حکومت میں آنے سے پہلے تیاری کیسے ممکن ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کی بھاگ دوڑ روس اور امریکہ کے ہاتھ میں تھی۔ دنیا کو اپنی مٹھی میں کرنے کی دھن ان دوملکوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنا گئی۔ ایک دودسرے سے دشمنی دنیا کے لیے بہت مفید تھی۔ سائنس کے میدان میں ہونے والی ساری ترقی اسی سیاسی دشمنی کی مرہون منت تھی۔ امریکہ کی ویتنام جیسے معمولی سے ملک سے ذلت آمیزشکست روسی ہلہ شیری کے باعث ہی تھی۔ ایک دوسرے کی جاسوسی پہ دونوں ملک کثیر سرمایہ خرچ کرتے۔

کمیونسٹ ملک ہونے کی حیثت سے روس کے پاس بے پناہ مادی اور افرادی وسائل تھے اور سائنس کے میدان میں جدت سے امریکی انڈسٹری اس مقابلے کی فضا میں امریکہ کو کبھی پیچھے نہ رہنے دیتی۔ یہ دشمنی 40 برس تک رہی اور پھر امریکی بھاگ دوڑ رونلڈریگن کے ہاتھ میں آئی اور آٹھ برس کے اندرروس نہ صرف پسپا ہوا بلکہ مختلف حصوں میں ٹوٹ گیا اور دنیا کی سرداری کے تاج کا واحد دعوی دار امریکہ ہی قرار پایا۔ پچھلی صدی کا یہ سب سے بڑا واقعہ تھا۔

رونلڈریگن اپنی دوسری ٹرم پوری کر کے رخصت ہو رہا تھا کہ سی۔ این۔ این کے معروف براڈکاسٹر لیری کنگ نے اس کا آخری انٹرویو کیا۔ لیری کنگ نے پوچھا ”آپ نے مختصر وقت میں یہ کیسے ممکن بنا لیا کہ اتنی بڑی طاقت کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا؟“ لیری کنگ کا سوال بہت جاندار تھا۔ ریگن نے تھوڑا ساتوقف کیا اور پھر کامیابی کی چابی سب کو تھما دی۔ ریگن امریکی سیاست میں آنے سے پہلے ہولی ووڈ میں کئی فلموں میں کام کر چکے تھے اس لیے اس نے کہا ”میں نے یہ آرٹ ہولی ووڈکی فلموں سے سیکھا ہے۔

میں نے یہ مشاہدہ کیا تھا کہ ہر اچھی فلم کے پیچھے ایک جاندار ٹیم ہوتی ہے۔“ وہ تھوڑی دیر رکا اور بولا ”جیسے ایک جاندار سکرپٹ رائٹر، اداکاروں کی سلیکشن۔ ماہر ڈائریکٹر، چابکدست کیمرہ مین۔ یہ سب کامیابی کے پیچھے ہوتے ہیں“ ریگن نے بہت قیمتی نسخہ لیری کے ذریعے دنیا کو دیا۔ وہ جب صدر بنا اس نے ہر شعبے کے ماہرین کی ایک ٹیم بنائی اور اسے روس سے نمٹے کا ٹاسک دیا اور ٹیم نے اپنی ہنر مندی سے روس کے ٹکڑے کر دیے۔

اب ذرا پاکستان کی طرف آئیے۔ ہم زرعی ملک ہیں۔ لیکن بچے ہمارے ہاں غذائی قلت سے مرتے ہیں۔ پاکستان کو دنیا کا بہترین نہری نظام ورثے میں ملا لیکن چلو بھر پانی سمیٹنا ہمارے لیے ممکن نہیں۔ دنیا کے بہترین سیاحتی مقام پاکستان میں ہیں مگر کوئی ان کو دیکھنے نہیں آتا۔ دنیا کے چوتھے بڑے قیمتی پتھروں کے ذخائر ہمارے پاس ہیں مگر عالمی مارکیٹ میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان نواں بڑا کجھور پیدا کرنے والا ملک ہے مگر کجھور ہمارے ہاں مہنگا ترین پھل ہے۔ پاکستان کے پاس بے پناہ افرادی قوت ہے مگر بے روزگاری کا ناگ کسی پٹاری میں بند نہیں ہو رہا۔

