میڈیا: عوام کی دیوار گریہ کو مسمار نہ کرو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن میں ایک کہانی پڑھی تھی جس میں دو کتوں کے مابین مکالمہ کا ذکر تھا۔ ان میں سے ایک کتا صحت مند اور ہٹا کٹا تھا جبکہ دوسرا کتا کمزور اور دبلا پتلا تھا۔ جب دونوں میں ملاقات ہوئی تو کمزور کتے کو صحت مند کتے کی قسمت پر بہت رشک آیا۔ ہلکی گپ شپ کے بعد کمزور کتے نے دوسرے ساتھی سے اس کی صحت کا راز پوچھا کہ یار یہ بتاؤ اتنی اچھی صحت تم نے کیسے بنائی؟ صحت مند کتے نے جواب دیا کہ وہ ایک امیر مالک کے پاس ملازمت کرتا ہے جو اسے دودھ، گوشت اور باہر سے درآمد کردہ ”ڈاگ ڈائٹ“ یعنی کتوں کی خوراک کھلاتا ہے۔ اس کے ملازم اسے نہلاتے اور ٹہلاتے ہیں۔ اس کے کمرے میں گرمیوں میں اے سی چلایا جاتا ہے جبکہ سردیوں میں اس کا کمرہ ہیٹر جلا کر گرم کیا جاتا ہے۔

کمزور کتے نے سوچا کہ اس کا یہ ہم جنس کتنا خوش نصیب ہے جبکہ وہ سارا دن مارا مارا پھرتا اور کوڑے میں منہ مار کر پیٹ پوجا پر مجبور ہے۔ اس دوران اگر وہ تھک ہار کر کسی جگہ لیٹ جائے تو بچے اس کو اٹھا دیتے ہیں اور بڑے ڈنڈے برسا کر اسے بھگا دیتے ہیں۔ کتے کی زندگی کتنی مشکل ہے اس نے سوچا۔ اس نے موٹے کتے سے اپنی محرومیوں کا ذکر کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی حالت زار سے اسے آگاہ کر کے درخواست کی کہ وہ اسے بھی کسی امیر آدمی کے ہاں ملازمت کروا دے۔ موٹے کتے نے جواب دیا کہ وہ اپنے مالک سے مشورہ کر کے بتائے گا۔

اگلے روز دونوں کی ملاقات ہوئی تو موٹے کتے نے اسے خوشخبری سنائی کہ اس کے مالک نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اسے ایک دوست کے پاس ملازمت لے دے گا۔ مگر اس کے لئے آج تمہیں ایک انٹرویو دینا پڑے گا۔ کمزور کتا بہت خوش ہوا اور اس کے ہمراہ چل پڑا۔ باتیں کرتے کرتے اچانک اس کی نظر موٹے کتے کی گردن پر پڑی جس میں اس نے ایک پٹہ پہن رکھا تھا۔ اس نے تجسس کے تحت اس سے پوچھا کہ تمہاری گردن میں یہ کیا چیز ہے؟ اس نے بتایا کہ اسے رات کو باندھ دیا جاتا ہے اور یہ پٹہ ہے جس میں زنجیر پرو دی جاتی ہے۔ کمزور کتے نے یہ سن کر اسے روکا اور کہا نہ بھائی نہ، مجھے یہ غلامی کی زندگی منظور نہیں۔ اب تو میں اپنی مرضی سے گھومتا ہوں۔ مرضی سے سوتا اور جاگتا ہوں۔ جب دل چاہے بھونکتا ہوں۔ تمہیں تکلیف دی اس کی معذرت۔ میں اپنی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔

پاکستان میں آزادی کے فوراً بعد تحریر و تقریر پر پابندیوں کا آغاز ہو گیا تھا اور بہت سے ایسے شاعر، ادیب اور سیاسی کارکن جو پاکستان آ گئے تھے پابندیوں سے گھبرا کر واپس ہندوستان چلے گئے۔ ان میں قرۃ العین حیدر بھی شامل ہیں جن کا مشہور قول ضرب المثل بن گیا کہ ’’جہاں بھونکنے کی آزادی نہیں وہاں ہم نہیں رہ سکتے۔‘‘ تحریر و تقریر پر پابندیاں یوں تو ہر دور میں لگتی رہیں مگر بھٹو دور اس ضمن میں بدترین سمجھا جاتا ہے۔ بھٹو بے شک 1973ء کے آئین کے خالق تھے مگر اس کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ بھی اس دور میں قائم ہوا۔

آئین کی منظوری کے چند ہفتے بعد ہی اس میں ترامیم کا آغاز ہو گیا۔ ملک میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی جو بھٹو دور کے اختتام تک نہ اٹھائی گئی۔ بھٹو دور کو ہی یہ اعزاز نصیب ہوا کہ بھٹو نے مشکل وقت میں ساتھ نبھانے والے اپنے ہی لیڈروں اور کارکنوں کو عقوبت خانوں اور دلائی کیمپوں میں مقید رکھا۔ اخبارات و جرائد کی اشاعت پر پابندیاں عائد کرا دیں۔ ایڈیٹروں اور صحافیوں کو گرفتار کیا گیا۔ اردو ڈائجسٹ کے ایڈیٹر الطاف حسن قریشی بھی ان میں شامل تھے۔

بھٹو نے اردو ڈائجسٹ اور اس کے زیر اہتمام چھپنے والے ہفتہ وار ”زندگی“ کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی حتیٰ کہ عدم اشاعت کی وجہ سے ڈکلریشن منسوخ ہونے کی قانونی مدت پوری ہو گئی جس پر ڈکلریشن منسوخ کر دیا گیا۔ الطاف حسن قریشی نے اس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا، یہ موقف اختیار کیا کہ جب پریس اور دفتر پر پولیس کا پہرہ ہو تو وہ کس طرح رسالہ شائع کرتے مگر عدالت نے ان کا موقف مسترد کر دیا اور درخواست خارج کر دی۔ اس پر الطاف حسن قریشی سراپا احتجاج بن گئے اور چیف جسٹس سردار محمد اقبال کے سامنے کھڑے ہو کر اس نا انصافی کی مذمت کر دی اور کہا کہ وہ توہین عدالت کرتے ہیں جو سزا عدالت نے دینی ہے دے دے۔ اس پر الطاف حسن قریشی کو توہین عدالت پر 6 ماہ کی سزا سنا دی گئی۔

عمران حکومت کا سٹائل بھی آمرانہ ہے اور میڈیا اس کا بھی ہدف ہے۔ اس کی پالیسیوں کے باعث ہزاروں صحافی بے روزگار ہوچکے ہیں مگر عمران کا تکبر کم ہونے میں نہیں آ رہا اور تکبر کا سر ہمیشہ نیچا ہوتا ہے۔ اگر عوام کے مسائل کے حل کے لئے میڈیا آواز نہیں اٹھائے گا تو اقتدار کے نشے میں مدہوش حکمرانوں کو کیسے پتہ چلے گا کہ عوام کس حالت میں زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں؟ عوام کس سے فریاد کریں؟ میڈیا عوام کو دل کا غبار نکالنے کے لئے پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جو حکمرانوں کی طبع نازک پر بہت گراں گزر رہا ہے۔ عوام کے لیے میڈیا ”دیوار گریہ“ کی حیثیت رکھتا ہے جس سے وہ ٹیک لگا کر رو پیٹ لیتے ہیں مگر حکمران یہ ”دیوار“ مسمار کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یاد رکھیں اگر یہ دیوار بھی نہ رہی تو پھر ”پریشر ککر“ ہی پھٹے گا جس کی لپیٹ میں سب آ جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •