پی ڈی ایم کا الیکشن کمیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ: ’جو رسیدیں مانگتے تھے اب منھ چھپا رہے ہیں‘


پی ڈی ایم
پی ڈی ایم کا ٹرک شارعِ دستور پر وزیرِ اعظم سیکریٹریٹ کے باہر کھڑا ہے
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان دوسروں سے رسیدیں مانگتے تھے مگر اب اُن سے رسیدیں مانگی جا رہی ہیں تو وہ 'منھ چھپا رہے ہیں۔'

احسن اقبال نے مزید کہا کہ عمران خان کہتے تھے کہ چھ لوگ کہیں گے کہ اقتدار چھوڑ دو تو وہ چھوڑ دیں گے، آج پورے پاکستان میں عمران خان کے خلاف نعرے لگ رہے ہیں لیکن وہ عہدے پر موجود ہیں۔

انھوں نے یہ باتیں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی احتجاجی تحریک کے تحت الیکشن کمیشن کے سامنے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

اپوزیشن رہنما مولانا فضل الرحمان اور مریم نواز سمیت دیگر سیاسی رہنما اس وقت الیکشن کمیشن کے سامنے موجود ہیں جبکہ کارکنوں کی ایک بڑی تعداد بھی وہاں موجود ہے۔

حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کے زیرِ اُلتوا کیس کا فیصلہ جلد سنایا جائے۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنما اس جلسے سے خطاب کر رہے ہیں۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ‘ورغلا’ کر نئے پاکستان کے نام پر پیسے لیے مگر اس پیسے سے خفیہ اکاؤنٹس بنائے، کاروبار کیے، ملک میں انتشار پھیلایا اور الیکشن میں دھاندلی کی۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ ملک میں بیروزگاری اور غربت سے ملک کا سماجی ڈھانچہ تباہ ہو رہا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عمران خان کو گھر بھیجا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

پی ٹی آئی نے جان بوجھ کر حقائق چھپائے: الیکشن کمیشن

’غیر ملکی فنڈنگ پر ہر سیاسی جماعت کو حساب دینا ہوگا‘

فارن فنڈنگ: الزامات ثابت ہونے پر تحریک انصاف اور پاکستانی سیاست پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

فارن فنڈنگ کیس: الیکشن کمیشن کیوں اور کس کے کہنے پر گھبرا رہا ہے، نواز شریف کا سوال

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا دفتر شارعِ دستور پر واقع ہے جہاں وزیرِ اعظم سیکریٹریٹ، ایوانِ صدر، پارلیمنٹ ہاؤس، اور سپریم کورٹ سمیت کئی اہم عمارتیں واقع ہیں۔

پی ڈی ایم نے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اسلام آباد میں احتجاج کی کال دی تھی۔

اس سے کچھ دیر قبل مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ڈی ایم نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کا مقدمہ عوام کے سامنے رکھ دیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کریں گے کہ حکمران جماعت نے اثاثے چھپائے ہیں اور اس کے خلاف فارن فنڈنگ مقدمے میں چھ سال میں ڈیڑھ سو کے قریب پیشیاں ہو چکی ہیں، مگر حکومت اسے مسلسل درخواستیں دے کر تاخیر کی شکار کر رہی ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے خفیہ دستاویزات اور اپنے بینک اکاؤنٹس کو ظاہر نہیں کیا ہے۔

جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نیّر بخاری اور راجہ پرویز اشرف، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما محمود خان اچکزئی اور دیگر سیاسی قائدین احتجاجی کارکنوں کی قیادت کر رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آج کے احتجاج میں شریک نہیں ہیں کیونکہ وہ ایک پارٹی اجتماع کے سلسلے میں سندھ کے ضلع عمر کوٹ میں موجود ہیں۔

اس سے قبل سیاسی جماعتوں کی ریلیاں مختلف شہروں بالخصوص راولپنڈی سے ہوتے ہوئے کشمیر چوک پر جمع ہوئیں جو مری روڈ اور کلب روڈ کے سنگم پر ہے اور یہاں سے ریڈ زون کچھ ہی منٹ کے فاصلے پر ہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت کی جانب سے اس احتجاج کو نہ روکنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم حکومت کی جانب سے یہ بار بار کہا گیا ہے کہ کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں حکومت کی جانب سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

پی ڈی ایم

وزیرِ اعظم سیکریٹریٹ کے باہر پولیس تعینات ہے

فارن فنڈنگ کیس کیا ہے؟

یہ احتجاج الیکشن کمیشن کی جانب سے چھ سال سے زائد عرصے سے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے خلاف مبینہ طور ممنوعہ ذرائع سے غیر ملکی فنڈنگ حاصل کرنے کے کیس کو زیر التوا رکھنے کے خلاف کیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف یہ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ ان کی جاعت نے ممنوعہ ذرائع سے فنڈز حاصل نہیں کیے بلکہ تمام حاصل ہونے والے فنڈز کے دستاویزات موجود ہیں۔

واضح رہے کہ عمران خان نے بھی سنہ 2013 کے انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کی قیادت کی تھی۔

اسی احتجاج کے دوران عمران خان نے اس وقت کے الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس پر اُنھیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا اور بعد ازاں عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر سے معذرت کی تھی۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp