سب سے بڑا دھوکہ یہ ہے کہ یہ میں ہوں؟ میں ہوں ہی سب سے بڑی کنفیوژن ہے۔ جس نے کہا یہ میں ہوں، یہ میرا مذہب ہے، یہ میرا خدا ہے، یہ میری جنت ہے، یہ اس کی دوزخ ہے، وہ سچا ہے، یہ جھوٹا ہے، یہ سب کچھ illusions ہیں اور ہم انسان انہیں illusions میں زندہ ہیں۔ موت اور زندگی کو سمجھنے کے لئے صرف گہری انڈر سٹینڈنگ کی ضرورت ہے۔ سکہ اچھل رہا ہے، کبھی زمین پر وہ سکہ موت کی شکل میں ظاہر ہو جاتا ہے اور کبھی زندگی کی شکل میں۔ اسی لیے تو کہتے ہیں کہ موت اور زندگی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں بلکہ ایک ہی ہیں۔

Facebook Comments HS