کورونا وائرس اور ہمارا معاشرہ
دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے ایک وبا نمودار ہوئی، جسے سائنس دانوں نے کورونا وائرس کا نام دیا۔ یہ وائرس انتہائی خطرناک ثابت ہوا اور وائرس دن بدن پھیلتا گیا اور آہستہ آہستہ اس نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ وائرس 198 ممالک تک پھیل چکا ہے اور اس وائرس نے پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ لیکن پاکستانی عوام نے حسب معمول اس وبا کو معمولی سمجھا اور بھرپور طریقے سے مذاق اڑایا۔
حکومت پاکستان نے بھی اس مسئلے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی اور اپنی سیاست میں مصروف رہے ، پھر کورونا وائرس نے اندھا دھند حملے شروع کر دیے اور پاکستان میں متاثرہ لوگوں کی تعداد 5837 ہو گئی جن میں سے 96 لقمہ اجل بن گئے۔ 45 افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔ 1378 افراد نے کورونا وائرس کو شکست دے دی لیکن ابھی تک اس وائرس کی ویکسین تیار نہیں کی جا سکی۔
یہ وائرس پاکستان میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ جس کے پیش نظر وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے ملک میں لاک ڈاؤن لگا کر ملک کو جزوی طور پر بند کر دیا گیا۔
یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں پھیلتا ہے اور ابھی تک اس کی کوئی ویکسین بھی تیار نہیں کی گئی، اس وائرس سے بچاؤ کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ لاک ڈاؤن ہے۔ جہاں کورونا وائرس ملک کو نقصان پہنچا رہا ہے وہاں منافع خوروں نے بھی اپنی چھریاں تیز کرلی ہیں۔ ملک میں ماسک اور سینی ٹائزر کی کمی ہو گئی ہے اور منافع خوروں نے ذخیرہ اندوزی شروع کر دی جس کی وجہ سے ماسک اور سینی ٹائزر کی قیمتوں میں 100 % تک اضافہ کر دیا گیا۔
جعل سازوں نے جعلی سینی ٹائزر بنانا شروع کر دیے۔ اس کے بعد حکومت ایکشن میں آئی اور منافع خوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا۔ لیکن ابھی بھی کچھ لوگ حکومت کی آنکھوں سے اوجھل ہیں۔ جنہیں کیفر کردار تک پہنچانا بہت ضروری ہے۔ یہ منافع خور ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔
جہاں کورونا وائرس سے حالات خراب ہو رہے ہیں وہیں پر حکومت احسن اقدام کر رہی ہے۔ ڈاکٹرز اپنی جان کی بازی لگا کر متاثرہ افراد کا علاج کر رہے ہیں ، ہم تمام ڈاکٹرز اور پولیس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان کے احسان مند ہیں کہ انہوں نے اس مشکل گھڑی میں بھرپور تعاون کیا۔ لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ ڈاکٹرز اور پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔ اپنے گھروں میں رہیں، خود بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کو بھی اس وائرس سے بچائیں۔ کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے۔


