موبائل فون اور ہماری خاندانی اقدار
والدین کی جانب سے سے نگرانی کے مؤثر نظام کے باوجود بچوں کی بے راہ روی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ بچے جونہی بڑے ہوتے ہیں تو والدین کو بہت سے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اس سرکشی کو مغرب کی تقلید کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ ہمیں اپنا خاندانی نظام اتنا مضبوط اور مستحکم کرنا چاہیے کہ ہمارے بچے اور آئندہ نسل ایسی راہ کا انتخاب نہ کریں جو بعد میں سارے خاندان کے لیے باعث ندامت بنے۔ آج مغرب نے ٹی وی، کیبل، انٹرنیٹ اور موبائل فون (منفی استعمال) کے ذریعے ہمارے معاشرے میں اتنی سرایت کر لی ہے کہ بڑے چھوٹے کی تمیز باقی نہیں رہی۔
موبائل فون نے ہمارے معاشرے کی وہ دھجیاں بکھیر دی ہے جو کسی کی وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ والدین کی جانب سے بچوں کو خصوصاً اپنی صاحبزادیوں کو موبائل کی فراہمی خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کی مترادف ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنے بچیوں کی موبائل فون جیسے آلہ سے جان چھڑانا ہو گی۔ موبائل فون نے موجودہ نسل کو کتاب سے دور اور مطالعے کے صلاحیت کو بہت متاثر کیا۔
آج کل یہ ایک رجحان ہے کہ ہزاروں لڑکے روزانہ موبائل پر لڑکیوں سے گپ شپ کے بہانے ان سے حقیقت چھپا کر خود کو اعلیٰ تعلیم یافتہ، امیر اور اچھے عہدوں پر فائز ظاہر کرتے ہیں ، بعض اوقات موبائل فون کی گفتگو چند ایک ملاقاتوں اور پھر بات باقاعدہ شادی تک پہنچ جاتی ہے اور لڑکی دوسری جانب موجود لڑکے کو اپنا آئیڈیل تصور کرتے ہوئے گھر کی دہلیز پار کر لیتی ہے لیکن جب حقیقت اس کے سامنے آجاتی ہے یعنی جس شخص کے لیے وہ اپنے والدین، بہن بھائی، گھر اور خاندان اس امید پر چھوڑ کر آتی ہے کہ وہ اسے گاڑی، بنگلہ اور بہتر مستقبل دے گا، حقیقت میں وہ بے روزگار، کام چور اور فراڈیا نکل آتا ہے۔
ایسی صورت میں لڑکی اپنی اور اپنی خاندان کی عزت داؤ پر لگاتی ہے اور پھر قبائلی اور قدامت پسند معاشروں میں غیرت کے نام پر قتل ہوتے ہیں۔ موبائل فون کے زیادہ اور بے جا استعمال سے روز بروز مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے یا یوں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ ہمارے معاشرے میں موبائل فون فساد کی جڑ ہے۔ والدین اور شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں اور بیویوں کو سوچ سمجھ کر موبائل فون فراہم کریں اور خاص طور پر والدین بچوں کے موبائل پر پیرینٹل کنٹرول لگایا کریں۔
موبائل فون پر خواتین کے ساتھی ہی زیادہ فراڈ اور دھوکے ہوتے ہیں ، لڑکے مختلف طریقوں سے خواتین کو اپنے جال میں پھانستے ہیں، کبھی خواتین کے موبائل پر ایزی لوڈ کے بہانے کبھی رانگ نمبر کے بہانے اور آج کل تو فوڈ ڈیلیوری والے بھی اس میں شامل ہو گئے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ موبائل فون کا مثبت استعمال کریں اور جھوٹے وعدوں اور تعریفوں میں نہ آئیں ۔ چونکہ تعریف عورت کی سب سے بڑی کمزوری ہوتی ہیں ، اس لیے زیادہ تر مرد اسی کا سہارا لیتے ہیں۔ خدارا ان جھوٹے لوگوں کے جالوں میں نہ پھسیں ، اپنی اور اپنے خاندان کی عزت خاک میں نہ ملائیں۔