حکومت کے پارلیمانی ارکارن کی اڑھائی برسوں میں ایک بھی بیٹھک نہیں ہوئی جس سے وزیراعظم کا اپنی جماعت کے نمائندگان پہ اعتماد ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اگر ہمارے پاس رونلڈ ریگن ہوتا تو وہ موجودہ حکومت کی طرح غیر ذمہ داری سے برتاو کرتے ہوئے وزارت خزانہ کے قلمدان کو میوزیکل چئیر بنا کر عوام کی ہڈیوں سے گودے کو ٹیکسوں کی مد میں نچوڑنے کی بجائے یہ ٹاسک کسی اکانومسٹ کو دیتا جو ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیتا۔

اگر رونلڈ ریگن ہوتا تو وہ خارجہ امور کے لیے شاہ محمود قریشی، جس کی سربراہی میں پہلے بھی پاکستان کو کئی بار بین الاقوامی سطح پہ سبکی کا سامنا کرنا پڑ چکا ہے، کی بجائے کسی شاطر ماہر اور تجربہ کار شخص پہ بھروسا کرتا جس میں ہنری کسنجر کی جھلک نظر آتی جو ملک کو خارجی امورکے گرداب سے نکال کر ملک کو دنیا میں مثبت طرز سے روشناس کرواتا۔ داخلی امور کے لیے وہ ایجنسیوں کے ہاتھوں بلیک میل ہو کر شیخ رشید کو قلمدان دینے کی بجائے کسی ایسے شخص پہ بھروسا کرتا جو ملک میں جرائم کی نفسیات کو سمجھ کر پالیسیاں مرتب کرتا۔ ملک کو خدا کے سہارے پہ ہی نہ چھوڑ دیتاجس کی وجہ سے سڑکوں پہ ریاستی اہلکاروں کے ہاتھ بچوں کے سامنے ان کے ماں باپ کو گولیاں ماری جا رہی۔

یہ سب اس لیے ہے کہ ہمارے پاس کوئی رونلڈ ریگن نہیں ہے۔ جو سب سے پہلے مسائل کا ادراک رکھتا ہو۔ جس کے پاس اہل افراد کی ٹیم ہو۔ جس میں کسی کو کام سونپنے کا ظرف ہو۔ جو معاملات پہ نظر رکھتا ہو اور صاحب احساس ہو۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے چیف منسٹر کے پاس اس سے قبل کسی یونین کونسل تک کو چلانے کا بھی تجربہ نہیں ہے۔ یہ ہی حال ملک کے وزیر اعظم کا ہے جس کے پاس ایک حادثاتی کامیابی کے علاوہ کوئی تنظیمی تجربہ نہیں ہے۔

اس کا کیا مطلب ہے؟ حکمران جماعت کے پاس کوئی ٹیم نہیں۔ اب وزیر اعظم صاحب اس بات کا اعتراف بھی کر چکے ہیں کہ ان کی تیاری نہیں تھی۔ بس انوکھا لاڈلہ کھیلنے کو مانگے چاند کی طرح لاڈلے نے ضد ڈالی ہوئی تھی کہ مجھے وزیر اعظم بناو تو مقتدر حلقوں نے ضد پوری کرنے کے چکر میں 22 کروڑ لوگوں کی زندگیاں مہنگائی، کرپشن اور بد انتظامی کی چکی میں پیس کر رکھ دیں۔

وزیر اعظم صاحب اپنے تجربے کی روشنی میں یہ نصیحت کرتے تو نظر آتے ہیں کہ کسی کو تیاری کے بغیر حکومت میں نہیں آنا چاہیے مگر وہ اس کے لیے کوئی اقدامات نہیں اٹھا رہے۔ جس یورپ کا سب سے زیادہ تجربہ رکھنے کا دعوی ٰخان صاحب کرتے ہیں وہاں پہ موجود مضبوط ترین شیڈو کیبنٹ کے نظام کو آئینی شکل کیوں نہیں دی جاتی؟ جس میں اپوزیشن بھی حکومت کی طرح ایک متبادل کابینہ تشکیل دے جو بجٹ سمیت دیگر امور پہ اپنی پالیسیاں مرتب کرے اور میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے رکھے۔ اس سے اپوزیشن کے پاس تیاری کا موقعہ بھی ملے گا اور حکومت کی راہنمائی بھی عملی صورت میں ہو تی رہے گی۔

جان میجر تقریباً ڈیڑھ عشرے سے زائد برطانیہ میں وزیر اعظم رہے۔ ان کے دور کے آخری حصے میں ایسی فضا بنی کہ لیبر پارٹی کے حکومت بنانے کے امکانات پیدا ہونا شروع ہو گئے تو انہوں نے لیبر پارٹی کے رہنما ٹونی بلیئر کو خط لکھا تھا کہ بارہ سال سے آپ کا کوئی لیڈر حکومت میں نہیں رہا ہے۔ اس لئے آپ تربیت حاصل کرنے کے لئے چند ارکان کا تقرر کریں۔ حکومت انہیں تربیت دے گی۔

امریکی صدارتی نظام میں انتخابی سال کے دوران ملک بھر کے تھنک ٹینک سارے شعبوں پر بڑی جامع رپورٹیں تیار کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ خارجہ پالیسی رپورٹ بنانے والے اکثر اہم ملکوں کا دورہ بھی کرتے ہیں۔ الیکشن میں جیت جانے والے کو یہ رپورٹس پیش کی جاتی ہیں۔ اس طرح ہر شعبے کی تازہ ترین صورت حال سامنے آجاتی ہے۔ وہ ان رپورٹوں میں سے ہی آئندہ چار سال کے لئے ایکشن پلان ترتیب دیتے ہیں۔ 20 جنوری کو جب نئے صدر کی حلف برداری ہوتی ہے اور وہ اپنی ٹیم کے ارکان مقرر کر چکا ہوتا ہے۔

برطانیہ میں لیبر پارٹی کا نیا ہیڈ کوارٹر 1150 مربع میٹر پر مشتمل ہے۔ شیڈو کابینہ وہیں بیٹھتی ہے۔ کنزرویٹو پارٹی کے دفاتر 387 فٹ بلند مل بینک ٹاور میں ہیں۔ ترکی کے صدر اردگان کی پارٹی کا انقرہ میں ہیڈ کوارٹر کئی منزلہ ہے۔ جہاں 24 گھنٹے کام ہوتا ہے۔ بھارت میں بی جے پی کے نئے ہیڈ آفس کی سات منزلہ بلڈنگ میں 70 کمرے ہیں۔ کانگریس اپنے دفتر 24 اکبر روڈ سے 9 کوٹلہ روڈ چھ منزلہ اندرا گاندھی بھون میں منتقل ہو گئی ہے۔

پارلیمانی نظام میں حکومت کبھی بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس لئے متعلقہ اپوزیشن پارٹیاں متبادل کابینہ مقرر کرتی ہیں۔ ان کے انچارج ہر وزارت کی کارکردگی کی روزانہ مانیٹرنگ کرتے ہیں اور معاملات سے نمٹنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں ابتدا سے ہی ایسی کوئی روایت نہیں رہی ہے۔ ہم نے سیاسی جماعتوں کو حکومت گرانے کاگر تو سیکھا دیا ہے۔ جس میں غیرسیاسی ادارے بھی تعاون کرتے ہیں۔ حکومت بنانے اور کرنے کا تجربہ کسی کو نہیں ہے۔

سب نے پہلے سے ہی ذہن بنا رکھا ہوتا کہ جب حکومت ملی تو سیکرٹریوں کی مدد سے حکومت چلا لیں گے۔ اس لیے پارٹیوں کی ملک گیر تنظیم پر زور دیا جائے تا کہ پارٹی ہیڈ کوارٹر کو ڈیٹا اور فیڈ بیک ملتا رہے۔ پارٹی کی مرکزی قیادت باخبر رہتی ہے۔ ملک کا درد رکھنے والی سیاسی قیادتوں کے آج کل کے ہیڈ کوارٹر تحقیق اور کام کے لئے باقاعدہ تجربہ کار اسٹاف رکھیں۔ جن کا پارٹی رکن ہونا ضروری نہ ہو۔ پھر کوئی وزیر اعظم سر محفل اپنی تیاری نہ ہونے کا رونا رو کر رسوا نہیں ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •