طارق حسین کی یاد میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نہیں معلوم کسی آدمی میں کچھ مثبت خصوصیات کیسے یکجا ہو جاتی ہیں اور نہیں معلوم کوئی کیوں ان مثبت خصوصیات سے محروم رہ جاتا ہے۔

نہیں معلوم کہ کوئی، کوئی بھی کام کرتے ہوئے، کیوں اسے بار نہیں سمجھتا اور نہیں معلوم کوئی کیوں ہر ذمہ داری کو بیگار سمجھ لیتا ہے۔

نہیں معلوم کوئی کیوں خوش دلی سے اپنے فرائض سے عہدہ برا ہونا باعث طمانیت جانتا ہے اور نہیں معلوم کوئی کیوں منہ بسور کر انجام دہی کو اپنا وتیرہ بنا لیتا ہے۔

نہیں معلوم کسی کو کسی بھی مصروفیت کی ادائیگی سے کیا تسکین حاصل ہوتی ہے اور نہیں معلوم کوئی عدم دلچسپی اور فرار سے کس سکون کا متلاشی ہوتا ہے۔

یقیناً یہ ہماری لاعلمی اور کم فہمی ہے کہ ان سوالوں کے حتمی یا سطحی جواب، شاید ہمارے پاس نہیں، مگر ماہرین نفسیات کو ضرور یہ اہلیت میسر ہے کہ وہ ان کے پس منظر سے، ان کے جوابات ڈھونڈ نکالیں، مگر سر دست ہمیں اس بات کا پورا اطمینان اور یقین ہے کہ آج جو شخصیت ہمارا موضوع ہے، کم از کم اس کے بارے میں ہمیں سب معلوم ہے (اور یہ بھی معلوم ہے کہ یہ شخصیت بجا طور پر، اول الذکر خصوصیات کے حامل افراد کی صف میں شامل ہے)

اگر فرض شناسی، دیانت داری، احساس ذمہ داری، خوش دلی سے فرض کی ادائیگی پر آمادگی اور کام سے لگاؤ کو ایک جگہ جمع کر دیا جائے تو اس سے وجود میں آنے والی شخصیات میں سے، ایک شخصیت کا نام طارق حسین ہے۔

وہ طارق حسین جو پی ٹی وی انجنیئر کی حیثیت سے ٹی وی پروڈکشن میں، ایڈیٹر کے روپ میں ہو یا آڈیو ریکارڈنگ کی ذمہ داری پر تعینات، آؤٹ ڈور میں کسی کام میں مصروف ہو یا دوسری سہولیات کی نگرانی پر مامور، اس نے اپنی دلچسپی کی سطح میں ذرا سی بھی کمی نہیں آنے دی۔ دیانتدارانہ اور مخلصانہ مشورے دینا اس کی عادت ثانیہ بن چکی ہے، ہر چند کہ ان مشوروں کے نتیجے میں خود کو زیادہ مشکل کام میں ڈالنے اور زیادہ وقت دینے کا خطرہ نمایاں نظر آ رہا ہوتا ہے مگر وہ ان خطرات سے ڈرنے یا بھاگنے والا نہیں۔ اپنی اسی عادت کی بدولت وہ ڈیوٹی برائے ڈیوٹی انجام دینے والے سینیئرز کی سرزنش کا بارہا نشانہ بن چکا ہے، مگر محض اس وجہ سے وہ بہتر اور بہتری کی وکالت کے اپنے ہدف سے پیچھے ہٹنے پر خود کو راضی نہ کر سکا۔

تخلیقی اور پیشہ ورانہ نزاکتوں پر اس نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور معیار برقرار رکھنے کے لیے ہمیشہ (اپنے معین کردار سے بھی زیادہ) دلچسپی لی اور اپنے موقف کے لئے دلائل دیے۔ یوں اس عمل سے (کسی اور کو نہیں) خود کو ہی مشکل میں ڈالا۔

انگریزی سے اردو میں دستاویزی پروگراموں کی ڈبنگ میں انگریزی زبان کا اختصار اور اردو زبان کا پھیلاؤ، عموماً صوتی اثرات یا کمنٹری میں سے کسی ایک چیز کی قربانی پر مجبور کر دیتا ہے اور معاملہ ایڈیٹر کے سر آ جاتا ہے کہ وہ منظر کے مناسبت سے، کسے کہاں ترجیح دے سکتا ہے۔ اس موقع پر یہ فیصلہ ضروری ہو جاتا ہے کہ یا تو کمنٹری مختصر کی جائے یا صوتی اثرات کو حذف کر دیا جائے۔

صوتی اثرات کو بچانے کے لیے اکثر حالات میں زیادہ باریک بینی اور یکسوئی سے کام لینا پڑتا ہے۔ طارق حسین نے انگریزی دستاویزی پروگراموں کی لاج رکھتے ہوئے ہمیشہ استعمال کیے گئے صوتی اثرات کو بچانے اور اس کی اوریجنل حیثیت کو برقرار رکھنے کی پوری ذمہ داری کے ساتھ ہر ممکن کوشش کی کیوں کہ دستاویزی پروگرام میں صوتی اثرات کی طے شدہ اہمیت سے ایک اچھا تخلیق کار کیسے بے خبر ہو سکتا ہے۔

تکنیکی آگاہی، مہارت اور اسے چھپا رکھنے کا خود غرضانہ طرز عمل طارق حسین کے قریب سے نہیں گزرا۔ وہ اس گروہ سے تھا جو شراکت اور شرکت کے قائل ہوتے ہیں اور اپنی شعوری اور غیر شعوری سطح پر حاصل کی گئی معلومات کو پھیلتا اور دوسروں میں پروان چڑھتا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔

اپنے ہر کام میں اعلیٰ نتائج کے خواہاں، ڈاکٹر پرویز ہود بھائی ایک دفعہ اپنی آڈیو ریکارڈنگ کے لیے تشریف لائے، ایک آدھ گھنٹے کی ریکارڈنگ کے بعد ، وہ ہونے والی اس بے نقص ریکارڈنگ پر (خوش سے زیادہ) حیران تھے۔ وہ طارق حسین کی اس شاندار کارکردگی کی وجہ جاننا چاہتے تھے کہ اس سے قبل کسی اور جگہ کی گئی ریکارڈنگز میں اس قدر آڈیو میں بلاسٹ کیوں تھا اور یہاں ایسا ایک دفعہ بھی کیوں نہ ہوا۔

صاف گو اور بے باک طارق حسین نے انہیں اردو حروف بھ، ٹھ، تھ، پھ وغیرہ سے شروع ہونے والے الفاظ کی ساخت اور اس کی ادائیگی کی نزاکتوں سے آگاہ کیا۔ پھر یہ ہوا کہ مشکل پسند ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے اپنی گزشتہ تمام آڈیو ریکارڈنگز کو دوبارہ سے اسی نہج پر منتقل کرنے کا ارادہ باندھا۔

ماضی سے اور ماضی کی فلموں سے (وہ بھی ماضی بعید کی) اور ان میں بھی، خاص طور پر، صدا کاری اور گلوکاری سے، طارق حسین کو خصوصی رغبت تھی اور شاید اسی لیے اپنے سے زائد عمر کے ہنرمندوں، دانش وروں، محققوں اور معاشرے کے عام ڈگر سے ہٹ کے، ذرا الگ ڈھب کی زندگی گزارنے والوں کو ڈھونڈنے اور ان سے رابطے میں رہنے کی مسلسل جستجو رہی۔ تلاش کا یہ سفر اور اس میں درپیش مشکلات مزاج پر کبھی گراں نہ گزریں بلکہ جس نے بھی ایسی کسی شخصیت سے متعارف کرایا، وہ ہمیشہ کے لئے مہربان اور معتبر ٹھہرا۔

یاسین گوریجہ کی فلمی انسائیکلو پیڈیا پڑھ کر ان سے ملنے کا اشتیاق ہوا اور پھر فلمی اعداد و شمار جاننے کے لیے لاہور میں انھیں ڈھونڈ نکالا۔ علی سفیان آفاقی کی فلمی سرگزشت پڑھ کر ان سے عقیدت ہوئی اور بات مکالمے تک جا پہنچی۔ استاد دامن سے شدید محبت ان کی کھولی تک لے گئی۔ گارڈن کالج سے کبھی وابستگی نہیں رہی مگر (شہزاد خلیل، راحت کاظمی، شجاعت ہاشمی کے استاد) پروفیسر نصراللہ ملک کو ایک ریکارڈنگ میں سنا اور ان سے مزید سننے کی تڑپ ان سے قریب تر کرتی چلی گئی۔ فلمی مصنف خواجہ صادق کہاں سے زندگی کا حصہ بنے، یہ یاد کرنے کی مہلت نہ تھی، مگر رفاقت خوب نبھائی۔

اپنے معاشرے کے حوالے سے ہم سب کو یہ معلوم ہے کہ ہمارے ہاں کام سے لگن اور فرض سے لگاؤ، دوسرے کو لگنے والی بیماری نہیں، وگرنہ ہمارے گرد و نواح میں اس وقت کئی طارق حسین گھوم رہے ہوتے اور ہم آج محض ایک طارق حسین کی مدح سرائی اور تعریف و توصیف پر مجبور نہ ہوتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •