پی آئی اے کا جہاز ملائشیا نے کیوں پکڑا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ جنرل اسمبلی میں ایک ولولہ انگیز خطاب کے نتیجے میں ہمارے محترم وزیراعظم کا مسلم امہ میں قد اس قدر بلند ہو گیا تھا کہ غیر عرب مسلم ممالک نے جو او آئی سی سے مایوس ہو چکے تھے، کپتان کی قیادت میں ایک نیا اسلامی بلاک بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس معاملے میں ملائشیا اور ترکی یہ نیا اسلامی بلاک اور ٹی وی چینل بنانے میں کپتان کے معاون بننے پر آمادہ تھے۔ اس سلسلے میں کپتان ادھر ملائشیا کے دارالحکومت جانے پر تیار تھا کہ گزشتہ حکومت کے بعض دوستوں کے دباؤ کی وجہ سے کچھ دوسرے معاملات میں الجھ کر نہ جا سکا۔ باقی ممالک نے مہاتیر محمد اور رجب طیب ایردوان کی سربراہی میں یہ اجلاس کر لیا لیکن اس میں کپتان کا ذکر ہی چھایا رہا کہ ہمارا محبوب لیڈر تو آیا ہی نہیں۔

ملائشیا کے وزیراعظم کا دل تو ایسا ٹوٹا کہ جلد ہی انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور اک گوشے میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرنے لگے۔ اب ایسا ہوا کہ گزشتہ دنوں مہاتیر ادھر ائرپورٹ پر گئے ہوئے تھے کہ پی آئی اے کا جہاز دیکھ کر آبدیدہ ہو گئے کہ یہ جہاز آ گیا لیکن میرا بھائی نہیں آیا۔ پھر دل کو تسلی دینے کو کہنے لگے کہ چلو بھائی نہ سہی، یہ جہاز ہی سہی، ایک ہی بات ہے، یہی رکھ لیتے ہیں کہ اسے دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔ موجودہ وزیراعظم محی الدین یاسین نے ان کی تمنا پوری کر دی۔

تاریخ میں اس امر کی پہلے بھی روایت موجود رہی ہے۔ جب یہاں ہندوستان میں رام لیلا کھیلی جا رہی تھی تو رام چندر جی نے بن باس لینے کا فیصلہ کیا۔ ان کے سوتیلے بھائی راجکمار بھرت سے یہ برداشت نہ ہوا، وہیں رام جی کے جوتے دھروا لیے کہ بھائی میں انہیں تخت پر رکھ کر ان سے راج کرواؤں گا۔

ادھر انڈونیشیا اور ملائشیا میں ہندو بہت ہیں۔ ظاہر ہے کہ مہاتیر محمد کو بھی رام لیلا کی اس کہانی کا علم ہو گا۔ انہوں نے یہی سوچ کر عمران جی کا جہاز رکھوا لیا۔ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ پیسے نہ دینے کی وجہ سے یہ سوچ کر جہاز پکڑا ہے کہ بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی، ہماری رائے میں تو وہ غلط ہیں۔

بہرحال ملائشیا میں بننے والے اس نئے اسلامی بلاک کے دوسرے اہم لیڈر برادر حکمران سید رجب طیب ایردوان تھے جن سے کپتان نے ملنے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ بھی راہ تکتے رہ گئے۔ غضب یہ ہوا کہ ان کے داماد اور ماضی قریب تک میں ترکی کے وزیر خزانہ بیرات البیراک کی خاندانی کمپنی لاہور میں کچرا اٹھاتی تھی، پچھلے دنوں اس کے دفتر پر پنجاب حکومت نے چھاپہ مار کر بہت سا کچرا وغیرہ اٹھا لیا۔

اب ہم تو پاکستانی حکومت کے امرا، وزرا، جہازوں اور دیگر اہم ہستیوں کو یہی صلاح دیں گے کہ ترکی جانے کے معاملے میں احتیاط برتیں۔ ایسا نہ ہو کہ رجب طیب ایردوان بھی مہاتیر محمد کے نقش قدم پر چل پڑیں اور انہیں کپتان کی نشانی کے طور پر اپنے پاس رکھ لیں۔ ویسے بھی ترک بدلہ لینے اور مہربانی کا جواب مہربانی سے دینے کی روایت رکھتے ہیں۔ مبادا یہ نہ کہیں کہ تم نے ہمارا کچرا اٹھایا، ہم نے تمہارا اٹھا لیا، حساب برابر ہوا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1360 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar