ایک خواجہ سرا کے آنسو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

طبقاتی معاشروں میں سب سے زیادہ ظلم کمزور کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ان کمزور گروہوں میں خواتین، بچے اور خواجہ سرا یا ٹرانس جینڈرز سر فہرست ہیں۔ گروہوں میں بھی کچھ بہت زیادہ تکلیف دہ زندگی بھگتتے ہیں جیسے مذہبی اقلیتیں اور خواجہ سرا۔ کسی مجمع یا بھیڑ میں یہ معلوم ہو جائے یا پھر پہناوے سے پتہ لگ جائے کہ یہ عورت ہندو برادری کی کسی نچلی ذات سے ہے تو اسے انتہائی برے سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ان سب میں جو بہت زیادہ تکلیف دہ زندگی گزارتے ہیں وہ خواجہ سرا یا ٹرانس جینڈرز ہیں۔ جو بیک وقت گھر والوں اور باہر والوں کی اذیت برداشت کرتے ہیں۔

کچھ دن قبل ایک ہوٹل میں بچوں کے حقوق کے حوالے ٹریننگ کے دوران ایک ٹرانس جینڈر سے ملاقات ہوئی۔ سترہ سالہ اس ٹرانس جینڈر کی باتیں سن کر شدید دکھ ہوا۔ اس پروگرام میں میری بیٹی اور بیٹا بھی شریک تھے۔ میں نام نہیں بتاؤں گا۔ نام کوئی بھی سکتا ہے۔ شاید وہ نام میرے گھر میں کسی کا ہو یا پھر آپ کسی پیارے کا۔

آئیے اس کے محسوسات اسی کی زبانی سنیے :

”میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہوں۔ بچپن میں لڑکوں کے کپڑے عجیب لگتے تھے۔ لڑکوں سے ملنا جلنا بھی اچھا نہیں لگتا تھا۔ میں لڑکیوں سے ملنا زیادہ پسند کرتی تھی۔ لڑکیوں کی حرکتیں کرنے پر ابو مارتے تھے۔ ابو نے لڑکوں کے اسکول میں داخل کروایا جہاں لڑکوں کے بیچ میں مجھے ان کمفرٹیبل فیل ہوتا تھا۔ رفتہ رفتہ لڑکے مجھے چھیڑنے لگے۔ اسکول کے لڑکوں کو دیکھ کر چپڑاسی اور دیگر عملہ بھی مجھے چھیڑتا رہا۔ میں اسکول جانے سے انکار کرتی تو ابو پٹائی کرتے۔ نسوانی حرکات پر ٹیچرز بھی ڈانٹتے رہتے۔ کہتے کہ“ تم کیسی ہو ۔ نہ پوری لڑکی اور نہ پوری مرد۔ ”ٹیچرز کی باتیں سن کر دل خون کے آنسو روتا۔“

”ایسے ماحول میں تذلیل کے ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھی۔ عمر کے ساتھ نسوانی احساسات بھی بڑھتے گئے اور میں خود کو لڑکی کے طور پر دیکھنے لگی۔ پھر ایک دن ایسا آیا جب مجھے میرے والد نے مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا۔ یہ آج سے دو برس پہلے کی بات ہے تب میں پندرہ سال کی تھی۔ مجھے گھر سے نکالنے کے بارے میں ابو کا خیال تھا کہ میرے گھر میں رہنے سے ان کو لوگوں اور رشتہ داروں کی باتیں سننی پڑیں گیں۔

تب سے اب تک مجھ پر اپنے گھر کے دروازے بند ہیں لیکن امی چاہتی ہیں کہ میں گھر پر آؤں۔ ابو کی غیر موجودگی میں وہ مجھے بلاتی ہیں اور میں ان سے ملنے جاتی ہوں۔ ماں ہیں ناں۔ وہ کیسے پتھر دل ہو سکتی ہیں۔‘‘

کچھ دیر چپ رہنے کے بعد وہ پھر کہنے لگی:
” گھر سے بے گھر ہونے کے بعد میں اپنے ایک دوست کے ساتھ رہتی ہوں۔ جس کے والدین ملک سے باہر ہیں۔“

اپنی آگے کی تعلیم کے بارے میں کچھ یوں کہا:

”میں نے فیشن ڈیزائننگ کے لیے کراچی کے ایک بڑے نجی ادارے میں داخلہ لیا۔ جہاں میں چار پانچ ماہ تک رہی۔ پھر وہاں بھی مجھے تنگ کیا جانے لگا۔ لڑکوں کے ساتھ کچھ لڑکیاں بھی تنگ کرنے لگیں۔ جب یہاں مجھ سے جسم کا تقاضا کیا گیا تو میں نے کورس ہی چھوڑ دیا۔ فیشن ڈیزائننگ میرا پیشن تھا مگر مجھے اسے ہمیشہ کے لیے چھوڑنا پڑا۔ میں میک اپ آرٹسٹ ہوں بس اب اسی پر گزارا کرتی ہوں۔“

”ہمارے لئے حالات ہر طرف ایک جیسے ہیں، یہاں اس بڑے ہوٹل میں بھی یہ ویٹرز مجھے کیسے دیکھ رہے ہیں۔ جیسے میں انسان ہوں ہی نہیں، کوئی کھلونا ہوں یا استعمال کی چیز ہوں۔“

ایک اور ہوٹل میں ٹریننگ کے دوران رونما ہونے والے تلخ واقعے کے بارے میں بتایا:

”اسی طرح کی ایک ٹریننگ میں بیٹھی تھی۔ وہاں موجود ہوٹل کے عملے کے کچھ افراد نے مجھ سے میرا نمبر مانگا تاکہ رابطہ رکھ سکیں یا تعلق رکھ سکیں۔ میں نے اس بارے میں ہوٹل انتظامیہ سے شکایت کی جس پر انہوں نے معذرت کی۔ لیکن ہر جگہ ایسا کہاں ہوتا ہے کہ ایسا برا رویہ رکھنے والے شرمندہ ہوں۔‘‘

اپنی کہانی یا روداد بتاتے ہوئے اس کی آنکھیں نم تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •